سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ:
باب:
حدیث نمبر: 1540
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بَقِيَّةَ، عَنْ شُعَيْبٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ وَصَافَفْنَاهُمْ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مِنَّا مَعَهُ وَأَقْبَلَ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي لَمْ تُصَلِّ فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَرَكَعَ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا، تو ہم دشمن کے مقابل میں کھڑے ہوئے اور ہم نے صف بندی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے، تو ہم میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں ڈٹا رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ والوں نے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر یہ لوگ جا کر ان لوگوں کی جگہ پر ڈٹ گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور اس گروہ والے (آپ کے پیچھے) آئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی، تو آپ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو مسلمانوں میں سے ہر آدمی کھڑا ہو گیا، اور اس نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1540]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جنگ کے لیے گیا، وہاں ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو ہم نے ان کے مقابلے میں صفیں باندھ لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو ہم میں سے ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑے ہونے والے گروہ کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ ان لوگوں (دوسرے گروہ) کی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے جنہوں نے نماز نہ پڑھی تھی اور وہ گروہ آ گیا جنہوں نے نماز نہ پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کیے (یعنی ان کے ساتھ بھی ایک رکعت ادا کی۔)، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا، پھر مسلمانوں میں سے ہر آدمی اٹھا اور اپنے طور پر ایک رکوع اور دو سجدے کر لیے۔ (یعنی ایک ایک رکعت پڑھ لی۔) [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ صلاة الخوف 1 (942)، المغازي 32 (4132)، (تحفة الأشراف: 6842)، مسند احمد 2/150، سنن الدارمی/الصلاة 185 (1562) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1541
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَّ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَرَكَعَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور ہم میں سے ایک گروہ نے آپ کے پیچھے صف بنائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر یہ لوگ پلٹے اور دشمن کے مقابلہ میں آ گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے (اس کے ساتھ بھی) اسی طرح کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کھڑا ہوا، اور اس نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1541]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہا۔ ہم میں سے ایک گروہ نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گروہ کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے (یعنی ایک رکعت پڑھائی)، پھر وہ چلے گئے اور دشمن کے مقابل صف آرا ہو گئے اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز شروع کر دی۔ آپ نے اسی طرح کیا (یعنی ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی)۔ پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر دونوں گروہوں میں سے ہر شخص اٹھا اور اس نے اپنے طور پر ایک رکوع اور دو سجدے کر لیے (یعنی ایک ایک رکعت پڑھ لی)۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7448) (صحیح) (اس سند میں زہری اور ابن عمر کے درمیان انقطاع ہے، مگر پچھلی سند متصل ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1542
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، وَأَبِي أَيُّوب , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ قَامَ فَكَبَّرَ فَصَلَّى خَلْفَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفُوا وَلَمْ يُسَلِّمُوا وَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ فَصَفُّوا مَكَانَهُمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَمَّ رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ فَصَلَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ" قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ السُّنِّيِّ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثَيْنِ وَلَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو آپ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، تو آپ کے پیچھے ہم میں سے ایک گروہ نے نماز پڑھی، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر وہ لوگ پلٹے حالانکہ انہوں نے ابھی سلام نہیں پھیرا تھا، اور دشمن کے بالمقابل آ گئے، اور ان کی جگہ صف بستہ ہو گئے، اور دوسرا گروہ آیا، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اس حال میں کہ آپ نے دو رکوع اور چار سجدے مکمل کر لیے تھے، پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے، اور ان میں سے ہر شخص نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ ابوبکر بن السنی کہتے ہیں: زہری نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے دو حدیثیں سنی ہیں، لیکن یہ حدیث انہوں نے ان سے نہیں سنی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1542]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا تو ہم میں سے ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ سلام پھیرے بغیر چلے گئے اور دوسروں کی جگہ دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، پھر دوسرے گروہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکوع اور چار سجدے (یعنی دو رکعتیں) مکمل فرما چکے تھے، پھر دونوں گروہ اٹھے اور ان میں سے ہر شخص نے اپنے اپنے طور پر ایک رکوع اور دو سجدے کر لیے۔ (امام نسائی رحمہ اللہ کے شاگرد) ابوبکر بن سنی بیان کرتے ہیں کہ امام زہری نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے صرف دو حدیثیں سنی ہیں لیکن یہ روایت ان میں شامل نہیں (گویا اس روایت کی سند میں انقطاع ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (سند میں حسب سابق انقطاع ہے، نیز اس کے راوی ابو ایوب شامی‘ مجہول ہیں، لیکن رقم: 1540 کی سند متصل اور صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: زہری کی ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے یا نہیں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے صحیح یہ ہے کہ ملاقات نہیں ہے، زہری ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بیٹے سالم کے واسطہ ہی سے ان سے روایت کرتے ہیں، معمر کی جن دو روایتوں کے متعلق آیا ہے کہ اسے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، یہ صحیح نہیں، کیونکہ معمر کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اسے زہری سے روایت کیا ہے، اس میں زہری اور ابن عمر کے درمیان سالم کا واسطہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1543
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً , ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض غزوات میں خوف کی نماز پڑھی، تو ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں رہا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہیں آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسرے لوگ آ گئے تو آپ نے انہیں (بھی) ایک رکعت پڑھائی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1543]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جنگ کے دنوں میں نمازِ خوف پڑھائی تو ایک گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر وہ چلے گئے اور دوسرے آ گئے، آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھا دی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 2 (943)، تفسیر البقرة 4 (4535)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (839)، (تحفة الأشراف: 8456)، مسند احمد 1/132، 155 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1544
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , وَذَكَرَ آخَرَ, قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ , قَالَ: مَتَى؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَابِلُونَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً وَرَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ , ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ".
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ تو ابوہریرہ نے کہا: ہاں پڑھی ہے، انہوں نے پوچھا: کب؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نجد کے غزوہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا، اور ان کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، تو جو آپ کے ساتھ تھے اور جو دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے سبھوں نے اللہ اکبر کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا، اور اس گروہ نے بھی جو آپ کے ساتھ تھا رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اس گروہ نے بھی سجدہ کیا جو آپ کے ساتھ تھا، اور دوسرے لوگ دشمن کے مقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور وہ گروہ جو آپ کے ساتھ تھا، پھر یہ لوگ جا کر دشمن کے بالمقابل کھڑے ہو گئے، پھر وہ گروہ جو دشمن کے بالمقابل تھا آیا، چنانچہ ان لوگوں نے (بھی) رکوع کیا، اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے جیسے تھے، پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا رکوع کیا، تو ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، آپ نے سجدہ کیا، اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر وہ گروہ آیا جو دشمن کے مقابل میں کھڑا تھا، تو اس نے بھی رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر سلام پھیرنے (کا وقت آیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور تمام لوگوں نے سلام پھیرا، تو اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت ہوئی، اور دونوں گروہوں کے ہر ہر فرد کی (بھی) دو دو رکعت ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1544]
حضرت مروان بن حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”کب؟“ انہوں نے فرمایا: ”غزوۂ نجد کے سال۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے لیے اٹھے اور ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابل تھا اور ان کی پشت قبلے کی طرف تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا (یعنی نماز شروع کرلی) آپ کے ساتھ والوں نے بھی اور انہوں نے بھی جو دشمن کے مقابل تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا تو آپ کے ساتھ والے گروہ نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ فرمایا تو آپ کے ساتھ والے گروہ نے بھی سجدہ کیا جبکہ دوسرے گروہ والے دشمن کے مقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ والے بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ دشمن کی طرف جا کر ان کے مقابل کھڑے ہو گئے اور جو پہلے دشمن کے مقابل تھے انہوں نے آپ کے پیچھے آ کر اپنا رکوع اور سجود کیا (یعنی ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔) اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کھڑے رہے (جس طرح آپ کھڑے تھے۔)، پھر وہ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کا رکوع فرمایا انہوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ فرمایا تو انہوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدے کیے، پھر وہ گروہ بھی آگیا جو دشمن کے مقابل تھا۔ انہوں نے (اپنے طور پر) رکوع اور سجود کیے۔ (یعنی اپنی بقیہ رکعت پڑھ لی۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والے اس دوران میں بیٹھے رہے۔ پھر سلام کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور سب (دونوں گروہوں) نے سلام پھیر دیا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو گئیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کی بھی دو رکعتیں ہو گئیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 284 (1240)، (تحفة الأشراف: 14606)، مسند احمد 2/320 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1545
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلًا بَيْنَ ضَجْنَانَ وَ عُسْفَانَ مُحَاصِرَ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْكَارِهِمْ أَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ ثُمَّ مِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ نِصْفَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِطَائِفَةٍ مِنْهُمْ وَطَائِفَةٌ مُقْبِلُونَ عَلَى عَدُوِّهِمْ قَدْ أَخَذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ يَتَأَخَّرَ هَؤُلَاءِ وَيَتَقَدَّمَ أُولَئِكَ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً تَكُونُ لَهُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً رَكْعَةً , وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضجنان اور عسفان کے درمیان اترے آپ مشرکین کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، مشرکین نے (آپس میں) کہا: ان لوگوں کی ایک ایسی نماز ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، تو ایسا کرو تم سب تیار رہو (جب یہ نماز پڑھنے لگیں) تو یکبارگی ان پر پل پڑو، تو جبرائیل علیہ السلام (آپ کے پاس) آئے، اور انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کو دو حصوں میں بانٹ دیں، ان میں سے ایک گروہ کو آپ نماز پڑھائیں، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل اپنے بچاؤ کی چیز اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے، آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، پھر یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں، اور وہ لوگ آگے آ جائیں جو دشمن کے مقابل ہوں، تو پھر آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، تو لوگوں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو گی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1545]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ ضجنان اور عسفان کے درمیان قیام فرما تھے اور مشرکین کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ مشرکوں نے کہا (پروگرام بنایا) کہ ان مسلمانوں کی ایک نماز ایسی ہے (نمازِ عصر) جو انہیں اپنے نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں سے بھی زیادہ پیاری ہے، تو تم بات طے کر لو (پختہ پروگرام بنا لو) اور (اس نماز کے دوران میں) ان پر یکبارگی حملہ کر دو۔ ادھر سے جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کے دو گروہ بنا دیں۔ آپ ان میں سے ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اور دوسرا گروہ دشمن کی طرف متوجہ رہے۔ وہ محتاط رہیں اور اپنا اسلحہ پہنے رہیں۔ آپ پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھا دیں، پھر وہ پیچھے ہٹ جائیں (اور دشمن کے مقابل چلے جائیں) اور دوسرے آ جائیں، پھر ایک رکعت آپ ان کو پڑھا دیں تو اس طرح ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر النساء (3035)، (تحفة الأشراف: 13566)، مسند احمد 2/522 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1546
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ صَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ، وَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے آگے کھڑی ہوئی، اور ایک صف آپ کے پیچھے، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر یہ لوگ آگے چلے گئے یہاں تک کہ جا کر اپنے ساتھیوں کی جگہ میں کھڑے ہو گئے، اور وہ لوگ آ کر ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ (بھی) ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی ایک ایک۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1546]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔ ایک صف آپ کے آگے (دشمن کے مقابل) کھڑی ہو گئی اور دوسری آپ کے پیچھے۔ آپ نے اپنے پیچھے کھڑے ہونے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ آگے چلے گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ کھڑے ہو گئے اور وہ آ گئے اور (آپ کے پیچھے) ان کی جگہ کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو گئیں اور ان کی ایک ایک۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3142)، مسند احمد 3/298 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1547
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، قال: أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ:" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وَجْهِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم (ایک غزوہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (نماز کا وقت ہوا) تو نماز کھڑی کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہوا، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ چلے گئے، اور ان لوگوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے بالمقابل تھے، اور وہ گروہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کے پیچھے والوں نے بھی سلام پھیرا، اور ان لوگوں نے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1547]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک جنگ میں) تھے۔ نماز کی اقامت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کا ایک گروہ بھی آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا۔ آپ نے اپنے پیچھے کھڑے ہونے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے جو دشمن کے مقابلے میں تھے اور وہ دوسرا گروہ آ گیا۔ آپ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، آپ کے پیچھے والے لوگوں نے بھی اور دوسروں نے بھی سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1548
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ" فَقُمْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا وَرَفَعَ وَرَفَعْنَا، فَلَمَّا انْحَدَرَ لِلسُّجُودِ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ يَلُونَهُ وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي حِينَ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، ثُمَّ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي حِينَ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْكِنَتِهِمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِينَ كَانُوا يَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْآخَرُ فَقَامُوا فِي مَقَامِهِمْ وَقَامَ هَؤُلَاءِ فِي مَقَامِ الْآخَرِينَ قِيَامًا , وَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعْنَا ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا فَلَمَّا انْحَدَرَ لِلسُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ يَلُونَهُ سَجَدَ الْآخَرُونَ ثُمَّ سَلَّمَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز میں موجود تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، اور ہم نے دو صفیں کیں، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی، اور ہم نے بھی کہی، آپ نے رکوع کیا ہم نے بھی رکوع کیا، آپ (رکوع سے) اٹھے اور ہم بھی اٹھے، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ کے قریب (یعنی پہلی صف میں) تھے سجدہ کیا، اور دوسری صف اس وقت تک کھڑی رہی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سر اٹھایا، پھر دوسری صف نے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، اپنی جگہوں پر سجدہ کیا، پھر جو صف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تھی پیچھے ہٹ گئی، اور پیچھے والی صف آگے آ گئی، اور آ کر ان کی جگہوں میں کھڑی ہو گئی، اور یہ لوگ پچھلے والوں کی جگہوں میں جا کر کھڑے ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور ہم نے بھی اٹھایا، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھے، اور دوسرے کھڑے رہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ سے قریب تھے (سجدے سے سر) اٹھایا تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1548]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر ہوئے، ہم آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو گئے، دشمن ہمارے اور قبلے کے درمیان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، ہم سب نے بھی «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر آپ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا تو ہم نے بھی (رکوع سے) سر اٹھایا، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے ساتھ قریبی (پہلی) صف میں تھے جبکہ دوسری صف والے کھڑے رہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سجدے سے) سر اٹھایا اور اس صف والوں نے جو آپ کے قریب تھی تو دوسری صف نے اپنی جگہ ہی اپنے سجدے ادا کیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والی صف والے پیچھے ہٹ گئے اور دوسری صف والے آگے ہو کر پہلی صف والوں کی جگہ کھڑے ہو گئے اور وہ ان کی جگہ کھڑے ہو گئے، پھر (دوسری رکعت میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے (رکوع سے) سر اٹھایا تو سب نے بھی (رکوع سے) سر اٹھایا، جب آپ سجدے کے لیے زمین کی طرف جھکے تو آپ کے ساتھ والی صف نے سجدے کیے اور دوسری صف والے کھڑے رہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والوں نے اپنے طور پر سجدے کر لیے، پھر آپ نے (سب کے ساتھ بیک وقت) سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، (تحفة الأشراف: 2441)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 281 (1236) تعلیقاً، مسند احمد 3/219 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1549
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ مَكَانَهُمُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ , ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَرَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ , فَلَمَّا سَجَدُوا وَجَلَسُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ مَكَانَهُمْ ثُمَّ سَلَّمَ" , قَالَ جَابِرٌ: كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكُمْ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ کھجور کے باغات میں تھے، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، تو سبھوں نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ کھڑے ہو گئے تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں پر جہاں وہ تھے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آگے آ گئے ۱؎ پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے (رکوع سے سر) اٹھایا تو سبھوں نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی پہریداری کرتے رہے، پھر جب وہ لوگ سجدہ کر چکے اور (سجدہ کے بعد) بیٹھ گئے، تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں میں سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس طرح تمہارے امراء کرتے ہیں، (یعنی سلام پھیرتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1549]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مقامِ نخل (مدینے سے دو رات کے فاصلے پر) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جبکہ دشمن ہمارے اور قبلے کے درمیان تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی تو سب مسلمانوں نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع فرمایا تو ان سب نے بھی رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف والے کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ سجدوں کے بعد اٹھے تو پچھلی صف والوں نے اپنی جگہ ہی میں سجدے (مکمل) کر لیے، پھر یہ ان کی جگہ چلے گئے (اور وہ آگئے)۔ پھر آپ نے (دوسری رکعت کا) رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر آپ نے سر اٹھایا تو ان سب نے بھی اپنے سر اٹھائے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا اور دوسرے کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے۔ جب وہ سجدوں سے فارغ ہو کر بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے اپنی جگہ ہی میں سجدے کر لیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے امراء (کے پہرے دار) کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2759) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گئے، اور جو لوگ آپ سے قریب تھے ان کی جگہ پر چلے گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم