سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی نماز کیسے پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 1669
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1669]
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تجھے صبح کے طلوع ہونے کا خطرہ ہو تو (صبح طلوع ہونے سے پہلے) ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6930) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1670
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے منبر پر فرماتے سنا: آپ سے رات کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”وہ دو دو رکعت ہے، لیکن جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت سے وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1670]
حضرت ابوسلمہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے سنا جبکہ آپ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ (آپ نے فرمایا:) ”دو دو کر کے پڑھو۔ جب صبح کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1320)، (تحفة الأشراف: 8585)، مسند احمد 3/10، 75 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:-
حدیث نمبر: 1671
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہو جانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لے“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1671]
حضرت نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دو کر کے پڑھی جائے۔ جب کسی کو صبح کے طلوع ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7646) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1672
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1672]
حضرت نافع رحمہ اللہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تجھے صبح کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 207 (437)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1319)، (تحفة الأشراف: 8288)، مسند احمد 2/119 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1673
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1673]
حضرت سالم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت پڑھی جائے۔ جب تجھے صبح کے طلوع کا قرب محسوس ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 10 (1137)، (تحفة الأشراف: 6843) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1674
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قال: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1674]
حضرت حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔ جب تجھے صبح طلوع ہونے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، (تحفة الأشراف: 6710)، مسند احمد 2/134 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1675
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: قَامَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1675]
حضرت سالم اور حمید رحمہما اللہ دونوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ ایک آدمی نے اٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول! رات کی نماز (پڑھنے کا طریقہ) کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو کر کے پڑھو، جب صبح کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1674 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
27. بَابُ: الأَمْرِ بِالْوِتْرِ
باب: وتر پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1676
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی، پھر فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھو ۱؎ کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وتر کو محبوب رکھتا ہے“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1676]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ وتر پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (اکیلا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 336 (1416)، سنن الترمذی/الصلاة 216 (الوتر 2) (453، 454)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 114 (1169)، (تحفة الأشراف: 10135)، مسند احمد 1/86، 98، 100، 107، 110، 115، 120، 143، 144، 148، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1620) (صحیح) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مختلط ہیں، اور عاصم میں قدرے کلام ہے، مگر متابعات اور شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تراجع الالبانی 482)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو اہل قرآن کہا گیا ہے، یہ مطلب نہیں کہ وہ حدیث کو نہیں مانتے تھے بلکہ یہاں اہل قرآن کا مطلب شریعت اسلامیہ کے پیروکار ہیں، اور شریعت قرآن و حدیث دونوں کے مجموعہ کا نام ہے نہ کہ حدیث کے بغیر صرف قرآن کا۔ ۲؎: طیبی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں وتر سے مراد قیام اللیل ہے، کیونکہ وتر کا اطلاق قیام اللیل پر بھی ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1416) ترمذي (453) ابن ماجه (1119) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334
حدیث نمبر: 1677
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال:" الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَهَيْئَةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر کی نماز فرض نماز کی طرح واجب نہیں بلکہ یہ سنت (مؤکدہ) ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے جاری فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 216 (الوتر 2) (554)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 114، حم1/86، 98، 100، 107، 115، 144، 145، 148، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1620) (صحیح) (دیکھئے پچھلی حدیث پر کلام)»
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وتر واجب نہیں جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
28. بَابُ: الْحَثِّ عَلَى الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ
باب: سونے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی ترغیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1678
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: النَّوْمِ عَلَى وِتْرٍ , وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے: وتر پڑھ کر سونے کی، ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی، اور چاشت کی دونوں رکعتیں پڑھنے کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1678]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میرے دلی محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت تاکید کے ساتھ کی ہے: ”میں وتر پڑھ کر سوؤں، ہر مہینے میں تین روزے رکھوں اور فجر (یا ضحیٰ) کی دو رکعتوں کی پابندی کروں۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 33 (1178)، الصیام 60 (1981)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (721)، (تحفة الأشراف: 13618)، مسند احمد 2/459، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1495)، الصوم 38 (1786) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تیرھویں چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه