سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى سُفْيَانَ
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3691
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3691]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ محترمہ فوت ہو گئیں، جبکہ ان کے ذمے ایک نذر تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے وہ نذر ان کی طرف سے ادا کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3692
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3692]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ محترمہ کے ذمے تھی، لیکن وہ اس کی ادائیگی سے پہلے ہی فوت ہو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طرف سے ادا کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3686 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3693
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ، قَالَ:" اقْضِهِ عَنْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کر گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کر سکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3693]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: میری والدہ محترمہ فوت ہوگئی ہیں، ان کے ذمے ایک نذر تھی جسے وہ پورا نہ کرسکیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی طرف سے تم پوری کردو۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3689 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3694
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(پیاسوں کو) پانی پلانا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3694]
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری والدہ محترمہ فوت ہو گئی ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 41 (1680)، سنن ابن ماجہ/الأدب 8 (3684)، (تحفة الأشراف: 3834)، مسند احمد (5/284، 285 و6/7)، ویأتي فیما یلي: 3695، 3696 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
حدیث نمبر: 3695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ".
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3695]
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ پانی آب حیات ہے زیادہ دیر تک نہ ملے تو آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
حدیث نمبر: 3696
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ" , فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3696]
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: افضل صدقہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“ اسی بنا پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں سبیل قائم کر دی تھی (تاکہ مسافر وغیرہ کسی تنگی کے بغیر ہر وقت پانی پی سکیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3694 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
10. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْوِلاَيَةِ، عَلَى مَالِ الْيَتِيمِ
باب: یتیم کے مال کی تولیت (ذمہ داری) لینے سے پرہیز کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3697
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ عَلَى مَالِ يَتِيمٍ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں (لہٰذا تم) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3697]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابوذر! میں تجھے کمزور سمجھتا ہوں اور میں تیرے لیے وہی کچھ پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ تو دو آدمیوں کا بھی امیر نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کا سرپرست بننا۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 4 (1826)، سنن ابی داود/الوصایا 4 (2868)، (تحفة الأشراف: 11919)، مسند احمد (5/180) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے کہ یہ دونوں بڑے اہم اور ذمہ داری کے کام ہیں اگر آدمی سنبھال نہ پائے تو خود عذاب و عقاب کا مستحق بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
11. بَابُ: مَا لِلْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ إِذَا قَامَ عَلَيْهِ
باب: یتیم کے مال میں اس کے نگراں اور محافظ کا کیا حق ہے؟
حدیث نمبر: 3698
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ، قَالَ:" كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ، وَلَا مُبَاذِرٍ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میں محتاج و فقیر ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور میری سرپرستی میں ایک یتیم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یتیم کے مال سے کھا لیا کرو (لیکن دیکھو) فضول خرچی اور اسراف مت کرنا اور نہ ہی یتیم کا مال لے لے کر اپنا مال بڑھانا“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3698]
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں فقیر ہوں، میرے پاس کچھ نہیں، ہاں میرے پاس ایک یتیم ہے (جس کے مال کا میں سرپرست ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے یتیم کے مال سے کھا سکتا ہے لیکن نہ تو فضول خرچی اور اسراف ہو، نہ (اس کا مال) ضائع کرنے والا اور نہ (اس یتیم کے مال سے) کوئی جمع پونجی بنانے والا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الوصایا 8 (2872)، سنن ابن ماجہ/الوصایا 9 (2718)، (تحفة الأشراف: 8681)، (تحفة الأشراف: 8681)، مسند احمد (2/186، 215) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3699
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152, وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10، قَالَ: اجْتَنَبَ النَّاسُ مَالَ الْيَتِيمِ وَطَعَامَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ سورة البقرة آية 220 , إِلَى قَوْلِهِ:لأَعْنَتَكُمْ سورة البقرة آية 220.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن» ”یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو (یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے)“ (الأنعام: ۱۵۲) اور «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» ”اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں (وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں“ (النساء: ۱۰) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے (اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق (دشوار) ہو گئی، چنانچہ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن اليتامى قل إصلاح لهم خير» سے «لأعنتكم» ”اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے“ (البقرہ: ۲۲۰) تک نازل فرمائی ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3699]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب یہ آیت اتری: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة الأنعام: 152] ”اور تم یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر انتہائی اچھے انداز سے۔“ اور ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا﴾ [سورة النساء: 10] ”جو لوگ ظلم کے ساتھ ناحق یتیموں کا مال کھاتے ہیں...الخ“ تو لوگوں نے یتیموں کے مال کھانے اور پینے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس سے مسلمانوں کے لیے مشقت پیدا ہوئی، چنانچہ انہوں نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ... لَأَعْنَتَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 220] ”لوگ آپ سے یتیم بچوں (کے ساتھ رہنے) کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے: ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے۔۔۔ (اور اگر اللہ چاہتا تو) تمہیں تکلیف میں ڈال دیتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الوصایا 7 (2871)، (تحفة الأشراف: 5569)، مسند احمد (1/325) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2871) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
حدیث نمبر: 3700
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10، قَالَ: كَانَ يَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ الْيَتِيمُ فَيَعْزِلُ لَهُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَآنِيَتَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ سورة البقرة آية 220 فِي الدِّينِ , فَأَحَلَّ لَهُمْ خُلْطَتَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما» کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کر دیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «وإن تخالطوهم فإخوانكم» ”اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں“ (البقرہ: ۲۲۰) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3700]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ﴾ [سورة النساء: 10] ”یقینا جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں...الخ“ کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے فرمایا: یتیم جن لوگوں کے زیر سایہ پرورش پا رہے تھے (یہ آیت سن کر) انہوں نے یتیم کا کھانا پینا الگ کر دیا حتیٰ کہ برتن بھی، لیکن اس سے مسلمانوں کے لیے مشقت پیدا ہوئی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 220] ”اگر تم یتیموں کے ساتھ مل جل کر رہو تو کوئی حرج نہیں، وہ تمہارے (دینی) بھائی بند ہیں“ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ مل کر رہنا جائز قرار دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5574) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2871) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348