🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3498
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مِنْ هَا هُنَا جَاءَتِ الْفِتَنُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی طرف سے فتنے اٹھیں گے یعنی مشرق سے اور بے وفائی اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں اور گایوں کی دم کے پاس چلاتے رہتے ہیں یعنی ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3498]
حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرف، یعنی مشرق سے فتنے رونما ہوں گے۔ اور بے وفائی و سنگ دلی اونی خیمے والوں میں ہے جو اونٹوں اور بیلوں کی دموں کے پاس اونچی آوازیں لگانے والے (چلانے والے) ہیں، یعنی ربیعہ اور مضر (کے لوگوں) میں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3498]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3499
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، سُمِّيَتْ الْيَمَنَ لِأَنَّهَا عَنْ يَمِينِ الْكَعْبَةِ وَالشَّأْمَ لِأَنَّهَا عَنْ يَسَارِ الْكَعْبَةِ وَالْمَشْأَمَةُ الْمَيْسَرَةُ، وَالْيَدُ الْيُسْرَى الشُّؤْمَى، وَالْجَانِبُ الْأَيْسَرُ الْأَشْأَمُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فخر اور تکبر ان چیخنے اور شور مچانے والے اونٹ والوں میں ہے اور بکری چرانے والوں میں نرم دلی اور ملائمت ہوتی ہے اور ایمان تو یمن میں ہے حکمت (حدیث) بھی یمنی ہے، ابوعبداللہ یعنی (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ یمن کا نام یمن اس لیے ہوا کہ یہ کعبہ کے دائیں جانب ہے اور شام کو شام اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کعبہ کے بائیں جانب ہے۔ «المشأمة» بائیں جانب کو کہتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کو «الشؤمى» کہتے ہیں اور بائیں جانب کو «الأشأم‏.» کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3499]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: فخر اور تکبر آواز بلند کرنے والوں (چلانے والوں) میں ہے جو اونی خیموں میں رہتے ہیں اور نرم دلی بکریاں چرانے والوں میں ہوتی ہے۔ ایمان بھی یمنی لوگوں کا قابل رشک ہے اور سوجھ بوجھ بھی اہل یمن کی معتبر ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ یمن کا نام اس لیے یمن رکھا گیا ہے کہ وہ بیت اللہ کے دائیں جانب ہے اور شام کو شام اس لیے کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے بائیں طرف ہے۔ «الْمَشْأَمَةُ» بائیں جانب کو، دائیں ہاتھ کو «الْأَيْمَنُ» اور بائیں جانب کو «الْأَشْأَمُ» کہا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3499]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ:
باب: قریش کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3500
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ، فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ، قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی جب وہ قریش کی ایک جماعت میں تھے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عنقریب (قرب قیامت میں) بنی قحطان سے ایک حکمراں اٹھے گا۔ یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے، پھر آپ خطبہ دینے اٹھے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو نہ تو قرآن مجید میں موجود ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ دیکھو! تم میں سب سے جاہل یہی لوگ ہیں۔ ان سے اور ان کے خیالات سے بچتے رہو جن خیالات نے ان کو گمراہ کر دیا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ یہ خلافت قریش میں رہے گی اور جو بھی ان سے دشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سرنگوں اور اوندھا کر دے گا جب تک وہ (قریش) دین کو قائم رکھیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3500]
محمد بن جبیر سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ قریش کے ایک وفد میں تھے کہ انہیں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ ایک بات پہنچی کہ عنقریب بنو قحطان سے ایک حکمران اٹھے گا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر بہت ناراض ہوئے، پھر خطبہ دینے کے لیے اٹھے۔ اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! مجھے اس بات کا علم ہوا ہے کہ تم میں سے کچھ حضرات ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں اور نہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے منقول ہیں۔ دیکھو! تم میں سب سے جاہل یہی لوگ ہیں، لہذا ان سے اور ان کے خیالات سے بچتے رہو۔ اس قسم کے خیالات نے انہیں گمراہ کر دیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے اور ان سے جو بھی دشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اوندھے منہ گرائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3500]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3501
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ خلافت اس وقت تک قریش کے ہاتھوں میں باقی رہے گی جب تک کہ ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3501]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خلافت قریش میں رہے گی، جب تک ان میں دو آدمی بھی (دیندار) باقی رہیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3501]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3502
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ"
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب نے اور ان سے جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو مطلب کو تو آپ نے عطا فرمایا اور ہمیں (بنی امیہ کو) نظر انداز کر دیا حالانکہ آپ کے لیے ہم اور وہ ایک ہی درجے کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یہ صحیح ہے) مگر بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3502]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بنو مطلب کو مال دیا ہے اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ ہم اور وہ آپ کے لیے (رشتہ داری میں) برابر ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3503
وَقَالَ: اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: ذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ إِلَى عَائِشَةَ وَكَانَتْ أَرَقَّ شَيْءٍ عَلَيْهِمْ لِقَرَابَتِهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد نے بیان کیا اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بنی زہرہ کے چند لوگوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی زہرہ کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتی تھیں کیونکہ ان لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3503]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: (میرے بھائی) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بنو زہرہ کے لوگوں کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہا ان لوگوں پر بڑی مہربانی کرتی تھیں کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3503]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3504
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: ح يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَأَشْجَعُ وَغِفَارُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا اور ان سے سعد بن ابراہیم نے (دوسری سند) یعقوب بن ابراہیم نے کہا کہ ہمارے والد نے ہم سے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار ان سب قبیلوں کے لوگ میرے خیرخواہ ہیں اور ان کا بھی اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی حمایتی نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3504]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار کے لوگ میرے دوست ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی دوست نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3504]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3505
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَال: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَحَبَّ الْبَشَرِ إِلَى عَائِشَةَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِهَا وَكَانَتْ لَا تُمْسِكُ شَيْئًا مِمَّا جَاءَهَا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا تَصَدَّقَتْ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: يَنْبَغِي أَنْ يُؤْخَذَ عَلَى يَدَيْهَا، فَقَالَتْ: أَيُؤْخَذُ عَلَى يَدَيَّ عَلَيَّ نَذْرٌ إِنْ كَلَّمْتُهُ فَاسْتَشْفَعَ إِلَيْهَا بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَبِأَخْوَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً فَامْتَنَعَتْ، فَقَالَ لَهُ: الزُّهْرِيُّونَ أَخْوَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ إِذَا اسْتَأْذَنَّا فَاقْتَحِمْ الْحِجَابَ فَفَعَلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِعَشْرِ رِقَابٍ فَأَعْتَقَتْهُمْ ثُمَّ لَمْ تَزَلْ تُعْتِقُهُمْ حَتَّى بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ، فَقَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي جَعَلْتُ حِينَ حَلَفْتُ عَمَلًا أَعْمَلُهُ فَأَفْرُغُ مِنْهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سب سے زیادہ محبت تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رزق بھی ان کو ملتا وہ اسے صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے (کسی سے) کہا ام المؤمنین کو اس سے روکنا چاہیے (جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی بات پہنچی) تو انہوں نے کہا: کیا اب میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا، اب اگر میں نے عبداللہ سے بات کی تو مجھ پر نذر واجب ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے (عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے) قریش کے چند لوگوں اور خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نانہالی رشتہ داروں (بنو زہرہ) کو ان کی خدمت میں معافی کی سفارش کے لیے بھیجا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا پھر بھی نہ مانیں۔ اس پر بنو زہرہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہوتے تھے اور ان میں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب ہم ان کی اجازت سے وہاں جا بیٹھیں تو تم ایک دفعہ آن کر پردہ میں گھس جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا (جب عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں تو) انہوں نے ان کی خدمت میں دس غلام (آزاد کرانے کے لیے بطور کفارہ قسم) بھیجے اور ام المؤمنین نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر آپ برابر غلام آزاد کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیئے پھر انہوں نے کہا کاش میں نے جس وقت قسم کھائی تھی (منت مانی تھی) تو میں کوئی خاص چیز بیان کر دیتی جس کو کر کے میں فارغ ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3505]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد تمام لوگوں سے زیادہ قابل احترام تھے اور وہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بڑے خدمت گزار تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ ان کے پاس جو رزق اللہ کی طرف سے آتا وہ اس میں سے کچھ نہ رکھتیں بلکہ سارے کا سارا صدقہ کر دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: انہیں (ام المومنین رضی اللہ عنہا کو) اس قدر خرچ کرنے سے روک دینا چاہیے۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ میرے ہاتھ پر پابندی لگانا چاہتا ہے؟ اب اگر میں نے ان سے بات کی تو مجھ پر نذر واجب ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قریش کے چند لوگوں، خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموؤں سے سفارش کرائی لیکن آپ رضی اللہ عنہا نہ مانیں۔ بنو زہرہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہیں، ان میں سے عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب ہم ان کی اجازت سے وہاں جا بیٹھیں تو تم فوراً پردہ میں گھس آنا، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ (جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں) تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کے پاس دس غلام بھیجے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہا مسلسل غلام آزاد کرتی رہیں یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیے، پھر انہوں نے فرمایا: کاش! میں نے جس وقت قسم اٹھائی تھی تو نذر خاص کر لیتی جس کو ادا کر کے میں فارغ ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3505]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ نَزَلَ الْقُرْآنُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ:
باب: قرآن کا قریش کی زبان میں نازل ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ" لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ فَفَعَلُوا ذَلِكَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو بلایا (اور ان کو قرآن مجید کی کتابت پر مقرر فرمایا، چنانچہ ان حضرات نے) قرآن مجید کو کئی مصحفوں میں نقل فرمایا اور عثمان رضی اللہ عنہ نے (ان چاروں میں سے) تین قریشی صحابہ سے فرمایا تھا کہ جب آپ لوگوں کا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے (جو مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے) قرآن کے کسی مقام پر (اس کے کسی محاورے میں) اختلاف ہو جائے تو اس کو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیونکہ قرآن شریف قریش کے محاورہ میں نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3506]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمان بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے قرآن مجید کو مصاحف میں نقل فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین قریشی صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا: جب تمہارا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قرآن کے کسی مقام کے متعلق اختلاف ہو جائے تو اسے محاورہ قریش کے مطابق لکھیں کیونکہ قرآن کریم انہی کے محاورے کے مطابق نازل ہوا ہے، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ نِسْبَةِ الْيَمَنِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ مِنْهُمْ أَسْلَمُ بْنُ أَفْصَى بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ مِنْ خُزَاعَةَ:
باب: یمن والوں کا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہونا قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر اہل یمن میں سے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3507
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ، فَقَالَ:" ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ: مَا لَهُمْ قَالُوا وَكَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ، قَالَ: ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے صحابہ کی طرف سے گزرے جو بازار میں تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد اسماعیل! خوب تیر اندازی کرو کہ تمہارے باپ اسماعیل علیہ السلام بھی تیرانداز تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں، یہ سن کر دوسری جماعت والوں نے ہاتھ روک لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جب آپ دوسرے فریق کے ساتھ ہو گئے تو پھر ہم کیسے تیر اندازی کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم تیر اندازی جاری رکھو۔ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3507]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے چند لوگوں کے پاس تشریف لائے جو بازار میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فرزندان اسماعیل! تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارا باپ (حضرت اسماعیل علیہ السلام) بھی تیر انداز تھا اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ یہ فریقین میں سے کسی ایک کو کہا۔ ان لوگوں نے تیر اندازی سے اپنے ہاتھ روک لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کیا ہو گیا ہے؟ وہ عرض کرنے لگے: ہم کیسے تیر اندازی کریں جبکہ آپ فلاں قبیلے کے ہمراہ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تیر اندازی کرو۔ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3507]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں