الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
The Book of Qiyam Al-Lail (The Night Prayer) and Voluntary Prayers During the Day
26. بَابُ : كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ
26. باب: تہجد کی نماز کیسے پڑھی جائے؟
Chapter: How to pray at night
حدیث نمبر: 1671
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا موسى بن سعيد، قال: حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس، قال: حدثنا زهير، قال: حدثنا الحسن بن الحر، قال: حدثنا نافع، ان ابن عمر اخبرهم، ان رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل , قال:" مثنى مثنى، فإن خشي احدكم الصبح فليوتر بواحدة".
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِنْ خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہو جانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7646) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1667
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن بشار، قال: حدثنا محمد بن جعفر , وعبد الرحمن , قالا: حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، انه سمع عليا الازدي، انه سمع ابن عمر يحدث، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" صلاة الليل والنهار مثنى مثنى" , قال ابو عبد الرحمن: هذا الحديث عندي خطا والله تعالى اعلم.
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى" , قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي خَطَأٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ۲؎ واللہ اعلم۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 302 (1295)، سنن الترمذی/الصلاة 301 (الجمعة 65) (597)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 172 (1322)، (تحفة الأشراف: 7349)، مسند احمد 2/26، 51، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل دن ہو یا رات دو دو کر کے پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ ۲؎: اس سے ان کی مراد «والنہار» کی زیادتی میں غلطی ہے، کچھ لوگوں نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضعیف ہیں، لیکن ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے بھی سلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کی ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1668
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن قدامة، قال: حدثنا جرير، عن منصور، عن حبيب، عن طاوس، قال: قال ابن عمر: سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل , فقال:" مثنى مثنى، فإذا خشيت الصبح فواحدة".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قال: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ۱؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 84 (473)، الوتر 1 (990، 991، 993)، التھجد 10 (1137)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، سنن الترمذی/الصلاة 207 (437)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1320)، (تحفة الأشراف: 7099)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 3 (13)، مسند احمد 2/30، 113، 141 (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: تاکہ سب وتر یعنی طاق ہو جائیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1669
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عمرو بن عثمان , ومحمد بن صدقة , قالا: حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خفت الصبح فاوتر بواحدة".
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6930) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1670
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن منصور، قال: حدثنا سفيان، عن ابن ابي لبيد، عن ابي سلمة، عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يسال عن صلاة الليل , فقال:" مثنى مثنى، فإذا خفت الصبح فاوتر بركعة".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے منبر پر فرماتے سنا: آپ سے رات کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: وہ دو دو رکعت ہے، لیکن جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت سے وتر کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1320)، (تحفة الأشراف: 8585)، مسند احمد 3/10، 75 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: -
حدیث نمبر: 1672
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خفت الصبح فاوتر بواحدة".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 207 (437)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 171 (1319)، (تحفة الأشراف: 8288)، مسند احمد 2/119 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1673
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال: حدثنا عثمان، عن شعيب، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال: سال رجل من المسلمين رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف صلاة الليل؟ فقال:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خفت الصبح فاوتر بواحدة".
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 10 (1137)، (تحفة الأشراف: 6843) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1674
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن يحيى، قال: حدثنا يعقوب بن إبراهيم، قال: حدثنا ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، قال: اخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان عبد الله بن عمر اخبره، ان رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل , فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خشيت الصبح فاوتر بواحدة".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قال: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، (تحفة الأشراف: 6710)، مسند احمد 2/134 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1675
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا احمد بن الهيثم، قال: حدثنا حرملة، قال: حدثنا ابن وهب، قال: اخبرني عمرو بن الحارث، ان ابن شهاب حدثه، ان سالم بن عبد الله , وحميد بن عبد الرحمن حدثاه، عن عبد الله بن عمر، قال: قام رجل , فقال: يا رسول الله , كيف صلاة الليل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خفت الصبح فاوتر بواحدة".
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَحُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: قَامَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1674 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1692
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا الحسن بن محمد، عن عفان، قال: حدثنا همام، قال: حدثنا قتادة، عن عبد الله بن شقيق، عن ابن عمر، ان رجلا من اهل البادية سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل قال:" مثنى مثنى، والوتر ركعة من آخر الليل".
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَفَّانَ، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَ:" مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ دیہات والوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور وتر رات کے آخری حصہ میں ایک رکعت ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 338 (1421)، (تحفة الأشراف: 7267)، مسند احمد 2/40، 58، 71، 76، 79، 100 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1693
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال: حدثنا حجاج بن إبراهيم، قال: حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن عبد الرحمن بن القاسم حدثه، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا اردت ان تنصرف فاركع بواحدة توتر لك ما قد صليت".
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ بِوَاحِدَةٍ تُوتِرُ لَكَ مَا قَدْ صَلَّيْتَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم ختم کرنے کا ارادہ کرو تو ایک رکعت اور پڑھ لو، یہ جو تم نے پڑھی ہے سب کو (طاق) کر دے گی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 1 (993)، (تحفة الأشراف: 7374) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1694
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا قتيبة، قال: حدثنا خالد بن زياد، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" صلاة الليل مثنى مثنى والوتر ركعة واحدة".
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر ایک رکعت ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7657) (صحیح الإسناد)»

قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1695
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا محمد بن سلمة , والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع واللفظ له، عن ابن القاسم، قال: حدثني مالك، عن نافع , وعبد الله بن دينار , عن عبد الله بن عمر، ان رجلا سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خشي احدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر له ما قد صلى".
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، اور تم میں سے کسی کو جب صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہ جو اس نے پڑھی ہے سب کو وتر (طاق) کر دے گی۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 1 (990)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، (تحفة الأشراف: 7225)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 3 (13) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1696
Save to word مکررات اعراب
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن إبراهيم، قال: حدثنا محمد يعني ابن المبارك، قال: حدثنا معاوية وهو ابن سلام، عن يحيى بن ابي كثير، قال: حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن , ونافع , عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه سمعه يقول:" صلاة الليل ركعتين ركعتين، فإذا خفتم الصبح فاوتروا بواحدة".
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَنَافِعٌ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" صَلَاةُ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتُمُ الصُّبْحَ فَأَوْتِرُوا بِوَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت ہے، تو جب تمہیں صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر کر لو۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1670 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: حسن

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.