صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ إِذَا خَيَّرَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بَعْدَ الْبَيْعِ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ:
باب: اگر بیع کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو پسند کر لینے کے لیے مختار بنایا تو بیع لازم ہو گئی۔
حدیث نمبر: 2112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب دو شخصوں نے خرید و فروخت کی تو جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، انہیں (بیع کو توڑ دینے کا) اختیار باقی رہتا ہے۔ یہ اس صورت میں کہ دونوں ایک ہی جگہ رہیں، لیکن اگر ایک نے دوسرے کو پسند کرنے کے لیے کہا اور اس شرط پر بیع ہوئی، اور دونوں نے بیع کا قطعی فیصلہ کر لیا، تو بیع اسی وقت منعقد ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر دونوں فریق بیع کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، اور بیع سے کسی فریق نے بھی انکار نہیں کیا، تو بھی بیع لازم ہو جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2112]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی آپس میں بیع کریں تو جب تک دونوں جدا نہ ہوں اور دونوں اکٹھے رہیں، ان میں سے ہر ایک کو بیع کے انعقاد اور فسخ کا اختیار ہے۔ ہاں اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دیا اور اسی طریقے پر انہوں نے بیع کا معاملہ کیا تو بیع واجب ہو گی۔ اور اگر وہ بیع کرنے کے بعد جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو فسخ نہ کیا تو بھی بیع واجب ہو جائے گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2112]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
46. بَابُ إِذَا كَانَ الْبَائِعُ بِالْخِيَارِ، هَلْ يَجُوزُ الْبَيْعُ:
باب: اگر بائع اپنے لیے اختیار کی شرط کر لے تو بھی بیع جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی بھی خریدنے اور بیچنے والے میں اس وقت تک بیع پختہ نہیں ہوتی جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں۔ البتہ وہ بیع جس میں مشترکہ اختیار کی شرط لگا دی گئی ہو اس سے الگ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2113]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری میں کوئی بیع نہیں ہوگی جب تک دونوں جدا نہ ہوں، ہاں وہ بیع مکمل ہوگی جس میں خیار ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2114
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا"، قَالَ هَمَّامٌ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي: يَخْتَارُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، فَعَسَى أَنْ يَرْبَحَا رِبْحًا وَيُمْحَقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا. قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان نے بیان کیا، کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوخلیل نے، ان سے عبداللہ بن حارث نے اور ان سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، بیچنے اور خریدنے والے کو جب تک وہ جدا نہ ہوں (بیع توڑ دینے کا) اختیار ہے۔ ہمام راوی نے کہا کہ میں نے اپنی کتاب میں لفظ «يختار» تین مرتبہ لکھا ہوا پایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور بات صاف صاف واضح کر دی تو انہیں ان کی بیع میں برکت ملتی ہے اور اگر انہوں نے جھوٹی باتیں بنائیں اور (کسی عیب کو) چھپایا تو تھوڑا سا نفع شاید وہ کما لیں، لیکن ان کی بیع میں برکت نہیں ہو گی۔ (حبان نے) کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن حارث سے سنا کہ یہی حدیث وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2114]
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں۔۔۔ ہمام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں اس طرح پایا کہ وہ تین بار اختیار کرے۔۔۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور صاف صاف بیان کریں تو ان کی اس بیع میں برکت ہوگی اور اگر وہ جھوٹ سے کام لیں اور عیب وغیرہ چھپائیں تو شاید انہیں نفع تو ہوگا لیکن اس بیع سے برکت کو ختم کر دیا جائے گا۔“ حبان نے کہا: ہم کو ہمام نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے ابو تیاح نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن حارث کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
47. بَابُ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا فَوَهَبَ مِنْ سَاعَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا وَلَمْ يُنْكِرِ الْبَائِعُ عَلَى الْمُشْتَرِي، أَوِ اشْتَرَى عَبْدًا فَأَعْتَقَهُ:
باب: اگر ایک شخص نے کوئی چیز خریدی اور جدا ہونے سے پہلے ہی کسی اور کو للہ دے دی پھر بیچنے والے نے خریدنے والے کو اس پر نہیں ٹوکا، یا کوئی غلام خرید کر (بیچنے والے سے جدائی سے پہلے ہی اسے) آزاد کر دیا۔
حدیث نمبر: Q2115
وَقَالَ طَاوُسٌ: فِيمَنْ يَشْتَرِي السِّلْعَةَ عَلَى الرِّضَا، ثُمَّ بَاعَهَا وَجَبَتْ لَهُ وَالرِّبْحُ لَهُ. وَقَالَ طَاوُسٌ فِيمَنْ يَشْتَرِي السِّلْعَةَ عَلَى الرِّضَا ثُمَّ بَاعَهَا وَجَبَتْ لَهُ، وَالرِّبْحُ لَهُ.
طاؤس نے اس شخص کے متعلق کہا، جو (فریق ثانی کی) رضا مندی کے بعد کوئی سامان اس سے خریدے اور پھر اسے بیچ دے اور بائع انکار نہ کرے تو یہ بیع لازم ہو جائے گی۔ اور اس کا نفع بھی خریدار ہی کا ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2115]
حدیث نمبر: 2115
وَقَالَ لَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكُنْتُ عَلَى بَكْرٍ صَعْبٍ لِعُمَرَ، فَكَانَ يَغْلِبُنِي، فَيَتَقَدَّمُ أَمَامَ الْقَوْمِ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ، وَيَرُدُّهُ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَزْجُرُهُ عُمَرُ، وَيَرُدُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِعُمَرَ: بِعْنِيهِ، قَالَ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: بِعْنِيهِ، فَبَاعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ لَكَ يَاعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، تَصْنَعُ بِهِ مَا شِئْتَ".
حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ایک نئے اور سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ اکثر وہ مجھے مغلوب کر کے سب سے آگے نکل جاتا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹ کر پیچھے واپس کر دیتے۔ وہ پھر آگے بڑھ جاتا۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے بیچ ڈال۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو آپ ہی کا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مجھے یہ اونٹ دیدے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اونٹ بیچ ڈالا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ بن عمر! اب یہ اونٹ تیرا ہو گیا جس طرح تو چاہے اسے استعمال کر۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2115]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم کسی سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک سرکش اونٹ پر سوار تھا۔ وہ اونٹ میرے قابو میں نہ آتا تھا اور سب سے آگے بڑھ جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ڈانٹ کر پیچھے کر دیتے مگر وہ پھر آگے بڑھ جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے پھر ڈانٹ کر پیچھے کر دیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ ہی کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔“ چنانچہ انہوں نے وہ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبد اللہ بن عمر! یہ اونٹ تمہارا ہے، اس کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2116
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بِعْتُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، مَالًا بِالْوَادِي بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا تَبَايَعْنَا، رَجَعْتُ عَلَى عَقِبِي حَتَّى خَرَجْتُ مِنْ بَيْتِهِ خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي الْبَيْعَ، وَكَانَتِ السُّنَّةُ: أَنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمَّا وَجَبَ بَيْعِي وَبَيْعُهُ رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ غَبَنْتُهُ بِأَنِّي سُقْتُهُ إِلَى أَرْضِ ثَمُودَ بِثَلَاثِ لَيَالٍ، وَسَاقَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ لَيَالٍ.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ میں نے امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی وادی قریٰ کی زمین، ان کی خیبر کی زمین کے بدلے میں بیچی تھی۔ پھر جب ہم نے بیع کر لی تو میں الٹے پاؤں ان کے گھر سے اس خیال سے باہر نکل گیا کہ کہیں وہ بیع فسخ نہ کر دیں۔ کیونکہ شریعت کا قاعدہ یہ تھا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو (بیع توڑنے کا) اختیار اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہماری خرید و فروخت پوری ہو گئی اور میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ (اس تبادلہ کے نتیجے میں، میں نے ان کی پہلی زمین سے) انہیں تین دن کے سفر کی دوری پر ثمود کی زمین کی طرف دھکیل دیا تھا اور انہوں نے مجھے (میری مسافت کم کر کے) مدینہ سے صرف تین دن کے سفر کی دوری پر لا چھوڑا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2116]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ وادی کے اندر جو میری زمین تھی، ان کے خیبر والے مال کے عوض فروخت کر دی۔ جب ہم بیع کر چکے تو میں الٹے پاؤں واپس چلا حتیٰ کہ ان کے مکان سے باہر نکل گیا، مبادا وہ بیع واپس کر دیں کیونکہ طریقہ مروجہ یہ تھا کہ بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہوتا حتیٰ کہ وہ جدا ہو جائیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب میری اور ان کی بیع پوری ہو گئی تو میرے خیال کے مطابق میں نے ان سے غبن کیا، اس لیے کہ میں نے انہیں ارضِ ثمود کی طرف تین راتوں کا سفر دور دھکیل دیا اور انہوں نے مجھے مدینہ طیبہ کی طرف تین دن کی مسافت قریب کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
48. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْخِدَاعِ فِي الْبَيْعِ:
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ دینا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2117
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ:" إِذَا بَايَعْتَ، فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص (حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تم کسی چیز کی خرید و فروخت کرو تو یوں کہہ دیا کرو کہ ”بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2117]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اسے خرید و فروخت میں (اکثر) دھوکا دیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم خرید و فروخت کرو تو کہہ دیا کرو کہ مجھے دھوکا نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
49. بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ:
باب: بازاروں کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2118
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، قُلْتُ: هَلْ مِنْ سُوقٍ فِيهِ تِجَارَةٌ؟ قَالَ: سُوقُ قَيْنُقَاعَ، وَقَالَ أَنَسٌ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، وَقَالَ عُمَرُ: أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ.
اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہم مدینہ آئے، تو میں نے (اپنے اسلامی بھائی سے) پوچھا کہ کیا یہاں کوئی بازار ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا، مجھے بازار بتا دو اور عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ مجھے بازار کی خرید و فروخت نے غافل رکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2118]
حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ".
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے محمد بن سوقہ نے، ان سے نافع بن جبیر بن مطعم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقام بیداء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ میں نے کہا، یا رسول اللہ! اسے شروع سے آخر تک کیوں کر دھنسایا جائے گا جب کہ وہیں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکریوں میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! شروع سے آخر تک ان سب کو دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ان کی نیتوں کے مطابق وہ اٹھائے جائیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2118]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرے گا۔ جب وہ مقامِ بیداء پر پہنچے گا تو اول سے آخر تک تمام لشکر کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تمام کو کیسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا؟ جبکہ ان میں دوکاندار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کا لشکر سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق (قبروں سے) اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ أَحَدِكُمْ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ، وَبَيْتِهِ، بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ بِأَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً، أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ، وَالْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ، وَقَالَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جماعت کے ساتھ کسی کی نماز بازار میں یا اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے درجوں میں کچھ اوپر بیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ کیونکہ جب ایک شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں صرف نماز کے ارادہ سے آتا ہے۔ نماز کے سوا اور کوئی چیز اسے لے جانے کا باعث نہیں بنتی تو جو بھی قدم وہ اٹھاتا ہے اس سے ایک درجہ اس کا بلند ہوتا ہے یا اس کی وجہ سے ایک گناہ اس کا معاف ہوتا ہے اور جب تک ایک شخص اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے جس پر اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے برابر اس کے لیے رحمت کی دعائیں یوں کرتے رہتے ہیں «اللهم صل عليه، اللهم ارحمه» ”اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما۔“ یہ اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک وہ وضو توڑ کر فرشتوں کو تکلیف نہ پہنچائے جتنی دیر تک بھی آدمی نماز کی وجہ سے رکا رہتا ہے وہ سب نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2119]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے بازار اور گھر میں نماز پڑھنے سے بیس سے کئی درجے زیادہ باعث ثواب ہے، یہ اس لیے کہ جب وہ وضو کرتا ہے اور اسے اچھی طرح بناتا ہے، پھر مسجد میں آتا ہے اور اس کا ارادہ صرف نماز پڑھنے کا ہوتا ہے اور اس کو نماز ہی مسجد میں لے جاتی ہے، تو ایسے حالات میں وہ قدم نہیں اٹھاتا مگر اس کے باعث ایک درجہ بلند ہوتا ہے، نیز اس کے بدلے میں اس کا ایک گناہ بھی معاف ہوتا ہے اور فرشتے تو مسلسل اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، جب تک وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے، جس پر اس نے نماز پڑھی ہو۔ فرشتے کہتے ہیں: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اس شخص پر اپنی رحمت بھیج، اے اللہ! اس پر رحم فرما،“ جب تک وہ بے وضو نہ ہو اور کسی کو اذیت نہ پہنچائے۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنی دیر تک آدمی نماز کی وجہ سے مسجد میں رکا رہتا ہے وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة