صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ}:
باب: اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”مسلمانو! کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں کو جن کی ہم نے تمہیں روزی دی ہے“۔
حدیث نمبر: Q5373
وَقَوْلِهِ: {أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ} وَقَوْلِهِ: {كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ}.
اور فرمایا «أنفقوا من طيبات ما كسبتم» کہ ”اور خرچ کرو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ مومنون) میں فرمایا «كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم» کہ ”کھاؤ پاکیزہ چیزوں میں سے اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو کچھ بھی کرتے ہو ان کو میں جانتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5373]
حدیث نمبر: 5373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ» . قَالَ سُفْيَانُ وَالْعَانِي الأَسِيرُ.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں منصور نے ان سے ابووائل نے بیان کیا، اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوکے کو کھلاؤ پلاؤ، بیمار کی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔ سفیان ثوری نے کہا کہ (حدیث میں) لفظ «عاني» سے مراد قیدی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5373]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی تیمار داری کرو اور قیدی کو رہائی دلاؤ۔“ (راویِ حدیث) حضرت سفیان رحمہ اللہ نے کہا: (حدیث میں لفظ) «الْعَانِي» سے مراد قیدی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5373]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5374
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى قُبِضَ".
ہم سے یوسف بن عیسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوحازم (سلمہ بن اشجعی) نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ کچھ دن برابر انہوں نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا ہو اور اسی سند سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5374]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل عیال نے تین دن متواتر کبھی کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا حتیٰ کہ آپ کی روح قبض ہو گئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5374]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5375
وَعَنْ أَبي حَازِمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَصَابَنِي جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَلَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَاسْتَقْرَأْتُهُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَدَخَلَ دَارَهُ وَفَتَحَهَا عَلَيَّ، فَمَشَيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَخَرَرْتُ لِوَجْهِي مِنَ الْجَهْدِ وَالْجُوعِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَأَقَامَنِي وَعَرَفَ الَّذِي بِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَحْلِهِ، فَأَمَرَ لِي بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: عُدْ يَا أَبَا هِرٍّ، فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قَالَ: عُدْ، فَعُدْتُ فَشَرِبْتُ حَتَّى اسْتَوَى بَطْنِي فَصَارَ كَالْقِدْحِ، قَالَ: فَلَقِيتُ عُمَرَ وَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِي، وَقُلْتُ لَهُ: فَوَلَّى اللَّهُ ذَلِكَ مَنْ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْكَ يَا عُمَرُ، وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَقْرَأْتُكَ الْآيَةَ وَلَأَنَا أَقْرَأُ لَهَا مِنْكَ، قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ لَأَنْ أَكُونَ أَدْخَلْتُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ حُمْرِ النَّعَمِ".
ابوحازم سے روایت ہے کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (بیان کیا کہ فاقہ کی وجہ سے) میں سخت مشقت میں مبتلا تھا، پھر میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ان سے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت پڑھنے کے لیے کہا۔ انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد میں بہت دور تک چلتا رہا۔ آخر مشقت اور بھوک کی وجہ سے میں منہ کے بل گر پڑا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سر کے پاس کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوہریرہ! میں نے کہا حاضر ہوں، یا رسول اللہ! تیار ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کیا۔ آپ سمجھ گئے کہ میں کس تکلیف میں مبتلا ہوں۔ پھر آپ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا ایک بڑا پیالہ منگوایا۔ میں نے اس میں دودھ پیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوبارہ پیو (ابوہریرہ!) میں نے دوبارہ پیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور پیو۔ میں نے اور پیا۔ یہاں تک کہ میرا پیٹ بھی پیالہ کی طرح بھرپور ہو گیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ اے عمر! اللہ تعالیٰ نے اسے اس ذات کے ذریعہ پورا کرا دیا، جو آپ سے زیادہ مستحق تھی۔ اللہ کی قسم! میں نے تم سے آیت پوچھی تھی حالانکہ میں اسے تم سے بھی زیادہ بہتر طریقہ پر پڑھ سکتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے تم کو اپنے گھر میں داخل کر لیا ہوتا اور تم کو کھانا کھلا دیتا تو لال لال (عمدہ) اونٹ ملنے سے بھی زیادہ مجھ کو خوشی ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5375]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھے ایک دن سخت بھوک لگی تو میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھنا چاہی، انہوں نے مجھے وہ آیت پڑھ کر سنائی، پھر اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔ میں تھوڑی دور گیا تو بھوک کی وجہ سے منہ کے بل گر پڑا، (وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ» ”میں حاضر ہوں اور آپ کی خدمت کے لیے تیار ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھڑا کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں کس تکلیف میں مبتلا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کے پیالے کا حکم دیا، چنانچہ میں نے اس میں سے کچھ دودھ پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! دوبارہ پیو۔“ میں نے دوبارہ پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور پیو۔“ میں نے خوب پیا یہاں تک کہ میرا پیٹ بے پر تیر کی طرح سیدھا ہو گیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اپنا سارا واقعہ بیان کیا اور کہا: ”اے عمر! اللہ تعالیٰ نے مجھے اس ہستی کے حوالے کر دیا جو تم سے زیادہ حق دار تھے۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ سے ایک آیت کے متعلق پوچھا تھا۔“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر میں نے تجھے اپنے گھر میں داخل کر لیا ہوتا تو مجھے سرخ اونٹ ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5375]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
2. بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ وَالأَكْلِ بِالْيَمِينِ:
باب: کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا اور دائیں ہاتھ سے کھانا۔
حدیث نمبر: 5376
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ: أَخْبَرَنِي، أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ، يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا غُلَامُ، سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ، فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طِعْمَتِي بَعْدُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا، انہوں نے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور (کھاتے وقت) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے! بسم اللہ پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5376]
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں صغر سنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں زیر پرورش تھا، کھاتے وقت برتن میں میرا ہاتھ چاروں طرف گھومتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”بیٹے! کھاتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے تناول کرو۔“ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5376]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
3. بَابُ الأَكْلِ مِمَّا يَلِيهِ:
باب: برتن میں سامنے سے کھانا۔
حدیث نمبر: Q5377
. وَقَالَ أَنَسٌ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلْيَأْكُلْ كُلُّ رَجُلٍ مِمَّا يَلِيهِ".
اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(کھانے سے پہلے) اللہ کا نام لیا کرو اور ہر شخص اپنے نزدیک سے کھائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5377]
حدیث نمبر: 5377
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَكَلْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ نَوَاحِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ مِمَّا يَلِيكَ".
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ دیلی نے بیان کیا، ان سے وہب بن کیسان ابونعیم نے بیان کیا، ان سے عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے (ابوسلمہ سے) بیٹے ہیں۔ بیان کیا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا اور برتن کے چاروں طرف سے کھانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے نزدیک سے کھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5377]
حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فرزند ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھایا۔ میں برتن کے چاروں طرف سے کھانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آگے سے کھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5377]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5378
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، ان سے ابونعیم وہب بن کیسان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا، آپ کے ساتھ آپ کے ربیب عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بسم اللہ پڑھ اور اپنے سامنے سے کھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5378]
ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ آپ کے ہمراہ آپ ہی کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ” «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھو اور اپنے آگے سے کھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5378]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
4. بَابُ مَنْ تَتَبَّعَ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ مَعَ صَاحِبِهِ، إِذَا لَمْ يَعْرِفْ مِنْهُ كَرَاهِيَةً:
باب: جس نے اپنے ساتھی کے ساتھ کھاتے وقت پیالے میں چاروں طرف ہاتھ بڑھائے بشرطیکہ ساتھی کی طرف سے معلوم ہو کہ اسے کراہیت نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 5379
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھانے کی دعوت کی جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی گیا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کرتے تھے (کھانے کے لیے) بیان کیا کہ اسی دن سے کدو مجھ کو بھی بہت بھانے لگا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5379]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کھانے پر مدعو کیا جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ برتن کے چاروں طرف سے کدو کے ٹکڑے تلاش کر رہے تھے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”اس دن سے کدو مجھے بہت پسند ہیں۔“ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5379]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
5. بَابُ التَّيَمُّنِ فِي الأَكْلِ وَغَيْرِهِ:
باب: کھانے پینے میں داہنے ہاتھ کا استعمال کرنا۔
حدیث نمبر: Q5380
. قَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ بِيَمِينِكَ".
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے کھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: Q5380]