🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابُ: الْحَثِّ عَلَى الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ
باب: سونے سے پہلے وتر پڑھ لینے کی ترغیب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1679
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ , وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ , وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی ۱؎، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1679]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے دلی محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی تاکید فرمائی کہ شروع رات میں وتر پڑھ لیا کروں، فجر کی سنتوں کی پابندی کروں اور ہر مہینے میں تین نفلی روزے رکھوں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحاح کی اکثر روایات میں چاشت کی رکعتیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: نَهْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوِتْرَيْنِ فِي لَيْلَةٍ
باب: ایک رات میں دو (بار) وتر پڑھنے سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1680
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُلَازِمِ بْنِ عَمْرٍو، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، قال: زَارَنَا أَبِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَأَمْسَى بِنَا وَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدٍ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلًا , فَقَالَ لَهُ: أَوْتِرْ بِهِمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ".
قیس بن طلق کہتے ہیں ہمارے والد طلق بن علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک دن ہماری زیارت کی اور ہمارے ساتھ انہوں نے رات گزاری، ہمارے ساتھ اس رات نماز تہجد ادا کی، اور وتر بھی پڑھی، پھر وہ ایک مسجد میں گئے، اور اس مسجد والوں کو انہوں نے نماز پڑھائی یہاں تک کہ وتر باقی رہ گئی، تو انہوں نے ایک شخص کو آگے بڑھایا، اور اس سے کہا: انہیں وتر پڑھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ایک رات میں دو وتر نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1680]
حضرت قیس بن طلق سے روایت ہے کہ میرے والد محترم حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان المبارک میں ایک دن ہم سے ملنے کے لیے تشریف لائے۔ انھیں شام ہوگئی۔ اس رات انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور وتر پڑھائے، پھر مسجد تشریف لے گئے اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، حتیٰ کہ جب وتر باقی رہ گئے تو ایک آدمی کو اپنی جگہ آگے کیا اور فرمایا: تم انھیں وتر پڑھا دو (کیونکہ میں پڑھ چکا ہوں۔) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ» ایک رات میں دو دفعہ وتر نہیں پڑھے جاسکتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1680]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 344 (1439)، سنن الترمذی/فیہ 227 (الوتر 13) (470)، (تحفة الأشراف: 5024)، مسند احمد 4/23 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: وَقْتِ الْوِتْرِ
باب: وتر کے وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1681
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ:" كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَإِلَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے اگر سحر (صبح) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، اگر جنبی ہوتے تو (اپنے اوپر پانی ڈالتے) یعنی غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1681]
حضرت اسود بن یزید سے منقول ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (رات کی) نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات (یعنی نماز عشاء کے بعد) سو جاتے تھے، پھر جاگتے (اور نماز پڑھتے)، پھر صبح قریب ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر تشریف لے آتے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت محسوس ہوتی تو اپنی بیوی سے جماع کرتے، پھر جب اذان سنتے تو فوراً اٹھ کھڑے ہوتے۔ اگر جنبی ہوتے تو غسل فرماتے وگرنہ وضو کرتے۔ (سنتیں پڑھتے) اور نماز کے لیے مسجد میں چلے جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1681]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 15 (1146)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 17 (739)، سنن الترمذی/الشمائل 39 (رقم: 251)، (تحفة الأشراف: 16029)، مسند احمد 6/102، 176، 214 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1682
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع، اخیر اور بیچ رات سب میں وتر کی نماز پڑھی ہے، اور آخری عمر میں آپ کا وتر سحر (صبح) تک پہنچ گیا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1682]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر اول رات میں بھی پڑھے، درمیان رات میں بھی اور آخر رات میں بھی۔ آخری عمر میں آپ کے وتر آخر رات میں (فجر سے پہلے) ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: خ /الوتر 2 (996)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (745)، سنن ابی داود/الصلاة 343 (1435)، سنن الترمذی/الصلاة 218 (الوتر 4) (457)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 121 (1185)، (تحفة الأشراف: 17653)، مسند احمد 6/46، 100، 107، 129، 204، 205، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1628) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں وتر رات کے آخری حصہ میں پڑھنے لگے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1683
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قال:" مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وِتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جو رات کو نماز پڑھے تو وہ اپنی آخری نماز وتر کو بنائے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1683]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص رات کو نفل نماز پڑھے تو وہ وتر آخر میں پڑھے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1683]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (751)، (تحفة الأشراف: 8297)، مسند احمد 2/39، 150 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: الأَمْرِ بِالْوِتْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ
باب: صبح (طلوع فجر) سے پہلے وتر پڑھنے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1684
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوَقِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ , فَقَالَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: وتر صبح ہونے (فجر نکلنے) سے پہلے پڑھو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1684]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح سے پہلے وتر پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1684]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 20 (754)، سنن الترمذی/الصلاة 226 (الوتر 12) (468)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 122 (1189)، (تحفة الأشراف: 4384)، مسند احمد 3/4، 13، 35، 37، 71، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1629) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1685
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْقَنَّادُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر فجر نکلنے سے پہلے پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1685]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر طلوع ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: الْوِتْرِ بَعْدَ الأَذَانِ
باب: وتر اذان کے بعد پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1686
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عِديٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَسْجِدِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَعَلُوا يَنْتَظِرُونَهُ , فَجَاءَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أُوتِرُ , قَالَ: وَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ الْأَذَانِ وِتْرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَبَعْدَ الْإِقَامَةِ , وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ وہ عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھے، کہ اتنے میں اقامت ہو گئی، تو لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، وہ آئے اور کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، اور کہا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے پوچھا گیا: کیا اذان کے بعد وتر ہے، تو کہا: ہاں، اور اقامت کے بعد بھی ہے، اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ نے (اٹھ کر) نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1686]
حضرت محمد بن منتشر سے مروی ہے کہ میں حضرت عمرو بن شرحبیل کی مسجد میں تھا، نماز کی تکبیر ہو گئی (مگر وہ نہ آئے) لوگ ان کا انتظار کرنے لگے، پھر وہ آئے تو انہوں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، نیز انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا صبح کی اذان کے بعد وتر پڑھے جا سکتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، بلکہ اقامت کے بعد بھی، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ فجر سوتے میں رہ گئی تھی حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 613 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ
باب: سواری پر وتر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1687
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ عَلَى الرَّاحِلَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1687]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي، (تحفة الأشراف: 7791) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1688
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ:" كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ , وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم اپنے اونٹ پر وتر پڑھتے تھے، اور ذکر کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1688]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے اونٹ پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے اور وہ بیان فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7647) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح، متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں