🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ السَّوِيقِ:
باب: ستو کھانے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5390
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ،" أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ عَلَى رَوْحَةٍ مِنْ خَيْبَرَ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا سَوِيقًا فَلَاكَ مِنْهُ، فَلُكْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثُمَّ صَلَّى وَصَلَّيْنَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے، انہیں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام صہبا میں تھے۔ وہ خیبر سے ایک منزل پر ہے۔ نماز کا وقت قریب تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پھانک لیا اور ہم نے بھی پھانکا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور کلی کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ نے (اس نماز کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5390]
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صہباء مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ یہ مقام خیبر سے ایک منزل کے فاصلے پر ہے، نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا، ستو کے علاوہ اور کچھ دستیاب نہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی تناول فرمائے۔ ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا، کلی کی اور نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5390]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ يَأْكُلُ حَتَّى يُسَمَّى لَهُ فَيَعْلَمُ مَا هُوَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کھانا (جو پہچانا نہ جاتا) نہ کھاتے جب تک لوگ بتلا نہ دیتے کہ فلانا کھانا ہے اور آپ کو جب تک معلوم نہ ہو جاتا نہ کھاتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ" دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدْ قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ، فَقَدَّمَتِ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَلَّمَا يُقَدِّمُ يَدَهُ لِطَعَامٍ حَتَّى يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّى لَهُ فَأَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الضَّبِّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ: أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ، هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيَّ".
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن یعلیٰ نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے ابوامامہ بن سہل بن حنیف انصاری نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جو سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کے لقب سے مشہور ہیں، خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے۔ ام المؤمنین ان کی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ہیں۔ ان کے یہاں بھنا ہوا ساہنہ موجود تھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں۔ انہوں نے وہ بھنا ہوا ساہنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ ایسا بہت کم ہوتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کھانے کے لیے اس وقت تک ہاتھ بڑھائیں جب تک آپ کو اس کے متعلق بتا نہ دیا جائے کہ یہ فلاں کھانا ہے لیکن اس دن آپ نے بھنے ہوئے ساہنے کے گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اتنے میں وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا کیوں نہیں دیتیں کہ اس وقت آپ کے سامنے جو تم نے پیش کیا ہے وہ ساہنہ ہے، یا رسول اللہ! (یہ سن کر) آپ نے اپنا ہاتھ ساہنہ سے ہٹا لیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! کیا ساہنہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں لیکن یہ میرے ملک میں چونکہ نہیں پایا جاتا، اس لیے طبیعت پسند نہیں کرتی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھایا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5391]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنہیں اللہ کی تلوار کہا جاتا ہے، نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اپنی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ ان کے پاس بھنا ہوا سانڈا تھا جو ان کی ہمشیرہ حضرت حفیدہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نجد سے لائی تھیں، انہوں نے یہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھائیں حتیٰ کہ بتایا جاتا کہ یہ کیا ہے اور اس چیز کا نام لیا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا: جو کچھ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ یہ سانڈا ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ میری قوم کی سرزمین میں نہیں ہوتا، اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھانا شروع کر دیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5391]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ:
باب: ایک آدمی کا پورا کھانا دو کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5392
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہے اور تین کا چار کے لیے کافی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5392]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہوتا ہے اور تین آدمیوں کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ:
باب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے (اور کافر سات آنتوں میں)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5393
فِيهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس باب میں ایک حدیث مرفوع ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5393]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَأْكُلُ حَتَّى يُؤْتَى بِمِسْكِينٍ يَأْكُلُ مَعَهُ، فَأَدْخَلْتُ رَجُلًا يَأْكُلُ مَعَهُ، فَأَكَلَ كَثِيرًا، فَقَالَ: يَا نَافِعُ، لَا تُدْخِلْ هَذَا عَلَيَّ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے، جب تک ان کے ساتھ کھانے کے لیے کوئی مسکین نہ لایا جاتا۔ ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ کھانے کے لیے ایک شخص کو لایا کہ اس نے بہت زیادہ کھانا کھایا۔ بعد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آئندہ اس شخص کو میرے ساتھ کھانے کے لیے نہ لانا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5393]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک ان کے ساتھ کے لیے کسی مسکین کو نہ لایا جاتا۔ میں ایک دن ایک شخص کو لایا جو آپ کے ساتھ کھانا کھائے تو اس نے بہت کھانا کھایا۔ بعد میں انہوں نے مجھے کہا: اے نافع! آئندہ اس شخص کو میرے ساتھ کھانے کے لیے نہ لانا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5393]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَإِنَّ الْكَافِرَ أَوِ الْمُنَافِقَ فَلَا أَدْرِي أَيَّهُمَا". قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَقَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں عبیداللہ عمری نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر یا منافق (عبدہ نے کہا کہ) مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کس کے متعلق عبیداللہ نے بیان کیا کہ وہ ساتوں آنتیں بھر لیتا ہے اور ابن بکیر نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث کی طرح بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5394]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر یا منافق، مجھے معلوم نہیں کہ عبید اللہ نے ان دونوں میں سے کسی کا ذکر کیا، سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ ابن بکیر رحمہ اللہ نے کہا: ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے حضرت نافع رحمہ اللہ نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5394]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5395
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ:" كَانَ أَبُو نَهِيكٍ رَجُلًا أَكُولًا، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ"، فَقَالَ: فَأَنَا أُومِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے کہ ابونہیک بڑے کھانے والے تھے۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔ ابونہیک نے اس پر عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5395]
حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ ابو نہیک نامی شخص بسیار خور تھا، تو اس سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ یہ سن کر ابو نہیک نے کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5395]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5396
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْكُلُ الْمُسْلِمُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5396]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5396]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5397
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا، فَأَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا قَلِيلًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب بہت زیادہ کھانا کھایا کرتے تھے، پھر وہ اسلام لائے تو کم کھانے لگے۔ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5397]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی بہت کھانا کھاتا تھا۔ وہ مسلمان ہوا تو بہت کم کھانے لگا۔ اس امر کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: بلاشبہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5397]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ الأَكْلِ مُتَّكِئًا:
باب: تکیہ لگا کر کھانا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5398
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا آكُلُ مُتَّكِئًا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے علی ابن الاقمر نے کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5398]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5398]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں