🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ فَضْلُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ:
باب: جہاد کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2782
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْءَانِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ سورة التوبة آية 111 - 112 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْحُدُودُ: الطَّاعَةُ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «إن الله اشترى من المؤمنين أنفسهم وأموالهم بأن لهم الجنة يقاتلون في سبيل الله فيقتلون ويقتلون وعدا عليه حقا في التوراة والإنجيل والقرآن ومن أوفى بعهده من الله فاستبشروا ببيعكم الذي بايعتم به‏» بیشک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لیے ہیں کہ انہیں جنت ملے گی ‘ وہ مسلمان اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح (محارب کفار کو) یہ مارتے ہیں اور خود بھی مارے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ (کہ مسلمانوں کو ان کی قربانیوں کے نتیجے میں جنت ملے گی) سچا ہے ‘ تورات میں ‘ انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کا پورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس خوش ہو جاؤ تم اپنے اس سودا کی وجہ سے جو تم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ آخر آیت «وبشر المؤمنين‏» تک ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ کی حدوں سے مراد اس کے احکام کی اطاعت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2782]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2782
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِيدَ بْنَ الْعَيْزَارِ ذَكَرَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسَكَتُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي".
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ولید بن عیزار سے سنا ‘ ان سے سعید بن ایاس ابوعمرو شیبانی نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ دین کے کاموں میں کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوالات نہیں کئے ‘ ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح ان کے جوابات عنایت فرماتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2782]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بروقت نماز ادا کرنا۔ میں نے عرض کیا: اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا۔ میں نے عرض کیا: پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے میں سکوت اختیار کیا۔ اگر میں زیادہ پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید جوابات سے نوازتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2782]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2783
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے منصور بن معتمر نے بیان کیا مجاہد سے ‘ انہوں نے طاؤس سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتح مکہ کے بعد اب ہجرت (فرض) نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت بخیر کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہوا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2783]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد اب ہجرت نہیں رہی، البتہ جہاد کرنا اور اچھی نیت کرنا اب بھی باقی ہیں اور جب تمہیں جہاد کی خاطر نکلنے کے لیے کہا جائے تو فوراً نکل پڑو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2783]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2784
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِتُرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاهِدُ، قَالَ: لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا عائشہ بنت طلحہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) نے کہ انہوں پوچھا یا رسول اللہ! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے پھر ہم (عورتیں) بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن سب سے افضل جہاد مقبول حج ہے جس میں گناہ نہ ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2784]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے خیال کے مطابق جہاد تمام اعمال سے افضل ہے، تو کیا ہم عورتیں جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے (جس میں گناہ نہ ہو)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2784]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2785
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَصِينٍ أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ، قَالَ: لَا أَجِدُهُ، قَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ، وَلَا تَفْتُرَ، وَتَصُومَ، وَلَا تُفْطِرَ، قَالَ: وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ہمام نے ‘ کہا ہم سے محمد بن حجادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے ابوحصین نے خبر دی ‘ ان سے ذکوان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب (نام نامعلوم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئیے جو ثواب میں جہاد کے برابر ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کوئی عمل میں نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اتنا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد (جہاد کے لیے) نکلے تو تم اپنی مسجد میں آ کر برابر نماز پڑھنی شروع کر دو اور (نماز پڑھتے رہو اور درمیان میں) کوئی سستی اور کاہلی تمہیں محسوس نہ ہو، اسی طرح روزے رکھنے لگو اور کوئی دن بغیر روزے کے نہ گزرے۔ ان صاحب نے عرض کیا بھلا ایسا کون کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین (پر پاؤں) مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2785]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو جہاد کے برابر ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کوئی ایسا عمل نہیں پاتا جو جہاد کے برابر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: کیا تجھ میں طاقت ہے کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تو اپنی مسجد میں داخل ہو جائے، وہاں اللہ کی عبادت کرتا رہے اور ذرہ بھر سستی نہ کرے اور تو مسلسل روزے رکھتا رہے، کوئی روزہ ترک نہ کرے؟ اس شخص نے عرض کیا: اس عمل کی کون طاقت رکھتا ہے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجاہد کا گھوڑا جب رسی میں بندھا ہوا زمین پر پاؤں مارتا ہے تو اس پر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2785]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ أَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:
باب: سب لوگوں میں افضل وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2786
وَقَوْلُهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ {10} تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ {11} يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ {12} سورة الصف آية 10-12.
‏‏‏‏ اور اللہ نے (سورۃ صف میں) فرمایا «يا أيها الذين آمنوا هل أدلكم على تجارة تنجيكم من عذاب أليم * تؤمنون بالله ورسوله وتجاهدون في سبيل الله بأموالكم وأنفسكم ذلكم خير لكم إن كنتم تعلمون * يغفر لكم ذنوبكم ويدخلكم جنات تجري من تحتها الأنهار ومساكن طيبة في جنات عدن ذلك الفوز العظيم‏» اے ایمان والو! کیا میں تم کو بتاؤں ایک ایسی تجارت جو تم کو نجات دلائے دکھ دینے والے عذاب سے ‘ وہ یہ کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے ‘ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم سمجھو ‘ اگر تم نے یہ کام انجام دیئے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا تمہارے گناہ اور داخل کرے گا تم کو ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور بہترین مکانات تم کو عطا کئے جائیں گے ‘ جنات عدن میں یہ بڑی بھاری کامیابی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2786]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2786
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ، قَالَ: مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاء بن یزید لیثی نے کہا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! کون شخص سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا وہ مومن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں رہنا اختیار کرے ‘ اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتا ہو اور لوگوں کو چھوڑ کر اپنی برائی سے ان کو محفوظ رکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2786]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں میں کون شخص افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اس کے بعد کون افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں رہنا اختیار کرے، وہاں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2786]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2787
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، بِمَنْ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ، وَتَوَكَّلَ اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِهِ، بِأَنْ يَتَوَفَّاهُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ، أَوْ غَنِيمَةٍ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو (خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے) اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔۔۔۔ اس شخص کی سی ہے جو رات میں برابر نماز پڑھتا رہے اور دن میں برابر روزے رکھتا رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے کیلئے اس کی ذمہ داری لے لی ہے کہ اگر اسے شہادت دے گا تو اسے بے حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا یا پھر زندہ و سلامت (گھر) ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2787]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال۔۔۔ اور یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کون کرتا ہے۔۔۔ اس روزہ دار کی طرح ہے جو رات بھر قیام میں مصروف رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہے کہ اسے وفات دے کر جنت میں داخل کر دے گا یا اجر و غنیمت سمیت اسے سلامتی سے واپس کرے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2787]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ الدُّعَاءِ بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ:
باب: جہاد اور شہادت کے لیے مرد اور عورت دونوں کا دعا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2788
وَقَالَ عُمَرُ:" اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي بَلَدِ رَسُولِكَ".
‏‏‏‏ اور عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! مجھے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر (مدینہ طیبہ) میں شہادت کی موت عطا فرمانا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: Q2788]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2788
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ شَكَّ إِسْحَاقُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا، قَالَ: فِي الْأَوَّلِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا امام مالک سے ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے (یہ انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں ‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لیے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے ‘ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں پہلے کی طرح ‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہو گی (جو بحری راستے سے جہاد کرے گی) چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہا نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرا دیا اور اسی حادثہ میں ان کی وفات ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2788]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلایا پلایا کرتی تھیں۔ اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ فراغت کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آگئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ خواب میں میرے سامنے لائے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی تھے اور سمندر کے وسط میں اپنی سواریوں پر سوار تھے، جیسے بادشاہ اپنے تختوں پر ہوتے ہیں یا بادشاہوں کی طرح تختوں پر براجمان ہیں۔ الفاظ کا یہ شک راویِ حدیث اسحاق کو ہوا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ اس مرتبہ بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کیے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ لڑنے کے لیے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بحری سفر اختیار کیا۔ جب وہ سمندر سے باہر نکلیں تو اپنی سواری سے گر کر ہلاک (شہید) ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں