سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. باب في النَّهْيِ عَنِ الظُّلْمِ:
ظلم کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2552
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن بہت سی تاریکیوں اور اندھیروں کا باعث ہوگا۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2552]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2558] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2447] ، [مسلم 2579] ، [ابن حبان 5176] ، [موارد الظمآن 1580]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2447] ، [مسلم 2579] ، [ابن حبان 5176] ، [موارد الظمآن 1580]
وضاحت: (تشریح حدیث 2551)
اس حدیث میں ظلم سے بچنے کا حکم ہے، اور خبردار کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں جو ظلم کرے گا وہ قیامت کے روز بہت سے اندھیروں میں بھٹکتا پھرے گا، اور یہ ظلم اپنی تمام اقسام پر مشتمل ہے، یعنی ظلم جان پر ہو، مال میں ہو، کسی کی عزت آبرو پر ہو، حقوق الله میں ہو، یا حقوق العباد میں ہو، ہر نوع ظلم ہے اور حرام ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔
اس حدیث میں ظلم سے بچنے کا حکم ہے، اور خبردار کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں جو ظلم کرے گا وہ قیامت کے روز بہت سے اندھیروں میں بھٹکتا پھرے گا، اور یہ ظلم اپنی تمام اقسام پر مشتمل ہے، یعنی ظلم جان پر ہو، مال میں ہو، کسی کی عزت آبرو پر ہو، حقوق الله میں ہو، یا حقوق العباد میں ہو، ہر نوع ظلم ہے اور حرام ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔
74. باب: «إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ» :
اللہ تعالیٰ فاجر آدمی سے اس دین کی تائید کرائے گا
حدیث نمبر: 2553
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک الله تعالىٰ (کبھی) اس دین کی تائید و حمایت فاجر شخص سے کرا لیتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2553]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2559] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3062] ، [مسلم 111] ، [ابن حبان 4519] ، [ابوعوانه 46/1، وغيرهم]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3062] ، [مسلم 111] ، [ابن حبان 4519] ، [ابوعوانه 46/1، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2552)
اس سے معلوم ہوا کہ ضروری نہیں نیک و صالح اور عالم و فاضل ہی سے دین کی تائید و نصرت ہو، بلکہ عام آدمی بھی اسلام کے لئے باعثِ خیر و برکت ہو سکتا ہے، اور اس کی تازہ مثال کمپیوٹر اور انٹرنیٹ، موبائیل وغیرہ ہیں، جو ایک طرف شر و فساد پھیلاتے ہیں، دوسری طرف ان میں قرآن و حدیث کے سارے علوم بھرے پڑے ہیں جو راہِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، الله تعالیٰ عام مسلمانوں کو اس سے استفادے کی توفیق بخشے۔
آمین۔
واللہ اعلم۔
اس سے معلوم ہوا کہ ضروری نہیں نیک و صالح اور عالم و فاضل ہی سے دین کی تائید و نصرت ہو، بلکہ عام آدمی بھی اسلام کے لئے باعثِ خیر و برکت ہو سکتا ہے، اور اس کی تازہ مثال کمپیوٹر اور انٹرنیٹ، موبائیل وغیرہ ہیں، جو ایک طرف شر و فساد پھیلاتے ہیں، دوسری طرف ان میں قرآن و حدیث کے سارے علوم بھرے پڑے ہیں جو راہِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں، الله تعالیٰ عام مسلمانوں کو اس سے استفادے کی توفیق بخشے۔
آمین۔
واللہ اعلم۔
75. باب في افْتِرَاقِ هَذِهِ الأُمَّةِ:
اس امت کے فرقوں میں بٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 2554
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا، فَقَالَ: "أَلا إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ افْتَرَقُوا عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ: اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: الْحَرَازُ قَبِيلَةٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ.
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں میں خطیب کی صورت میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”سنو! تم سے پہلے اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور اس ملت کے لوگ قریب ہے کہ تہتر فرتے ہو جائیں، ان میں سے (72) بہتر جہنم میں جائیں گے اور صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا:حراز اہلِ یمن میں ایک قبیلہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2560] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4597] ، [أحمد 102/4] ، [الشريعة للآجري، ص: 27] ، [طبراني: 376/19، 884، وغيرهم]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4597] ، [أحمد 102/4] ، [الشريعة للآجري، ص: 27] ، [طبراني: 376/19، 884، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2553)
یہ جماعت حقہ اور طائفئہ منصورہ ہے جو جنّت میں جائے گی، اس کا ذکر دوسری صحیح روایت میں ہے: جو اللہ کی کتاب پر اور رسول اللہ کی سنّت پر قائم رہے گی، افراط و تفریط سے دور رہے گی، اور وہ اہل الحدیث ہیں۔
ان شاء اللہ، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: اگر وہ اہل الحدیث نہیں تو مجھے علم نہیں کہ وہ کون سا گروہ ہے؟ اس کی تفصیل (2469) کے ضمن میں گذر چکی ہے۔
یہ جماعت حقہ اور طائفئہ منصورہ ہے جو جنّت میں جائے گی، اس کا ذکر دوسری صحیح روایت میں ہے: جو اللہ کی کتاب پر اور رسول اللہ کی سنّت پر قائم رہے گی، افراط و تفریط سے دور رہے گی، اور وہ اہل الحدیث ہیں۔
ان شاء اللہ، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: اگر وہ اہل الحدیث نہیں تو مجھے علم نہیں کہ وہ کون سا گروہ ہے؟ اس کی تفصیل (2469) کے ضمن میں گذر چکی ہے۔
76. باب في لُزُومِ الطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ:
اطاعت اور جماعت پکڑے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2555
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْجَعْدِ: أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، فَيَمُوتُ، إِلا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے امیر سے ناپسندیدہ چیز دیکھی اسے چاہیے کہ صبر کرے، اس لئے کہ جو کوئی بھی جماعت سے بالشت بھر بھی جدائی اختیار کرے گا اور اسی حال میں مرے گا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2561] »
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 7054] ، [مسلم 1849] ، [طبراني 161/2، 12759]
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 7054] ، [مسلم 1849] ، [طبراني 161/2، 12759]
وضاحت: (تشریح حدیث 2554)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امیر کی اطاعت ضروری اور جماعت کے ساتھ رہنا واجب ہے۔
مسلمانوں کے درمیان تفریق ڈالنا حرام ہے۔
ابن حبان اور احمد رحمہما اللہ کی روایت میں ہے: گو یہ حاکم و امیر تمہارا مال کھائے، تمہاری پیٹھ پر کوڑے برسائے، جب بھی صبر کرو۔
جب علانیہ کفر کرے اسی وقت اس کو معزول کرنا، یا اس کی اطاعت سے کنارہ کشی، یا اس کے خلاف خروج کرنا درست ہوگا۔
ایک روایت میں ہے کہ جب تک وہ امیر یا حاکم تم کو صاف اور صریح گناہ کا حکم نہ دے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ جو حاکم اللہ کی نافرمانی کرے، اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔
بہرحال جب تک کفرِ صریح کا ارتکاب نہ ہو امیر و حاکم پر خروج اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔
سماحۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ کے پاس کچھ جوشیلے نوجوان حاضر ہوئے اور کہا کہ امراء و حکام بڑے بے عمل ہیں، برائیاں بڑھ رہی ہیں، ہمیں ان امراء و حکام کے خلاف نکل پڑنا چاہیے۔
شیخ رحمہ اللہ نے بڑی مقانت و سنجیدگی سے فرمایا: کیا تم ان امراء و حکام کے اندر کفیر صریح پاتے ہو؟ کہنے لگے: نہیں، شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: تو پھر خاموش رہو، خلفشار نہ پھیلاؤ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امیر کی اطاعت ضروری اور جماعت کے ساتھ رہنا واجب ہے۔
مسلمانوں کے درمیان تفریق ڈالنا حرام ہے۔
ابن حبان اور احمد رحمہما اللہ کی روایت میں ہے: گو یہ حاکم و امیر تمہارا مال کھائے، تمہاری پیٹھ پر کوڑے برسائے، جب بھی صبر کرو۔
جب علانیہ کفر کرے اسی وقت اس کو معزول کرنا، یا اس کی اطاعت سے کنارہ کشی، یا اس کے خلاف خروج کرنا درست ہوگا۔
ایک روایت میں ہے کہ جب تک وہ امیر یا حاکم تم کو صاف اور صریح گناہ کا حکم نہ دے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ جو حاکم اللہ کی نافرمانی کرے، اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔
بہرحال جب تک کفرِ صریح کا ارتکاب نہ ہو امیر و حاکم پر خروج اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔
سماحۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ کے پاس کچھ جوشیلے نوجوان حاضر ہوئے اور کہا کہ امراء و حکام بڑے بے عمل ہیں، برائیاں بڑھ رہی ہیں، ہمیں ان امراء و حکام کے خلاف نکل پڑنا چاہیے۔
شیخ رحمہ اللہ نے بڑی مقانت و سنجیدگی سے فرمایا: کیا تم ان امراء و حکام کے اندر کفیر صریح پاتے ہو؟ کہنے لگے: نہیں، شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا: تو پھر خاموش رہو، خلفشار نہ پھیلاؤ۔
77. باب مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا:
جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے
حدیث نمبر: 2556
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السِّلَاحَ، فَلَيْسَ مِنَّا".
ایاس بن سلمہ نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ہمارے اوپر اسلحہ تان لیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2556]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2562] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 7053] ، [مسلم 99] ، [أبوعوانه 58/1] ، [طبراني 16/7، 6344] ، [أحمد 46/4] ، [أبويعلی 7261، وغيرهم]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 7053] ، [مسلم 99] ، [أبوعوانه 58/1] ، [طبراني 16/7، 6344] ، [أحمد 46/4] ، [أبويعلی 7261، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2555)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر اصلحہ اٹھانا، یا نکالنا جائز نہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: جو شخص مسلمان پر ناحق ہتھیار اٹھا دے اور اسے حلال نہ جانے تو گنہگار ہے، اور جو حلال جانے تو وہ کافر ہے، اور یہ حدیث حلال جاننے والے پر محمول ہے، یا اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے پر اصلحہ اٹھانا، یا نکالنا جائز نہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: جو شخص مسلمان پر ناحق ہتھیار اٹھا دے اور اسے حلال نہ جانے تو گنہگار ہے، اور جو حلال جانے تو وہ کافر ہے، اور یہ حدیث حلال جاننے والے پر محمول ہے، یا اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔
78. باب الإِمَارَةِ في قُرَيْشٍ:
حکومت قریش میں رہے گی
حدیث نمبر: 2557
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ".
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: محمد بن جبیر بن مطعم حدیث بیان کرتے تھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت محمد قریش کے وفد میں ان کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ: ”یہ خلافت قریش میں رہے گی اور جو بھی ان سے دشمنی کرے گا، الله تعالیٰ اس کو سر نگوں اوندھا کر دے گا جب تک وہ (قریش) دین پر قائم رہیں گے۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2563] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3500] ، [أحمد 94/4] ، [طبراني 338/9، 780] ، [البيهقي 141/8] و [دلائل النبوة 521/5]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3500] ، [أحمد 94/4] ، [طبراني 338/9، 780] ، [البيهقي 141/8] و [دلائل النبوة 521/5]
وضاحت: (تشریح حدیث 2556)
قریش کے لوگ جب دین اور شریعت کو چھوڑ دیں گے تو ان میں سے خلافت و حکومت جاتی رہے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسی پیشین گوئی کی تھی ویسا ہی ہوا۔
پانچ چھ سو برس تک خلافت بنو امیہ اور بنو عباسیہ قائم رہی جو قریشی تھے، جب انہوں نے شریعت پر چلنا چھوڑ دیا تو ان کی خلافت چھن گئی، اس وقت سے آج تک پھر قریش کو خلافت اور سرداری نہیں ملی۔
قریش کے لوگ جب دین اور شریعت کو چھوڑ دیں گے تو ان میں سے خلافت و حکومت جاتی رہے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسی پیشین گوئی کی تھی ویسا ہی ہوا۔
پانچ چھ سو برس تک خلافت بنو امیہ اور بنو عباسیہ قائم رہی جو قریشی تھے، جب انہوں نے شریعت پر چلنا چھوڑ دیا تو ان کی خلافت چھن گئی، اس وقت سے آج تک پھر قریش کو خلافت اور سرداری نہیں ملی۔
79. باب في فَضْلِ قُرَيْشٍ:
قریش کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2558
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ، وَأَسْلَمُ، وَغِفَارٌ، وَأَشْجَعُ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش اور انصار، مزینہ، جہینہ، اسلم اور غفار و اشجع ان تمام قبائل کا مولی اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی نہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2558]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2564] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3504] ، [مسلم 2520] ، [أبويعلی 867] ، [أحمد 291/2، وغيرهم]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3504] ، [مسلم 2520] ، [أبويعلی 867] ، [أحمد 291/2، وغيرهم]
حدیث نمبر: 2559
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ، وَغِفَارٌ خَيْرًا مِنَ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ، أَتُرَوْنَهُمْ خَسِرُوا؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:"فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ". قَالَ:"أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ مُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ تَمِيمٍ وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ أَتُرَوْنَهُمْ خَسِرُوا؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:"فَإِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتاؤ اگر (قبیلہ) اسلم و غفار دونوں حلیف اسد و غطفان سے بہتر ہوں تو کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ آخر الذکر ٹوٹے و خسارے میں رہے؟“ (یعنی اسد و غطفان کے لوگ)، صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک وہ (اسلم و غفار) ان سے بہتر ہیں۔“ پھر فرمایا: ”بتاؤ اگر مزینہ و جہینہ بنوتمیم و بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں“ تو آپ کی آواز بلند ہوگئی، ”کیا یہ آخر الذکر خسارے میں ہوں گے؟“ عرض کیا: یقیناً برباد ہوں گے، فرمایا: ”یہ ان سے بہتر ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2565] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح اور متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3515] ، [مسلم 2522] ، [ابن حبان 7390، وغيرهم]
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح اور متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3515] ، [مسلم 2522] ، [ابن حبان 7390، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح احادیث 2557 سے 2559)
دورِ جاہلیت میں جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنوتمیم، بنوغطفان اور بنوعامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں کے مقابلے میں کم درجہ سمجھے جاتے تھے، پھر جب اسلام آیا تو پہلے چاروں قبیلوں نے اسلام قبول کرنے میں پیش قدمی کی اس لئے شرف و فضیلت میں بنوتمیم وغیرہ قبائل سے یہ لوگ بڑھ گئے۔
اس حدیث سے ان قبائل کی فضیلت و منزلت ثابت ہوئی۔
دورِ جاہلیت میں جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنوتمیم، بنوغطفان اور بنوعامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں کے مقابلے میں کم درجہ سمجھے جاتے تھے، پھر جب اسلام آیا تو پہلے چاروں قبیلوں نے اسلام قبول کرنے میں پیش قدمی کی اس لئے شرف و فضیلت میں بنوتمیم وغیرہ قبائل سے یہ لوگ بڑھ گئے۔
اس حدیث سے ان قبائل کی فضیلت و منزلت ثابت ہوئی۔
80. باب في فَضْلِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ:
قبیلہ اسلم و غفار کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2560
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ: ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ".
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلہ غفار اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2560]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2566] »
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3514] ، [مسلم 2514] ، [ابن حبان 7133]
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3514] ، [مسلم 2514] ، [ابن حبان 7133]
وضاحت: (تشریح حدیث 2559)
اس حدیث میں قبیلہ غفار اور قبیلہ اسلم کی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام سے بطورِ نیک فال لی۔
اس حدیث میں قبیلہ غفار اور قبیلہ اسلم کی فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام سے بطورِ نیک فال لی۔
حدیث نمبر: 2561
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ”غفار الله تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اسلم اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور قبیلہ عصیہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2567] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3513] ، [مسلم 2518] ، [ترمذي 3941] ، [ابن حبان 7289] ، [شرح السنة للبغوي 3851، 3852]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3513] ، [مسلم 2518] ، [ترمذي 3941] ، [ابن حبان 7289] ، [شرح السنة للبغوي 3851، 3852]
وضاحت: (تشریح حدیث 2560)
قبیلہ غفار کے لوگ زمانۂ جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے، چوری کرتے تھے، اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا، اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کر کے غداری کی اور بئر معونہ والوں کو شہید کر دیا تھا۔
اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع بڑے قبائل تھے، ان کے اسلام لانے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے قبیلے خود بخود مشرف بالاسلام ہوئے اس لئے بھی ان کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔
قبیلہ غفار کے لوگ زمانۂ جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے، چوری کرتے تھے، اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا، اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کر کے غداری کی اور بئر معونہ والوں کو شہید کر دیا تھا۔
اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع بڑے قبائل تھے، ان کے اسلام لانے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے قبیلے خود بخود مشرف بالاسلام ہوئے اس لئے بھی ان کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔