🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
غیرمسلموں کے سلام یا بددعاؤں کا جواب کیسے دیا جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2242 ترقیم فقہی: -- 2664
-" إذا مررتم باليهود... فلا تسلموا عليهم وإذا سلموا عليكم فقولوا: وعليكم".
سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم یہودیوں کے پاس سے گزرو تو انہیں سلام نہ کہو اور اگر وہ تمہیں سلام کہیں تو جواب میں صرف «وعليكم» ”‏‏‏‏اور تم پر بھی ہو“ کہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2664]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2242

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2721 ترقیم فقہی: -- 2665
-" كان ناس يأتون رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليهود، فيقولون السام عليك! فيقول: وعليكم. ففطنت بهم عائشة فسبتهم، (وفي رواية: قالت عائشة: بل عليكم السام والذام) فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه يا عائشة! [لا تكوني فاحشة] فإن الله لا يحب الفحش ولا التفحش. قالت: فقلت: يا رسول الله إنهم يقولون كذا وكذا. فقال: أليس قد رددت عليهم؟ فأنزل الله عز وجل: * (وإذا جاؤك حيوك بما لم يحيك به الله) * إلى آخر الآية".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہودی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر (‏‏‏‏ «السلام عليكم» کی بجائے) «اَلسَّامُ عَلَيكُم» (‏‏‏‏تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو) کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواباً فرماتے: «وعليكم» ‏‏‏‏ اور تم پر بھی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما ان کی (یہودیوں کی) یہ بات سمجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہا (‏‏‏‏اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: بلکہ تم پر ہلاکت اور مذمت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ رہنے دو! ناپسندیدہ باتیں نہ کیا کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدگوئی اور بدزبانی کو ناپسند کرتا ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو آپ کو یوں کہہ رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏کیا میں نے ان کو (‏‏‏‏اچھے انداز میں) جواب دے نہیں دیا۔“ ‏‏‏‏پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ» ”‏‏‏‏اور جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کہتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا“ آیت کے آخر تک (‏‏‏‏سورۃ المجادلہ: ۸) [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2665]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2721

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 291 ترقیم فقہی: -- 2666
-" رأيت ليلة أسري بي رجالا تقرض شفاههم بمقاريض من نار، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ فقال: الخطباء من أمتك، يأمرون الناس بالبر وينسون أنفسهم، وهم يتلون الكتاب، أفلا يعقلون؟!".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور (‏‏‏‏السلام علیکم کی بجائے) کہا: اے محمد! «اَلسَّامُ عَلَيكُم» (‏‏‏‏یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں جواب دیا: ” «وَ عَلَيكَ» ‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَلَيكُم» (‏‏‏‏آپ پر موت ہلاکت پڑے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”‏‏‏‏ «وعليك» (‏‏‏‏اور تجھ پر بھی ہو)۔“ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناپسند کرنے کی وجہ سے (‏‏‏‏خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: «اَلسَّامُ عَلَيكُم» ۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (‏‏‏‏یہودیوں) نے «اَلسَّامُ عَلَيكُم» کہا اور ہم نے بھی (‏‏‏‏بدگوئی سے بچتے ہوئے صرف «وعليك»، کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (‏‏‏‏ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2666]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 291

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
مجلس کے آداب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1321 ترقیم فقہی: -- 2667
-" إذا انتهى أحدكم إلى المجلس فإن وسع له فليجلس وإلا فلينظر أوسع مكان يراه فليجلس فيه".
مصعب بن شیبہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی مجلس میں پہنچے اور اس کے لیے وسعت پیدا کر دی جائے تو وہ بیٹھ جائے، بصورت دیگر دیکھے کہ کون سی جگہ زیادہ وسیع ہے، وہاں جا کر بیٹھ جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2667]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1321

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3975 ترقیم فقہی: -- 2668
- (إذا قامَ أحدُكم من مجلِسه ثمّ رجعَ إليهِ؛ فهو أحقُّ به) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس سے اٹھے اور پھر واپس آ جائے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2668]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3975

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1402 ترقیم فقہی: -- 2669
-" إذا كان ثلاثة جميعا فلا يتناج اثنان دون الثالث".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین آدمی اکھٹے ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2669]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1402

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1395 ترقیم فقہی: -- 2670
-" إذا تناجى اثنان فلا تجلس إليهما حتى تستأذنهما".
سعید مقبر ی کہتے ہیں: ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کر ر ہا تھا، میں بھی وہاں جا کر بیٹھ گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ میر ے سینے میں مارا اور کہا: کیا تجھے علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی علیحدہ گفتگو کر رہے ہوں تو اجازت کے بغیر ان کے پاس مت بیٹھو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2670]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1395

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2385 ترقیم فقہی: -- 2671
-" نهى أن يجلس الرجل بين الرجلين إلا بإذنهما".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا اجازت دو آدمیوں کے درمیان بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2671]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2385

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 330 ترقیم فقہی: -- 2672
-" كنا إذا انتهينا إلى النبي صلى الله عليه وسلم جلس أحدنا حيث ينتهي".
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2672]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 330

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 228 ترقیم فقہی: -- 2673
-" لا يقوم الرجل للرجل من مجلسه، ولكن افسحوا يفسح الله لكم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی کسی کے لیے اپنی نشست سے کھڑا نہ ہو، بلکہ مجلس میں گنجائش پیدا کر لیا کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے وسعت پیدا کر دے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاداب والاستئذان/حدیث: 2673]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 228

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں