🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. بَابُ إِذَا اشْتَرَى مَتَاعًا أَوْ دَابَّةً فَوَضَعَهُ عِنْدَ الْبَائِعِ، أَوْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ:
باب: اگر کسی شخص نے کچھ اسباب یا ایک جانور خریدا اور اس کو بائع ہی کے پاس رکھوا دیا اور وہ اسباب تلف ہو گیا یا جانور مر گیا اور ابھی مشتری نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2138
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا أَدْرَكَتِ الصَّفْقَةُ حَيًّا مَجْمُوعًا فَهُوَ مِنَ الْمُبْتَاعِ.
‏‏‏‏ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا، بیع کے وقت جو مال زندہ تھا اور بیع میں شریک تھا۔ وہ اگر تلف ہو گیا تو خریدار پر پڑے گا (بائع اس کا تاوان نہ دے گا)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2138]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2138
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَقَلَّ يَوْمٌ كَانَ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا يَأْتِي فِيهِ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَحَدَ طَرَفَيِ النَّهَارِ، فَلَمَّا أُذِنَ لَهُ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ لَمْ يَرُعْنَا إِلَّا وَقَدْ أَتَانَا ظُهْرًا، فَخُبِّرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: مَا جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ حَدَثَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ، قَالَ: أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، قَالَ: الصُّحْبَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الصُّحْبَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدِي نَاقَتَيْنِ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ، فَخُذْ إِحْدَاهُمَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ".
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایسے دن (مکی زندگی میں) بہت ہی کم آئے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام میں کسی نہ کسی وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی گئی، تو ہماری گھبراہٹ کا سبب یہ ہوا کہ آپ (معمول کے خلاف اچانک) ظہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے یہاں کوئی نئی بات پیش آنے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت جو لوگ تمہارے پاس ہوں انہیں ہٹا دو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہاں تو صرف میری یہی دو بیٹیاں ہیں یعنی عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے مجھے تو یہاں سے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے نکلنے ہی کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ آپ ان میں سے ایک لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، قیمت کے بدلے میں، میں نے ایک اونٹنی لے لی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2138]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت صبح و شام کے کسی حصے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر نہ آتے ہوں۔ اور جب آپ کو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی گئی تو آپ اچانک ظہر کے وقت تشریف لائے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر دی گئی تو انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی ناگہانی ضرورت کے پیش نظر ہی اس وقت ہمارے ہاں تشریف لائے ہیں۔ جب آپ گھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ان سے فرمایا: افرادِ خانہ میں سے اس وقت جو آپ کے پاس ہیں انہیں الگ کر دو۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف میری دو بیٹیاں عائشہ اور اسماء رضی اللہ عنہما ہیں۔ آپ نے فرمایا: آیا تمہیں معلوم ہے کہ مجھے ہجرت کرنے کی اجازت مل چکی ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بھی آپ کے ساتھ رہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی میرے ساتھ رہو گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں نے ہجرت کے لیے تیار کر رکھا ہے، آپ ان میں سے ایک لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک قیمت کے عوض لے لی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. بَابُ لاَ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ أَوْ يَتْرُكَ:
باب: کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک وہ اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے بھائی کی خرید و فروخت میں دخل اندازی نہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2139]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی خریدو فروخت میں دخل اندازی نہ کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر دوسرے اصل خریداروں سے) بڑھ کر بولی نہ دے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے میں مداخلت نہ کرے۔ کوئی شخص (کسی عورت کو) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے۔ اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو خود حاصل کر لے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2140]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کے لیے خرید و فروخت کرنے سے منع فرمایا، نیز دھوکا دینے کے لیے قیمت بڑھانے سے بھی منع کیا اور کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کی منگنی کے پیغام پر اپنی منگنی کا پیغام ہی بھیجے۔ اسی طرح نہ کوئی عورت اپنی بہن کو طلاق دینے کا مطالبہ ہی کرے تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے اسے انڈیل دے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. بَابُ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ:
باب: نیلام کرنے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2141
وَقَالَ عَطَاءٌ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ لَا يَرَوْنَ بَأْسًا بِبَيْعِ الْمَغَانِمِ فِيمَنْ يَزِيدُ.
‏‏‏‏ اور عطاء نے کہا کہ میں نے دیکھا لوگ مال غنیمت کے نیلام کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2141]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2141
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَاحْتَاجَ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي؟ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِكَذَا وَكَذَا، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ".
ہم سے بشیر بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حسین مکتب نے خبر دی، انہیں عطاء بن ابی رباح نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے اپنا ایک غلام اپنے مرنے کے بعد کی شرط کے ساتھ آزاد کیا۔ لیکن اتفاق سے وہ شخص مفلس ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے غلام کو لے کر فرمایا کہ اسے مجھ سے کون خریدے گا۔ اس پر نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اتنی اتنی قیمت پر خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام ان کے حوالہ کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2141]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزادی کا اختیار سونپ دیا مگر وہ شخص کچھ مدت کے بعد محتاج ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو پکڑ کر فرمایا: اس غلام کو مجھ سے کون خریدتا ہے؟ حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کسی قدر مال کے عوض اسے خرید لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قیمت اس کے مالک کو دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2141]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ النَّجْشِ:
باب: نجش یعنی دھوکا دینے کے لیے قیمت بڑھانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2142
وَمَنْ قَالَ: لَا يَجُوزُ ذَلِكَ الْبَيْعُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى: النَّاجِشُ آكِلُ رِبًا خَائِنٌ وَهُوَ خِدَاعٌ بَاطِلٌ لَا يَحِلُّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَدِيعَةُ فِي النَّارِ، وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.
‏‏‏‏ اور بعض نے کہا یہ بیع ہی جائز نہیں اور ابن ابی اوفی نے کہا کہ «ناجش» سود خوار اور خائن ہے۔ اور «نجش» فریب ہے، خلاف شرع بالکل درست نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فریب دوزخ میں لے جائے گا اور جو شخص ایسا کام کرے جس کا حکم ہم نے نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2142]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2142
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّجْشِ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «نجش» (فریب، دھوکہ) سے منع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2142]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکا دینے کے لیے نرخ بڑھانے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2142]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. بَابُ بَيْعِ الْغَرَرِ وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ:
باب: دھوکے کی بیع اور حمل کی بیع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2143
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ"، وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ الْجَزُورَ إِلَى أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ، ثُمَّ تُنْتَجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ اس بیع کا طریقہ جاہلیت میں رائج تھا۔ ایک شخص ایک اونٹ یا اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی میعاد یہ مقرر کرتا کہ ایک اونٹنی جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر جنے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2143]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حَبَلِ الْحَبَلَةِ» حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ یہ بیع زمانہ جاہلیت میں بایں صورت رائج تھی کہ ایک شخص کوئی اونٹنی اس وعدے پر خرید کرتا کہ جب وہ بچہ جنے گی، پھر وہ بڑی ہو کر بچہ جنم دے، تب اس کی قیمت ادا کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2143]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. بَابُ بَيْعِ الْمُلاَمَسَةِ:
باب: بیع ملامسۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2144
وَقَالَ أَنَسٌ نَهَى عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2144]