صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3508
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن واقد نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3508]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص دانستہ طور پر اپنے آپ کو حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے۔ اور جو شخص ایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں اس کا کوئی رشتہ نہ ہو تو وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3508]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَا لَمْ تَرَ أَوْ، يَقُولُ: عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ".
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالواحد بن عبداللہ نصری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑا بہتان اور سخت جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ کہے یا جو چیز اس نے خواب میں نہیں دیکھی۔ اس کے دیکھنے کا دعویٰ کرے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی حدیث منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3509]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی دوسرے کو باپ خیال کرے، یا اپنی آنکھ کی طرف ایسی بات دیکھنے کی نسبت کرے جو اس نے نہیں دیکھی، یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات لگائے جو آپ نے نہیں فرمائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي كُلِّ شَهْرٍ حَرَامٍ فَلَوْ أَمَرْتَنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنُبَلِّغُهُ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَى اللَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان (راستے میں) کفار مضر کا قبیلہ پڑتا ہے، اس لیے ہم آپ کی خدمت اقدس میں صرف حرمت کے مہینوں میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں۔ مناسب ہوتا اگر آپ ہمیں ایسے احکام بتلا دیتے جن پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہتے اور جو لوگ ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں بھی بتا دیتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، اول اللہ پر ایمان لانے کا، یعنی اس کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنے کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں مال غنیمت ملے اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کو (یعنی امام وقت کے بیت المال کو) ادا کرو اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت (کے استعمال) سے منع کرتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3510]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ قبیلہ عبدقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں آسکتے ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں فیصلہ کن باتیں بتائیں جن پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہیں اور جو لوگ ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں بھی بتا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے منع کرتا ہوں: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا اور جو کچھ بھی تمہیں مال غنیمت ملے اس میں سے اللہ کے لیے پانچواں حصہ ادا کرنا۔ اور میں تمہیں کدو کے برتن، سبز مٹکے، لکڑی کرید کر بنائے ہوئے برتنوں اور تارکول شدہ برتنوں (میں نبیذ بنانے) سے منع کرتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3510]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے ”آگاہ ہو جاؤ اس طرف سے فساد پھوٹے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے یہ جملہ فرمایا، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3511]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا: ”آگاہ ہو جاؤ! اس طرف فتنہ رونما ہوگا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ”جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3511]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
6. بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ:
باب: اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع قبیلوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ، وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے خیرخواہ ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کوئی ان کا حمایتی نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3512]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے حمایتی اور دوست ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی دوست نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3512]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عَلَى الْمِنْبَرِ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے صالح نے، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا ”قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3513]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا: ”قبیلہ غفار کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، قبیلہ اسلم کو سلامتی دے اور قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3513]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں محمد نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ”قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3514]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا» قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ سالم رکھے اور قبیلہ غفار کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3514]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي أَسَدٍ وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، فَقَالَ: رَجُلٌ خَابُوا وَخَسِرُوا، فَقَالَ هُمْ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَمِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بتاؤ کیا جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ کے مقابلے میں بہتر ہیں؟“ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے کہا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ چاروں قبیلے بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلوں سے بہتر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3515]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار قبائل بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: یہ قبیلے تو نقصان میں رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مذکورہ قبیلے، بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَأَحْسِبُهُ وَجُهَيْنَةَ ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ شَكَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَأَحْسِبُهُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ خَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَخَيْرٌ مِنْهُمْ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ سے ان لوگوں نے بیعت کی ہے کہ جو حاجیوں کا سامان چرایا کرتے تھے یعنی اسلم اور غفار اور مزینہ کے لوگ، محمد بن ابی یعقوب نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں عبدالرحمٰن نے جہینہ کا بھی ذکر کیا، شعبہ نے کہا کہ یہ شک محمد بن ابی یعقوب کو ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بتلاؤ اسلم، غفار، مزینہ، اور میں سمجھتا ہوں کہ جہینہ کو بھی کہا یہ چاروں قبیلے بنی تمیم، بنی عامر اور اسد اور غطفان سے بہتر نہیں ہیں؟ کیا یہ (مؤخرالذکر) خراب اور برباد نہیں ہوئے؟“ اقرع نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ ان سے بہتر ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3516]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ میں سے ان لوگوں نے آپ کی بیعت کی ہے جو حاجیوں کا سامان چوری کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتاؤ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ اگر بنو تمیم، بنو عامر، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا وہ خسارے میں رہیں گے؟“ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قبائل ان قبائل سے بہت بہتر ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3516]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3516M
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ:" أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ أَوْ، قَالَ: شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ أَوْ، قَالَ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَتَمِيمٍ وَهَوَازِنَ وَغَطَفَانَ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے کچھ لوگ یا انہوں نے بیان کیا کہ مزینہ کے کچھ لوگ یا (بیان کیا کہ) جہینہ کے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یا بیان کیا کہ قیامت کے دن قبیلہ اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3516M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة