صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ:
باب: خرید و فروخت میں قسم کھانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2088
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً وَهُوَ فِي السُّوقِ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ، لَقَدْ أَعْطَى بِهَا مَا لَمْ يُعْطِ لِيُوقِعَ فِيهَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَنَزَلَتْ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 الْآيَةَ".
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ بازار میں ایک شخص نے ایک سامان دکھا کر قسم کھائی کہ اس کی اتنی قیمت لگ چکی ہے۔ حالانکہ اس کی اتنی قیمت نہیں لگی تھی اس قسم سے اس کا مقصد ایک مسلمان کو دھوکہ دینا تھا۔ اس پر یہ آیت اتری «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلہ میں بیچتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2088]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے منڈی میں اپنا سامان لگایا اور اللہ کی قسم اٹھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس کی اتنی قیمت ملتی ہے، حالانکہ اسے نہیں ملتی تھی، اس کا مقصد کسی مسلمان کو پھنسانا تھا، اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض بہت کم قیمت لیتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2088]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
28. بَابُ مَا قِيلَ فِي الصَّوَّاغِ:
باب: سناروں کا بیان۔
حدیث نمبر: Q2089
وَقَالَ طَاوُسٌ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ.
اور طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر حرم کی حرمت بیان کرتے ہوئے) فرمایا تھا کہ حرم کی گھاس نہ کاٹی جائے، اس پر عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ اذخر (ایک خاص قسم کی گھاس) کی اجازت دے دیجئیے۔ کیونکہ یہ یہاں کے سناروں اور لوہاروں اور گھروں کے کام آتی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا اذخر کاٹ لیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2089]
حدیث نمبر: 2089
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ:" كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمْسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ، أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ، أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرُسِي".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہمیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ غنیمت کے مال میں سے میرے حصے میں ایک اونٹ آیا تھا اور ایک دوسرا اونٹ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خمس“ میں سے دیا تھا۔ پھر جب میرا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا کے لانے کا ہوا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر گھاس (جمع کر کے) لائیں کیونکہ میرا ارادہ تھا کہ اسے سناروں کے ہاتھ بیچ کر اپنی شادی کے ولیمہ میں اس کی قیمت کو لگاؤں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2089]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مال غنیمت میں سے مجھے ایک اونٹ حصے میں ملا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک اور اونٹ خمس میں سے دیا، جب میں نے سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصتی کرانے کا ارادہ کیا تو بنو قینقاع کے ایک زرگر سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم «الْإِذْخِرَ» ”اذخر“ کاٹ کر لائیں۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اسے سناروں کے پاس فروخت کر کے اپنی شادی کے ولیمے میں اس سے کچھ مدد حاصل کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2090
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي، وَإِنَّمَا حَلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُلْتَقَطُ لُقْطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ"، وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُفِ بُيُوتِنَا، فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: هَلْ تَدْرِي مَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا؟ هُوَ أَنْ تُنَحِّيَهُ مِنَ الظِّلِّ وَتَنْزِلَ مَكَانَهُ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: عَنْ خَالِدٍ: لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا.
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا،، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت ولا شہر قرار دیا ہے۔ یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے بھی ایک دن چند لمحات کے لیے حلال ہوا تھا۔ سو اب اس کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں، نہ اس کے شکار بھگائے جائیں، اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے۔ صرف «معرف» (یعنی گمشدہ چیز کو اصل مالک تک اعلان کے ذریعہ پہنچانے والے) کو اس کی اجازت ہے۔ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اذخر کے لیے اجازت دے دیجئیے، کہ یہ ہمارے سناروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے کام میں آتی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی۔ عکرمہ نے کہا، یہ بھی معلوم ہے کہ حرم کے شکار کو بھگانے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ (کسی درخت کے سائے تلے اگر وہ بیٹھا ہوا ہو تو) تم سائے سے اسے ہٹا کر خود وہاں بیٹھ جاؤ۔ عبدالوہاب نے خالد سے (اپنی روایت میں یہ الفاظ) بیان کئے کہ (اذخر) ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے کام میں آتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2090]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے یہ حلال نہ ہوا اور نہ میرے بعد ہی کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے بھی صرف (دن کی) ایک گھڑی حلال ہوا، لہٰذا اس کی گھاس کو نہ اکھاڑا جائے اور نہ اس کا درخت ہی کاٹا جائے۔ اس کا شکار بھی نہ بھگایا جائے اور نہ وہاں کی گری پڑی کسی چیز ہی کو اٹھایا جائے۔ ہاں، وہ اٹھا سکتا ہے جو اس کی تشہیر کرے۔“ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہمارے سناروں اور گھروں کی چھتوں کے لیے اذخر کی اجازت دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اذخر کی اجازت ہے۔“ (راوی حدیث) حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ شکار کے بھگانے سے کیا مراد ہے؟ وہ یہ ہے کہ اسے سائے سے ہٹا کر خود وہاں پڑاؤ کر لے۔ عبدالوہاب نے خالد سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے لیے (اذخر کی اجازت دیجیے)۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
29. بَابُ ذِكْرِ الْقَيْنِ وَالْحَدَّادِ:
باب: کاریگروں اور لوہاروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ:" كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ، أَتَقَاضَاهُ؟ قَالَ: لَا، أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ، فَنَزَلَتْ: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا {77} أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا {78} سورة مريم آية 77-78".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» ”کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2091]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا اور عاص بن وائل کے ذمے میرا کچھ قرض تھا۔ میں اس کے پاس اپنے قرض کا تقاضا کرنے آیا تو اس نے کہا: جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہیں کرے گا اس وقت تک میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے کہا: اگر اللہ تجھے موت سے دوچار کر دے اور مرنے کے بعد پھر زندہ کر دے تو بھی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: پھر تو مجھے چھوڑ دے تاکہ میں مروں، پھر زندہ کیا جاؤں کیونکہ پھر مجھے وہاں مال بھی ملے گا اور اولاد بھی، پھر تمہارا قرض ادا کروں گا۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا ﴿٧٧﴾ أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [سورة مريم: 77-78] ”(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی۔ کیا اسے غیب کی اطلاع ہو گئی ہے؟ یا اللہ سے اس نے کوئی عہد لے رکھا ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
30. بَابُ ذِكْرِ الْخَيَّاطِ:
باب: درزی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2092
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی اس دعوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا۔ اس درزی نے روٹی اور شوربا جس میں کدو اور بھنا ہوا گوشت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے قتلے پیالے میں تلاش کر رہے تھے۔ اسی دن سے میں بھی برابر کدو کو پسند کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2092]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے خود تیار کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی، کدو کا شوربا اور سوکھا گوشت رکھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیالے کے ادھر ادھر سے کدو کو ڈھونڈتے دیکھا، اس بنا پر میں اس دن سے کدو کو بہت پسند کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2092]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
31. بَابُ ذِكْرِ النَّسَّاجِ:
باب: کپڑا بننے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2093
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ، قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟ فَقِيلَ لَهُ: نَعَمْ، هِيَ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْسُنِيهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ، ثُمَّ رَجَعَ فَطَوَاهَا، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: مَا أَحْسَنْتَ، سَأَلْتَهَا إِيَّاهُ، لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ، قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ایک عورت ”بردہ“ لے کر آئی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تمہیں معلوم بھی ہے کہ ”بردہ“ کسے کہتے ہیں۔ کہا گیا جی ہاں! بردہ، حاشیہ دار چادر کو کہتے ہیں۔ تو اس عورت نے کہا، یا رسول اللہ! میں نے خاص آپ کو پہنانے کے لیے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی چادر کو بطور ازار کے پہنے ہوئے تھے، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے، یا رسول اللہ! یہ تو مجھے دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا لے لینا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے پھر واپس تشریف لے گئے پھر ازار کو تہ کر کے ان صاحب کے پاس بھجوا دیا۔ لوگوں نے کہا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ازار مانگ کر اچھا نہیں کیا کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کے سوال کو رد نہیں کیا کرتے ہیں۔ اس پر ان صحابی نے کہا کہ واللہ! میں نے تو صرف اس لیے یہ چادر مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن بنے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چادر ہی ان کا کفن بنی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2093]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت «الْبُرْدَةُ» (چادر) لے کر آئی۔ انہوں نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ «الْبُرْدَةُ» کیا چیز ہے؟ کہا گیا: ہاں، وہ بڑی چادر جس کے کنارے بنے ہوئے ہوں۔ اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھوں سے بنا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تہبند کے طور پر استعمال کیا اور ہمارے پاس تشریف لائے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ چادر مجھے عنایت کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے، پھر واپس تشریف لے گئے اور چادر کو لپیٹ کر اس شخص کے پاس بھیج دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر کا سوال کیا حالانکہ تجھے علم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کو خالی واپس نہیں کرتے۔ اس شخص نے جواب دیا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لیے چادر کا سوال کیا تھا کہ جس دن میں مروں وہ میرا کفن بنے۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر وہ چادر اس کا کفن بنی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2093]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
32. بَابُ النَّجَّارِ:
باب: بڑھئی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَتَى رِجَالٌ إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٍ، قَدْ سَمَّاهَا: سَهْلٌ، أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ، إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ يَعْمَلُهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا، فَوُضِعَتْ فَجَلَسَ عَلَيْهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے یہاں منبرنبوی کے متعلق پوچھنے آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے یہاں جن کا نام بھی سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، اپنا آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہیں کہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو جوڑ کر منبر تیار کر دے، تاکہ لوگوں کو وعظ کرنے کے لیے میں اس پر بیٹھ جایا کروں۔ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام سے غابہ کے جھاؤ کی لکڑی کا منبر بنانے کے لیے کہا۔ پھر (جب منبر تیار ہو گیا تو) انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ وہ منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے (مسجد میں) رکھا گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2094]
حضرت ابو حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ کچھ آدمی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آکر ان سے منبر کے متعلق پوچھنے لگے، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کو پیغام بھیجا (حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام بھی لیا تھا) کہ ”تم اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا ایک منبر تیار کر دے تاکہ لوگوں سے خطاب کرتے وقت میں اس پر بیٹھوں۔“ چنانچہ اس نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ غابہ جنگل سے جھاؤ کے درخت سے منبر تیار کر دے، چنانچہ وہ منبر تیار کر کے لے آیا تو اس عورت نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (مسجد میں) رکھنے کا حکم دیا، وہ (ایک مناسب جگہ پر) رکھ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا؟ قَالَ: إِنْ شِئْتِ، قَالَ: فَعَمِلَتْ لَهُ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ، فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا، حَتَّى كَادَتْ تَنْشَقَّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ، قَالَ: بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز کیوں نہ بنوا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے وقت بیٹھا کریں۔ کیونکہ میرے پاس ایک غلام بڑھئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمہاری مرضی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس نے تیار کیا۔ تو جمعہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر بیٹھے تو اس کھجور کی لکڑی سے رونے کی آواز آنے لگی۔ جس پر ٹیک دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پھٹ جائے گی۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس وقت بھی وہ لکڑی اس چھوٹے بچے کی طرح سسکیاں بھر رہی تھی جسے چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ چپ ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ اس کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ یہ لکڑی خطبہ سنا کرتی تھی اس لیے روئی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2095]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا لاؤں جس پر آپ بیٹھ جایا کریں؟ اس لیے کہ میرا غلام بڑھئی کے پیشے سے وابستہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاہو تو بنوا سکتی ہو۔“ چنانچہ اس عورت نے آپ کے لیے منبر بنوا لیا۔ جب جمعہ کا دن آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر تشریف فرما ہوئے جو آپ کے لیے تیار کیا گیا تھا اور کھجور کا وہ تنا جس کے پاس آپ کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے، آہیں بھر کر چیخنے لگا، قریب تھا کہ وہ پھٹ جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا، وہ تنا ایسے بچے کی طرح سسکیاں لے کر رونے لگا جسے چپ کرایا جاتا ہے تاآنکہ وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (کھجور کا تنا) اس لیے رویا کہ وہ اللہ کا ذکر سنا کرتا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
33. بَابُ شِرَاءِ الْحَوَائِجِ بِنَفْسِهِ:
باب: اپنی ضرورت کی چیزیں ہر آدمی خود بھی خرید سکتا ہے۔
حدیث نمبر: Q2096
وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا مِنْ عُمَرَ، وَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: جَاءَ مُشْرِكٌ بِغَنَمٍ، فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَاةً، وَاشْتَرَى مِنْ جَابِرٍ بَعِيرًا.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اونٹ خریدا، اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک مشرک بکریاں (بیچنے) لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے بھی ایک اونٹ خریدا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2096]