🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ: صَلاَةِ الْقَاعِدِ فِي النَّافِلَةِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ فِي ذَلِكَ
باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ کی وفات سے ایک سال قبل ایسا ہوا کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، مگر آپ سورت کو اتنا ٹھہر ٹھہر کر سکون سے پڑھتے تھے کہ وہ اپنے سے لمبی سورت سے بھی لمبی بن جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (733)، سنن الترمذی/الصلاة 159 (373)، (تحفة الأشراف: 15812)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (21)، مسند احمد 6/285، سنن الدارمی/الصلاة 109 (1425، 1426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: فَضْلِ صَلاَةِ الْقَائِمِ عَلَى صَلاَةِ الْقَاعِدِ
باب: کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1660
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا , فَقُلْتُ: حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ:" إِنَّ صَلَاةَ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ" , وَأَنْتَ تُصَلِّي قَاعِدًا , قَالَ:" أَجَلْ، وَلَكِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے آدھی ہوتی ہے، اور آپ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں لیکن میں تم لوگوں کی طرح نہیں ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1660]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے کہا: مجھ سے یہ تو بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے سے نصف ثواب ملتا ہے۔ اب آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بات صحیح ہے، مگر میں تم جیسا نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (735)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (950)، (تحفة الأشراف: 8937)، مسند احمد 2/162، 192، 201، 203، سنن الدارمی/الصلاة 108 (1424) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: میرا معاملہ تم لوگوں سے جداگانہ ہے، میں خواہ بیٹھ کر پڑھوں یا کھڑے ہو کر میری نماز میں کوئی کمی نہیں رہتی، بیٹھ کر پڑھنے میں بھی مجھے پورا ثواب ملتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: فَضْلِ صَلاَةِ الْقَاعِدِ عَلَى صَلاَةِ النَّائِمِ
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز کی لیٹ کر پڑھنے والے کی نماز پر فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الَّذِي يُصَلِّي قَاعِدًا , قَالَ:" مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ , وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: جس نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی وہ سب سے افضل ہے، اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کا آدھا ثواب ملے گا، اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے آدھا ملے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1661]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر (نفل) نماز پڑھنے والے کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھڑا ہو کر نفل نماز پڑھے تو وہ افضل (زیادہ ثواب والا) ہے اور جو بیٹھ کر پڑھے، اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے سے نصف ثواب ملے گا اور جو لیٹ کر پڑھے، اسے بیٹھ کر پڑھنے والے سے بھی نصف ثواب ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 17 (1115)، 18 (1116)، 19 (1117)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (951)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (371)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 141 (1231)، (تحفة الأشراف: 10831)، مسند احمد 4/426، 433، 435، 42 4، 443 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے تندرست آدمی نہیں بلکہ مریض مراد ہے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے آدھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: كَيْفَ صَلاَةُ الْقَاعِدِ
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1662
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَرَبِّعًا" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَا أَحْسِبُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا خَطَأً وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالتی مار کر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ابوداؤد حفری کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابوداؤد ثقہ ہیں اس کے باوجود میں اس حدیث کو غلط ہی سمجھتا ہوں، واللہ اعلم ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1662]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، فرماتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چارزانو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو ابوداؤد (حفری) (مشہور محدث نہیں) کے علاوہ کسی اور نے بیان کیا ہے۔ وہ اگرچہ ثقہ راوی ہے مگر میں سمجھتا ہوں، یہ حدیث خطا ہے۔ «وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ» اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16206)، انظر صحیح ابن خزیمة 978 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: علم حدیث کے قواعد کے مطابق اس کے صحیح ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں، امام ابن خزیمہ نے بھی اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حفص بن غياث مدلس وعنعن،وشيخه هو حميد بن قيس. وحديث البخاري (827) يخالفه ولو صح لكان محمولاً على العذر. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: كَيْفَ الْقِرَاءَةُ بِاللَّيْلِ
باب: رات میں قرأت کیسی ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ" كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ , قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ".
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری؟ تو انہوں نے کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1663]
حضرت عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رات کی نفل نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ بلند آواز سے یا آہستہ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ دونوں طرح قراءت فرمایا کرتے تھے، کبھی بلند آواز سے کبھی آہستہ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16286) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 343 (1436)، سنن الترمذی/الصلاة 123 (449)، مسند احمد 6/149 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: فَضْلِ السِّرِّ عَلَى الْجَهْرِ
باب: سری قرأت کی جہری قرأت پر فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1664
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الَّذِي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يَجْهَرُ بِالصَّدَقَةِ , وَالَّذِي يُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالَّذِي يُسِرُّ بِالصَّدَقَةِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے، اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر چپکے سے صدقہ کرتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1664]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلانیہ صدقہ کرتا ہے اور جو شخص آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر صدقہ کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 315 (1333)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 20 (2919)، (تحفة الأشراف: 9949)، مسند احمد 4/151، 158، 201، ویأتی عند المؤلف برقم: 2562 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ صرف نفلی نماز ہے، ورنہ مغرب، عشاء، فجر اور جمعہ کی نماز میں جہر کرنا واجب ہے، جس طرح فرض و نفل صدقہ کا معاملہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: تَسْوِيَةِ الْقِيَامِ وَالرُّكُوعِ وَالْقِيَامِ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد میں قیام، رکوع، رکوع کے بعد قیام، سجدہ، اور دونوں سجدوں کے درمیان کی بیٹھک سب کے برابر ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1665
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ , فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ فَمَضَى , فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَتَيْنِ فَمَضَى فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى، فَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ، وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ، ثُمَّ رَكَعَ , فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَكَانَ قِيَامُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ يَقُولُ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى فَكَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، تو میں نے اپنے جی میں کہا: آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورۃ پڑھ ڈالیں گے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورۃ نساء شروع کر دی، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورۃ آل عمران شروع کر دی، اور پوری پڑھ ڈالی، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح (پاکی) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور «‏ سبحان ربي العظيم» پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے کہا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے پڑھ رہے تھے، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1665]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رات کی نفل) نماز پڑھی۔ آپ نے سورۂ بقرہ شروع کی۔ میں نے سوچا کہ آپ سو آیتیں پڑھ کر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ آگے بڑھ گئے۔ میں نے سوچا کہ آپ دو سو آیتیں پڑھ کر رکوع فرمائیں گے لیکن آپ آگے گزر گئے۔ میں نے سوچا، پوری سورت ایک رکعت میں پڑھیں گے لیکن آپ پڑھتے گئے اور سورۂ نساء شروع کر دی اور پوری پڑھ ڈالی، پھر آل عمران شروع کر دی اور ختم کر ڈالی۔ پڑھتے بھی ٹھہر ٹھہر کر تھے۔ جب کسی ایسی آیت پر آتے جس میں تسبیح کا ذکر ہوتا تو تسبیح پڑھتے اور جب کوئی سوال والی آیت پڑھتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے وہ چیز مانگتے اور جب کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں پناہ والی چیز کا ذکر ہوتا ہے تو اس چیز سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے، پھر رکوع فرمایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی آپ کا یہ قومہ بھی تقریباً رکوع کے برابر تھا، پھر سجدہ فرمایا اور «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰی» پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند ہے پڑھتے رہے تو آپ کا سجدہ آپ کے رکوع کے قریب تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1009 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1666
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ثِقَةٌ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ جَلَسَ , يَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ , فَقَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، فَمَا صَلَّى إِلَّا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى جَاءَ بِلَالٌ إِلَى الْغَدَاةِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي مُرْسَلٌ وَطَلْحَةُ بْنُ يَزِيدَ لَا أَعْلَمُهُ سَمِعَ مِنْ حُذَيْفَةَ شَيْئًا، وَغَيْرُ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , قَالَ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور یہ اتنا ہی لمبا تھا جتنا آپ کا قیام تھا، آپ نے اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم‏» کہا، پھر آپ اتنی ہی دیر بیٹھے جتنی دیر کھڑے تھے، اور «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر تک سجدہ کیا جتنی دیر تک آپ کھڑے تھے، اور «سبحان ربي الأعلى» کہتے رہے تو آپ نے صرف چار رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے بلانے آ گئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک مرسل (منقطع) ہے، میں نہیں جانتا کہ طلحہ بن یزید نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کچھ سنا ہے، علاء بن مسیب کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں یوں کہا: «عن طلحۃ، عن رجل، عن حذیفۃ» ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1666]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (تہجد کی) نماز پڑھی۔ آپ نے رکوع فرمایا اور رکوع میں اتنی دیر «سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ» پاک ہے میرا رب عظمت والا پڑھتے رہے جتنی دیر قیام فرمایا تھا، پھر (سجدے کے بعد) بیٹھے، اتنی دیر «رَبِّ اغْفِرْ لِی! رَبِّ اغْفِرْ لِی» اے میرے رب! مجھے معاف فرما، اے میرے رب! مجھے معاف فرما۔ کہتے رہے، جتنی دیر قیام فرمایا تھا، پھر سجدہ فرمایا تو اتنی دیر «سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی» پاک ہے میرا رب سب سے بلند کہتے رہے، جتنی دیر کھڑے رہے تھے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار رکعات پڑھیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کی اطلاع دینے آ گئے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔ میں نہیں جانتا کہ طلحہ بن یزید نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کوئی روایت سنی ہو۔ علاء بن مسیب کے علاوہ دوسرے راویوں نے طلحہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک آدمی کا واسطہ ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر الأرقام: 1009، 1010، 1070، 1146 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ: كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی نماز کیسے پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1667
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى" , قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي خَطَأٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1667]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن اور رات کی (نفل) نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنی چاہیے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرے نزدیک یہ حدیث خطا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 302 (1295)، سنن الترمذی/الصلاة 301 (الجمعة 65) (597)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 172 (1322)، (تحفة الأشراف: 7349)، مسند احمد 2/26، 51، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل دن ہو یا رات دو دو کر کے پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ ۲؎: اس سے ان کی مراد «والنہار» کی زیادتی میں غلطی ہے، کچھ لوگوں نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضعیف ہیں، لیکن ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے بھی سلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1668
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1668]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کا طریقہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دو کرکے پڑھتے جاؤ، جب تجھے صبح کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 84 (473)، الوتر 1 (990، 991، 993)، التھجد 10 (1137)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، سنن الترمذی/الصلاة 207 (437)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1320)، (تحفة الأشراف: 7099)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 3 (13)، مسند احمد 2/30، 113، 141 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ سب وتر یعنی طاق ہو جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں