صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ الأَكْلِ مُتَّكِئًا:
باب: تکیہ لگا کر کھانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5399
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ:" لَا آكُلُ وَأَنَا مُتَّكِئٌ".
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں علی ابن الاقمر نے اور ان سے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5399]
حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھا کہ آپ نے اپنے پاس موجود ایک آدمی (صحابی) سے فرمایا: «لَا آكُلُ مُتَّكِئًا» ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5399]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
14. بَابُ الشِّوَاءِ:
باب: بھنا ہوا گوشت کھانا۔
حدیث نمبر: Q5400
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ سورة هود آية 69 أَيْ مَشْوِيٍّ.
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «أن جاء بعجل حنيذ» ”پھر وہ بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے“۔ لفظ «حنيذ» کے معنی بھنا ہوا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5400]
حدیث نمبر: 5400
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ لِيَأْكُلَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ ضَبٌّ، فَأَمْسَكَ يَدَهُ، فَقَالَ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ". قَالَ مَالِكٌ: عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوامامہ بن سہل نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھنا ہوا ساہنہ پیش کیا گیا تو آپ اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے۔ اسی وقت آپ کو بتایا گیا کہ یہ ساہنہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس لیے طبیعت اسے گوارا نہیں کرتی۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ امام مالک نے ابن شہاب سے «ضب محنوذ.» (یعنی بھنا ہوا ساہنہ «ضب مشوی» کی جگہ «محنوذ.» نقل کیا، دونوں لفظوں کا ایک معنی ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5400]
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ بھنا ہوا سانڈا پیش کیا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آپ سے کہا گیا: ”یہ تو سانڈا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر دست مبارک روک لیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حرام تو نہیں) لیکن میری قوم کی سرزمین میں نہیں پایا جاتا اس لیے میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں۔“ چنانچہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے کھانا شروع کر دیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ امام مالک نے ابن شہاب سے «ضَبٍّ مَشْوِيٍّ» کے بجائے «ضَبٍّ مَحْنُوذٍ» کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5400]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
15. بَابُ الْخَزِيرَةِ:
باب: خزیرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q5401
قَالَ النَّضْرُ:" الْخَزِيرَةُ مِنَ النُّخَالَةِ وَالْحَرِيرَةُ مِنَ اللَّبَنِ".
اور نضر بن شمیل نے کہا کہ «خزيرة» بھوسی سے بنتا ہے اور «حريرة» دودھ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5401]
حدیث نمبر: 5401
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ،" أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ: سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ عِتْبَانُ: فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ لِي: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ فَصَفَفْنَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ فَثَابَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ، فَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُلْ أَلَا تَرَاهُ، قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ، قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: قُلْنَا: فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ، مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ وَكَانَ مِنْ سَرَاتِهِمْ، عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودٍ، فَصَدَّقَهُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے امام لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے خبر دی کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور قبیلہ انصار کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بصارت کمزور ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ برسات میں وادی جو میرے اور ان کے درمیان حائل ہے۔ بہنے لگتی ہے اور میرے لیے ان کی مسجد میں جانا اور ان میں نماز پڑھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے یا رسول اللہ! میری یہ خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں اور میرے گھر میں آپ نماز پڑھیں تاکہ میں اسی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ میں جلد ہی ایسا کروں گا۔ عتبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاشت کے وقت جب سورج کچھ بلند ہو گیا تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے آپ کو اجازت دے دی۔ آپ بیٹھے نہیں بلکہ گھر میں داخل ہو گئے اور دریافت فرمایا کہ اپنے گھر میں کس جگہ تم پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور (نماز کے لیے) تکبیر کہی۔ ہم نے بھی (آپ کے پیچھے) صف بنا لی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ (حریرہ کی ایک قسم) کے لیے جو آپ کے لیے ہم نے بنایا تھا روک لیا۔ گھر میں قبیلہ کے بہت سے لوگ آ آ کر جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا مالک بن دخشن کہاں ہیں؟ اس پر کسی نے کہا کہ وہ تو منافق ہے اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اقرار کیا ہے کہ «لا إله إلا الله» یعنی اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ ان صحابی نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) لیکن ہم ان کی توجہ اور ان کا لگاؤ منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ نے دوزخ کی آگ کو اس شخص پر حرام کر دیا ہے جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیا ہو اور اس سے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہو۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے ایک فرد اور ان کے سردار تھے۔ محمود کی حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5401]
حضرت محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ صاحب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انصاری صحابہ میں سے ہیں، انہوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی تھی، انہوں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو چکی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں، موسم برسات میں یہ نالا بہہ پڑتا ہے جو میرے لیے ان کی مسجد میں جانا اور انہیں نماز پڑھانا ممکن نہیں رہتا۔ اللہ کے رسول! میری انتہائی خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں اور وہاں نماز پڑھیں تو میں اس جگہ کو اپنے لیے ”جائے نماز“ قرار دے لوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ جلد ہی ایسا کروں گا۔“ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دن چاشت کے وقت جب سورج کچھ بلند ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تشریف لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اجازت دے دی۔ جب آپ گھر میں داخل ہوئے تو بیٹھے بغیر ہی آپ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر میں کس جگہ کو پسند کرتے ہو کہ میں وہاں نماز پڑھوں؟“ میں نے گھر کے ایک کونے کی نشاندہی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیر کہی۔ ہم نے آپ کے پیچھے صف بنا لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیر دیا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ پیش کرنے کے لیے روک لیا جو ہم نے خود تیار کیا تھا، گھر میں قبیلے کے بہت سے لوگ جمع ہو گئے، ان میں سے کسی نے کہا: ”مالک بن دخشن کہاں ہیں؟“ کسی نے کہا: ”وہ تو منافق ہے، اسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کہو، کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کیا ہے اور اس اقرار سے اس کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔“ (صحابی) نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، ہم نے تو اس لیے یہ بات کہی تھی کہ ہم اس کی توجہ اور اس کا لگاؤ منافقین کے ساتھ دیکھتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کرے اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہو تو اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ ایسے شخص پر حرام کر دی ہے۔“ (راوئ حدیث) حضرت ابن شہاب کہتے ہیں: پھر میں نے قبیلہ بنو سالم کے ایک فرد، ان کے سردار حضرت حصین بن محمد انصاری رضی اللہ عنہ سے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5401]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
16. بَابُ الأَقِطِ:
باب: پنیر کا بیان۔
حدیث نمبر: Q5402
وَقَالَ حُمَيْدٌ: سَمِعْتُ أَنَسًا بَنَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَفِيَّةَ، فَأَلْقَى التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو: عَنْ أَنَسٍ،" صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْسًا".
اور حمید نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو (دعوت ولیمہ میں) کھجور، پنیر اور گھی رکھا اور عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور، پنیر اور گھی کا) ملیدہ بنایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5402]
حدیث نمبر: 5402
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِبَابًا وَأَقِطًا وَلَبَنًا، فَوُضِعَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَتِهِ، فَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُوضَعْ وَشَرِبَ اللَّبَنَ وَأَكَلَ الْأَقِطَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میری خالہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت، پنیر اور دودھ ہدیتاً پیش کیا تو ساہنہ کا گوشت آپ کے دستر خوان پر رکھا گیا اور اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہیں رکھا جا سکتا تھا لیکن آپ نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5402]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میری خالہ (ام حفید رضی اللہ عنہا) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے، پنیر اور دودھ بطور تحفہ بھیجے، سانڈا آپ کے دسترخوان پر رکھا گیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو آپ کے دسترخوان پر نہ رکھا جاتا، آپ نے دودھ نوش فرمایا اور پنیر کھا لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5402]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
17. بَابُ السِّلْقِ وَالشَّعِيرِ:
باب: چقندر اور جَو کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5403
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" إِنْ كُنَّا لَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَأْخُذُ أُصُولَ السِّلْقِ، فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ لَهَا، فَتَجْعَلُ فِيهِ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ إِذَا صَلَّيْنَا زُرْنَاهَا، فَقَرَّبَتْهُ إِلَيْنَا وَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَمَا كُنَّا نَتَغَدَّى وَلَا نَقِيلُ إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ وَاللَّهِ مَا فِيهِ شَحْمٌ وَلَا وَدَكٌ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں جمعہ کے دن بڑی خوشی رہتی تھی۔ ہماری ایک بوڑھی خاتون تھیں وہ چقندر کی جڑیں لے کر اپنی ہانڈی میں پکاتی تھیں، اوپر سے کچھ دانے جَو کے اس میں ڈال دیتی تھیں۔ ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر ان کی ملاقات کو جاتے تو وہ ہمارے سامنے یہ کھانا رکھتی تھیں۔ جمعہ کے دن ہمیں بڑی خوشی اسی وجہ سے رہتی تھی۔ ہم نماز جمعہ کے بعد ہی کھانا کھایا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! نہ اس میں چربی ہوتی تھی نہ گھی اور جب بھی ہم مزے سے اس کو کھاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5403]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہمیں جمعہ کے دن بڑی خوشی ہوتی تھی کیونکہ ہمارے ہاں ایک بوڑھی خاتون تھیں جو چقندر کی جڑیں لے کر ہنڈیا میں پکاتیں، اوپر سے جو کے دانے اس میں ڈال دیتی تھیں۔ جب ہم نمازِ جمعہ سے فارغ ہوتے اور اس سے ملنے کے لیے جاتے تو وہ ہمارے سامنے یہ کھانا رکھ دیتی تھیں، ہمیں اس وجہ سے جمعہ کے دن بڑی خوشی ہوتی تھی۔ اور ہم جمعہ کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! اس (پکوان) میں نہ چربی ہوتی اور نہ چکناہٹ ہی ہوتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5403]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
18. بَابُ النَّهْسِ وَانْتِشَالِ اللَّحْمِ:
باب: گوشت کے پکنے سے پہلے اسے ہانڈی سے نکال کر کھانا اور منہ سے نوچنا۔
حدیث نمبر: 5404
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" تَعَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کی ہڈی کا گوشت کھایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز کے لیے نیا) وضو نہیں کیا اور (اسی سند سے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5404]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کا گوشت نوچ کر کھایا، پھر اٹھ کر نماز پڑھی لیکن آپ نے نیا وضو نہیں کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5404]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5405
وَعَنْ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" انْتَشَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرْقًا مِنْ قِدْرٍ، فَأَكَلَ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ایوب اور عاصم سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکتی ہوئی ہنڈیا میں سے ادھ کچی بوٹی نکالی اور اسے کھایا پھر نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5405]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیا سے نیم پختہ گوشت والی ہڈی نکالی، اسے کھایا، پھر نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5405]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة