🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ التِّجَارَةِ فِي الْبَحْرِ:
باب: سمندر میں تجارت کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2063
وَقَالَ مَطَرٌ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ إِلَّا بِحَقٍّ، ثُمَّ تَلَا: وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ، وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ، وَالْفُلْكُ: السُّفُنُ الْوَاحِدُ، وَالْجَمْعُ سَوَاءٌ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: تَمْخَرُ السُّفُنُ الرِّيحَ وَلَا تَمْخَرُ الرِّيحَ مِنَ السُّفُنِ، إِلَّا الْفُلْكُ الْعِظَامُ.
‏‏‏‏ اور مطر وراق نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور قرآن مجید میں اس کا ذکر ہے وہ بہرحال حق ہے۔ اس کے بعد انہوں نے (سورۃ النحل کی یہ) آیت پڑھی «وترى الفلك مواخر فيه ولتبتغوا من فضله‏» اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو کہ اس میں چلتی ہیں پانی کو چیرتی ہوئی تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل سے۔ اس آیت میں لفظ «فلك» کشتی کے معنی میں ہے، واحد اور جمع دونوں کے لیے یہ لفظ اسی طرح استعمال ہوتا ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے (اس آیت کی تفسیر میں) کہا کہ کشتیاں ہوا کو چیرتی چلتی ہیں اور ہوا کو وہی کشتیاں (دیکھنے میں صاف طور پر) چیرتی چلتی ہیں جو بڑی ہوتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2063]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2063
وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ ذَكَرَ" رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ خَرَجَ إِلَى الْبَحْرِ فَقَضَى حَاجَتَهُ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، بِهَذَا.
لیث نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا۔ جس نے سمندر کا سفر کیا تھا اور اپنی ضرورت پوری کی تھی۔ پھر پوری حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2063]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر کیا جو سمندر کے سفر کو نکلا، پھر اس نے اپنی ضرورت پوری کی، اس کے بعد پوری حدیث بیان فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الجمعہ میں) فرمان ”جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2064
وَقَالَ قَتَادَةُ: كَانَ الْقَوْمُ يَتَّجِرُونَ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا نَابَهُمْ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ، لَمْ تُلْهِهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ، حَتَّى يُؤَدُّوهُ إِلَى اللَّهِ.
‏‏‏‏ اور سورۃ النور میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمانا «جال لا تلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله‏» وہ لوگ جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی قتادہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تجارت کیا کرتے تھے۔ لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ کا کوئی فرض سامنے آتا تو ان کی تجارت اور سوداگری اللہ کے ذکر سے انہیں غافل نہیں کر سکتی تھی تاآنکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرض کو ادا نہ کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: Q2064]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2064
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقْبَلَتْ عِيرٌ، وَنَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، فَانْفَضَّ النَّاسُ إِلَّا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (تجارتی) اونٹوں (کا قافلہ) آیا۔ ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ (کے خطبہ) میں شریک تھے۔ بارہ صحابہ کے سوا باقی تمام حضرات ادھر چلے گئے اس پر یہ آیت اتری «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» جب سوداگری یا تماشا دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2064]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نمازِ جمعہ ادا کر رہے تھے کہ غلے کا ایک قافلہ آیا، لوگ اس کی طرف چل دیے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بارہ مردوں کے علاوہ کوئی دوسرا شخص باقی نہ رہا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا﴾ [سورة الجمعة: 11] جب انہوں نے کوئی تجارت یا کھیل تماشا دیکھا تو اس کی طرف دوڑ پڑے اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) فرمان کہ ”اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2065
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے مسروق نے، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کا کھانا (غلہ وغیرہ) بشرطیکہ گھر بگاڑنے کی نیت نہ ہو خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو کمانے کا اور خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرتا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2065]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے گھر کا طعام خرچ کرے بشرط یہ کہ اس کی نیت بگاڑ کی نہ ہو تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے، اس کے خاوند کو اس کی کمائی کا ثواب ہوگا اور خازن بھی اسی کے مثل ہے، کوئی کسی کے ثواب میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2066
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ".
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی اس کی اجازت کے بغیر بھی (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتی ہے تو اسے آدھا ثواب ملتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2066]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عورت اپنے خاوند کی کمائی سے اس کے حکم (اجازت) کے بغیر خرچ کرے تو اسے خاوند کے ثواب کا نصف ملے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2066]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ مَنْ أَحَبَّ الْبَسْطَ فِي الرِّزْقِ:
باب: جو روزی میں کشادگی چاہتا ہو وہ کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2067
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ".
ہم سے محمد بن یعقوب کرمانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے محمد بن مسلم نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی دارازی چاہتا ہو تو اسے چاہئیے کہ صلہ رحمی کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2067]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں اضافہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2067]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ شِرَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّسِيئَةِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھار خریدنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ابراہیم نخعی کی مجلس میں ہم نے ادھار لین دین میں (سامان) گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مدت مقرر کر کے ادھا خریدا اور اپنی لوہے کی ایک زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2068]
حضرت اعمش نے کہا کہ ابراہیم نخعی کی مجلس میں ہم نے ادھار لین دین میں (کوئی سامان) گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ مدت کے لیے طعام خریدا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2068]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ. ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ أَبُو الْيَسَعِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعُ، بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ، وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسباط ابوالیسع بصریٰ نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جَو کی روٹی اور بدبودار چربی (سالن کے طور پر) لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے یہاں گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے قرض لیا تھا۔ میں نے خود آپ کو یہ فرماتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں کوئی شام ایسی نہیں آئی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کوئی غلہ موجود رہا ہو، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیوں کی تعداد نو تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2069]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور باسی چربی لے کر گئے اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زرہ مدینہ طیبہ میں ایک یہودی کے پاس گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے اہل خانہ کے لیے کچھ جو لیے تھے، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبھی شام کے وقت ایک صاع گیہوں یا کسی اور غلے کا جمع نہیں رہا، حالانکہ آپ کی نو بیویاں تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ كَسْبِ الرَّجُلِ وَعَمَلِهِ بِيَدِهِ:
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، قَالَ:" لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مَئُونَةِ أَهْلِي، وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَسَيَأْكُلُ آلُأَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَيَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو فرمایا، میری قوم جانتی ہے کہ میرا (تجارتی) کاروبار میرے گھر والوں کی گذران کے لیے کافی رہا ہے، لیکن اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو گیا ہوں، اس لیے آل ابوبکر اب بیت المال میں سے کھائے گی، اور ابوبکر مسلمانوں کا مال تجارت بڑھاتا رہے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2070]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: میری قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ میرا کاروبار میرے اہل و عیال کے لیے ناکافی نہیں تھا لیکن اب میں مسلمانوں کے معاملات میں مشغول ہو گیا ہوں، لہذا ابوبکر کے اہل خانہ اس مال سے کھائیں گے اور وہ خود مسلمانوں کے مال و اسباب کی نگرانی کریں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں