🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. سورة الفاتحة:
باب: سورۃ فاتحہ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4474-2
n
‏‏‏‏ . [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4474-2]

1. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ:
باب: سورۃ الفاتحہ کے بارے میں جو آیا ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4474
وَسُمِّيَتْ أُمَّ الْكِتَابِ أَنَّهُ يُبْدَأُ بِكِتَابَتِهَا فِي الْمَصَاحِفِ وَيُبْدَأُ بِقِرَاءَتِهَا فِي الصَّلَاةِ، وَالدِّينُ الْجَزَاءُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَمَا تَدِينُ تُدَانُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: بِالدِّينِ بِالْحِسَابِ مَدِينِينَ مُحَاسَبِينَ.
‏‏‏‏ «أم»، ماں کو کہتے ہیں۔ «أم الكتاب» اس سورۃ کا نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ قرآن مجید میں اسی سے کتابت کی ابتداء ہوتی ہے۔ (اسی لیے اسے «فاتحة الكتاب» بھی کہا گیا ہے) اور نماز میں بھی قرآت اسی سے شروع کی جاتی ہے اور «الدين» بدلہ کے معنی میں ہے۔ خواہ اچھائی میں ہو یا برائی میں جیسا کہ (بولتے ہیں) «كما تدين تدان‏.‏» (جیسا کرو گے ویسا بھرو گے)۔ مجاہد نے کہا کہ «الدين» حساب کے معنیٰ میں ہے جبکہ «مدينين‏» بمعنیٰ «محاسبين‏» ہے یعنی حساب کئے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4474]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4474
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ:" أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، ثُمَّ قَالَ لِي:" لَأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ"، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، قُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَقُلْ لَأُعَلِّمَنَّكَ سُورَةً هِيَ أَعْظَمُ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی حالت میں بلایا، میں نے کوئی جواب نہیں دیا (پھر بعد میں، میں نے حاضر ہو کر) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم‏» اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورت کی تعلیم دوں گا جو قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور جب آپ باہر نکلنے لگے تو میں نے یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «الحمد لله رب العالمين‏» یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4474]
حضرت ابو سعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی لیکن میں اس وقت حاضر نہ ہو سکا۔ (نماز پڑھ کر آپ کے پاس آیا) تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھنے میں مصروف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی نہیں: ﴿اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جب وہ تمہیں بلائیں﴾ [سورة الأنفال: 24] ؟ پھر فرمایا: میں تیرے مسجد سے باہر جانے سے قبل تجھے ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑھ کر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے باہر آنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں تجھے ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑھ کر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورت ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] یعنی فاتحہ ہے۔ یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4474]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ}:
باب: آیت «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4475
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ سُمَيٍّ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ، فَمَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين‏» کہے تو تم «آمين‏.‏» کہو کیونکہ جس کا یہ کہنا ملائکہ کے کہنے کے ساتھ ہو جائے اس کی تمام پچھلی خطائیں معاف ہو جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4475]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم «آمِيْن» آمین کہو کیونکہ جس کی «آمِيْن» آمین فرشتوں کی «آمِيْن» آمین کے موافق ہوئی اس کے سابقہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4475]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. سورة الْبَقَرَةِ:
باب: سورۃ البقرہ کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4476
n
‏‏‏‏ . [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4476]

1. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ: {وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا}:
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وعلم آدم الأسماء كلها» کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4476
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ,حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: أَنْتَ أَبُو النَّاسِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ، فَيَسْتَحِي ائْتُوا نُوحًا، فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ سُؤَالَهُ رَبَّهُ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحِي، فَيَقُولُ: ائْتُوا خَلِيلَ الرَّحْمَنِ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمُ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيَذْكُرُ قَتْلَ النَّفْسِ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحِي مِنْ رَبِّهِ، فَيَقُولُ: ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ، وَكَلِمَةَ اللَّهِ وَرُوحَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمُ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَأْتُونِي، فَأَنْطَلِقُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنَ لِي، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي مِثْلَهُ، ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ، فَأَقُولُ: مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ وَوَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ يَعْنِي قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى خَالِدِينَ فِيهَا سورة البقرة آية 162.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومنین قیامت کے دن پریشان ہو کر جمع ہوں گے اور (آپس میں) کہیں گے، بہتر یہ تھا کہ اپنے رب کے حضور میں آج کسی کو ہم اپنا سفارشی بناتے۔ چنانچہ سب لوگ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونگے اور عرض کریں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں سفارش کر دیں تاکہ آج کی مصیبت سے ہمیں نجات ملے۔ آدم علیہ السلام کہیں گے، میں اس کے لائق نہیں ہوں، وہ اپنی لغزش کو یاد کریں گے اور ان کو پروردگار کے حضور میں جانے سے شرم آئے گی۔ کہیں گے کہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (میرے بعد) زمین والوں کی طرف مبعوث کیا تھا۔ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں اور وہ اپنے رب سے اپنے سوال کو یاد کریں گے جس کے متعلق انہیں کوئی علم نہیں تھا۔ ان کو بھی شرم آئے گی اور کہیں گے کہ اللہ کے خلیل علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا اور تورات دی تھی۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی عذر کر دیں گے کہ مجھ میں اس کی جرات نہیں۔ ان کو بغیر کسی حق کے ایک شخص کو قتل کرنا یاد آ جائے گا اور اپنے رب کے حضور میں جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہو گی۔ کہیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں لیکن عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے کہ مجھ میں اس کی ہمت نہیں، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ نے ان کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور اپنے رب سے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی، پھر میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا میں سجدہ میں رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ اور جو چاہو مانگو، تمہیں دیا جائے گا، جو چاہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی۔ شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ حمد بیان کروں گا جو مجھے اس کی طرف سے سکھائی گئی ہو گی۔ اس کے بعد شفاعت کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں داخل کراؤں گا چوتھی مرتبہ جب میں واپس آؤں گا تو عرض کروں گا کہ جہنم میں ان لوگوں کے سوا اور کوئی اب باقی نہیں رہا جنہیں قرآن نے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ضروری قرار دے دیا ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قرآن کی رو سے دوزخ میں قید رہنے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے «خالدين فيها‏» کہا گیا ہے۔ کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4476]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگ جمع ہو کر مشورہ کریں گے کہ آج ہم اپنے پروردگار کے حضور کسی کو سفارش بنائیں، چنانچہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آ کر عرض کریں گے: آپ لوگوں کے باپ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور تمام فرشتوں سے سجدہ کروایا، نیز آپ کو تمام نام سکھائے، لہٰذا آپ اپنے پروردگار کے حضور ہماری سفارش کریں کہ وہ ہمیں اس (تکلیف دہ) جگہ سے (نکال کر) راحت و آرام دے۔ وہ کہیں گے: آج میں اس قابل نہیں ہوں اور وہ اپنا گناہ یاد کر کے اللہ سے شرمائیں گے اور کہیں گے: تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے رسول بنا کر اہل زمین کی طرف بھیجا تھا۔ سب لوگ ان کے پاس آئیں گے تو وہ جواب دیں گے کہ آج میں اس قابل نہیں ہوں۔ وہ بھی اپنا گناہ یاد کر کے شرمائیں گے کہ انہوں نے اپنے رب سے ایک ایسا سوال کیا تھا جس کے متعلق انہیں کوئی علم نہ تھا۔ پھر وہ کہیں گے: تم سب خلیل الرحمن (ابراہیم علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں۔ تم سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا اور انہیں تورات عطا فرمائی تھی۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن وہ عذر کر دیں گے کہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں۔ انہیں ایک شخص کا قتلِ ناحق یاد آئے گا اور انہیں اپنے رب کے حضور جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہو گی۔ وہ کہیں گے: تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، نیز اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے: مجھ میں اس کی ہمت نہیں۔ تم سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں، چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو مجھے اجازت مل جائے گی۔ پھر میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور جب تک اللہ چاہے گا میں سجدے میں رہوں گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھاؤ اور جو چاہو مانگو۔ تمہیں دیا جائے گا۔ جو چاہو کہو۔ تمہاری بات سنی جائے گی۔ سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ اس وقت میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور جیسے اللہ تعالیٰ نے مجھے تعلیم دی ہو گی ویسے ہی اس کی حمد و ثنا بجا لاؤں گا۔ پھر میں سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں داخل کر آؤں گا۔ پھر دوبارہ اللہ کے حضور آؤں گا تو اپنے رب کو پہلے کی طرح دیکھوں گا اور سفارش کروں گا۔ اس مرتبہ پھر میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں داخل کر آؤں گا۔ پھر تیسری مرتبہ کے بعد جب میں چوتھی مرتبہ واپس آؤں گا تو عرض کروں گا کہ اب جہنم میں ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا جن کا قرآن نے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ضروری قرار دے دیا ہے۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ قرآن کی رو سے دوزخ میں بند رہنے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے ﴿خَالِدِينَ فِيهَا﴾ [سورة البقرة: 162] کہا گیا ہے کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4476]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4477
قَالَ مُجَاهِدٌ: إِلَى شَيَاطِينِهِمْ: أَصْحَابِهِمْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُشْرِكِينَ، مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ، اللَّهُ جَامِعُهُمْ عَلَى الْخَاشِعِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَقًّا، قَالَ مُجَاهِدٌ: بِقُوَّةٍ يَعْمَلُ بِمَا فِيهِ، وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: مَرَضٌ شَكٌّ وَمَا خَلْفَهَا عِبْرَةٌ لِمَنْ بَقِيَ لَا شِيَةَ لَا بَيَاضَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: يَسُومُونَكُمْ يُولُونَكُمُ الْوَلَايَةُ مَفْتُوحَةٌ مَصْدَرُ الْوَلَاءِ وَهِيَ الرُّبُوبِيَّةُ إِذَا كُسِرَتِ الْوَاوُ فَهِيَ الْإِمَارَةُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْحُبُوبُ الَّتِي تُؤْكَلُ كُلُّهَا فُومٌ، وَقَالَ قَتَادَةُ: فَبَاءُوا فَانْقَلَبُوا، وَقَالَ غَيْرُهُ: يَسْتَفْتِحُونَ يَسْتَنْصِرُونَ شَرَوْا بَاعُوا رَاعِنَا مِنَ الرُّعُونَةِ إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُحَمِّقُوا إِنْسَانًا، قَالُوا رَاعِنًا لَا يَجْزِي لَا يُغْنِي خُطُوَاتِ مِنَ الْخَطْوِ وَالْمَعْنَى آثَارَهُ ابْتَلَى اخْتَبَرَ.
‏‏‏‏ مجاہد نے کہا «إلى شياطينهم‏» سے ان کے دوست منافق اور مشرک مراد ہیں۔ «محيط بالكافرين‏» کے معنی اللہ کافروں کو اکٹھا کرنے والا ہے۔ «على الخاشعين‏» میں «خاشعين‏» سے مراد پکے ایماندار ہیں۔ «بقوة‏» یعنی اس پر عمل کر کے قوت سے یہی مراد ہے۔ ابوالعالیہ نے کہا «مرض‏» سے «شك» مراد ہے۔ «صبغة» سے دین مراد ہے۔ «وما خلفها‏» یعنی پچھلے لوگوں کے لیے عبرت جو باقی رہی۔ «وما خلفها‏» کا معنی اس میں سفیدی نہیں اور ابوالعالیہ کے سوا نے کہا «يسومونكم‏» کا معنی تم پر اٹھاتے تھے یا تم کو ہمیشہ تکلیف پہنچاتے تھے۔ اور (سورۃ الکہف میں) «الولاية‏» بفتح واؤ ہے جس کے معنی «ربوبية» یعنی خدائی کے ہیں۔ اور «ولاية‏» بکسر واؤ اس کے معنی سرداری کے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا جن جن اناجوں کو لوگ کھاتے ہیں ان کو «فوم‏.‏» کہتے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کو ثوم پڑھا ہے یعنی لہسن کے معنی میں لیا ہے۔ «فادارأتم» کا معنی تم نے آپس میں جھگڑا کیا۔ قتادہ نے کہا «فباءوا‏» یعنی لوٹ گئے اور قتادہ کے سوا دوسرے شخص (ابو عبیدہ) نے کہا «يستفتحون‏» کا معنی مدد مانگتے تھے۔ «شروا‏» کے معنی بیجا۔ لفظ «راعنا‏» «رعونة» سے نکلا ہے۔ عرب لوگ جب کسی کو احمق بناتے تو اس کو لفظ «راعنا‏» سے پکارتے۔ «لا يجزي‏» کچھ کام نہ آئے گی۔ «ابتلي» کے معنی آزمایا جانچا۔ «خطوات‏» لفظ «خطو» بمعنی قدم کی جمع ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4477]

3. بَابُ قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَلاَ تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}:
باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد «فلا تجعلوا لله أندادا وأنتم تعلمون» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4477
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ"، قُلْتُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ تَخَافُ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ"، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو برابر ٹھہراؤ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو پید اکیا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ تو واقعی سب سے بڑا گناہ ہے، پھر اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4477]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا: یہ تو واقعی بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4477]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ}:
باب: آیت کی تفسیر ”اور تم پر ہم نے بادل کا سایہ کیا، اور تم پر ہم نے من و سلویٰ اتارا اور کہا کہ کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے نے خود اپنے نفسوں پر ظلم کیا“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4478
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْمَنُّ: صَمْغَةٌ، وَالسَّلْوَى: الطَّيْرُ.
‏‏‏‏ آیت مذکورہ کی تفسیر میں مجاہد نے کہا کہ «من» ایک درخت کا گوند تھا اور «سلوىا» پرندے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4478]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4478
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «كمأة» (یعنی کھنبی) بھی «من» کی قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کی دوا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4478]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی من کی قسم سے ہے اور اس کا پانی آنکھ (کی بیماریوں) کے لیے شفا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں