🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (إِعْطَاءُ الأُجْرَةِ عَلَى السِّنْجِ)
سینگی پر اجرت دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2769
2769 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ  ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے ایک صاع (تقریباً اڑھائی کلو) کھجوریں دینے اور اس کے مالکوں کو اس کے خزاج میں تخفیف کرنے کا حکم فرمایا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2102) و مسلم (1577/62)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الكَسْبُ الذَّاتِيُّ طَاهِرٌ)
خود کی کمائی پاکیزہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2770
الْفَصْلُ الثَّانِي 2770 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ  ، وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالدَّارِمِيِّ"إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ".
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی کمائی سے کھانا سب سے پاکیزہ کھانا ہے، اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے۔ صحیح، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و ابوداؤد و الدارمی۔ ابوداؤد اور دارمی کی روایت میں ہے: آدمی کا اپنی کمائی سے کھانا سب سے پاکیزہ کھانا ہے، اور بے شک اس کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2770]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1358 وقال: حسن غريب) و النسائي (240/7. 241 ح 4454. 4457) و ابن ماجه (2290) و أبو داود (3528) والدارمي (247/2 ح 2540)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الكَسْبِ الحَرَامِ)
حرام کی کمائی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2771
2771 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا حَرَامًا فَيَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلُ مِنْهُ  ، وَلَا يُنْفِقُ مِنْهُ ; فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَذَا فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی شخص حرام مال کھاتا ہے اور پھر اس سے صدقہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہوتا، اور وہ اس میں سے جو خرچ کرتا ہے تو اس میں برکت نہیں کی جاتی، اور اگر وہ اسے ترکہ میں چھوڑ جاتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ میں اضافے کا باعث بنتا ہے، کیونکہ اللہ برائی کے ذریعے برائی ختم نہیں کرتا بلکہ وہ نیکی کے ذریعے برائی ختم کرتا ہے اور خبیث، خبیث کو ختم نہیں کرتا۔ احمد، شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2771]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (387/1ح 3672 مطولاً) والبغوي في شرح السنة (10/8 ح 2030)
٭ فيه الصباح بن محمد: ضعيف و لبعضه شاھد ضعيف عند الحاکم (334/1، 335) و صححه ووافقه الذهبي .!»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَعِيدُ الكَسْبِ الحَرَامِ)
حرام کمائی کی وعید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2772
2772 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ  ، وَكُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حرام سے پرورش پانے والا گوشت، جنت میں داخل نہیں ہو گا، اور حرام سے پرورش پانے والا ہر گوشت جہنم کی آگ ہی اس کی زیادہ حق دار ہے۔ حسن، رواہ احمد و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (321/3 ح 14494، 399/3 ح 15358 وسنده حسن) و الدارمي (318/2 ح 2779) والبيھقي في شعب الإيمان (5761)
٭ و للحديث طرق کثيرة، انظر تنقيح الرواة (154/1)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَجَبَ اجْتِنَابُ التِّجَارَةِ المَشْكُوكِ فِيهَا)
شک والی تجارت سے اجتناب کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2773
2773 - وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ  ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى الدَّارِمِيُّ الْفَصْلَ الْأَوَّلَ.
حسن بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یاد کیا: جو چیز تجھے شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دے اور شک سے پاک چیز اختیار کر، کیونکہ سچائی میں اطمینان ہے اور جھوٹ میں شک ہے۔ احمد، ترمذی، نسائی۔ اور امام دارمی نے اس حدیث کا پہلا حصہ روایت کیا ہے۔ صحیح، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2773]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (200/1 ح 1727 مختصرًا) والترمذي (2518 وقال: صحيح) والنسائي (327/8. 328ح 5714) والدارمي (245/2 ح 2535) [وصححه ابن حبان (الموارد: 512) والحاکم (13/2) ووافقه الذهبي] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خُلَاصَةُ النِّعْمَةِ وَالإِثْمِ)
نیکی اور گناہ کا خلاصہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2774
2774 - وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟"قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ، فَضَرَبَ بِهَا صَدْرَهُ وَقَالَ: (اسْتَفْتِ نَفْسَكَ، اسْتَفْتِ قَلْبَكَ) ثَلَاثًا. الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ  ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ.
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ! تم نیکی اور گناہ کی تعریف پوچھنے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں اکٹھی کیں اور میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا: اپنے نفس سے پوچھو، اپنے دل سے پوچھو۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا۔ اور پھر فرمایا: نیکی وہ ہے جس پر نفس اور دل مطمئن ہو جائے، جبکہ گناہ یہ ہے کہ وہ تیرے نفس میں کھٹکے اور دل میں تردد پیدا کرے اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیں۔ سندہ ضعیف، رواہ احمد و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2774]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (228/4 ح 18164، 18169) والدارمي (245/2. 246 ح 2536)
٭ فيه أيوب بن عبد الله بن مکرز: مستور، والزبير أبو عبد السلام لم يسمع ھذا الحديث من أيوب بن عبد الله بن مکرز، و في سماع أيوب من وابصة نظر، و أبو عبد السلام مجھول الحال، وثقه ابن حبان وحده، فالسند ضعيف مظلم بطوله، و حديث مسلم (2553) يغني عنه .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دَرَجَةُ التَّقْوَى وَالوَرَعِ)
تقویٰ پرہیزگاری کا درجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2775
2775 - وَعَنْ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُتَّقِينَ حَتَّى يَدَعَ مَالَا بَأْسَ بِهِ حَذَرًا لِمَا بِهِ بَأْسٌ  "رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بندہ حقیقی متقی تب بنتا ہے کہ وہ قابل اعتراض چیزوں کو چھوڑنے کے ساتھ ساتھ ایسی چیزیں بھی چھوڑے جن پر کوئی اعتراض نہیں۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2775]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2451 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (4215) [و صححه الحاکم (319/4) ووافقه الذهبي]
٭ أبو عقيل عبد الله بن عقيل الثقفي حسن الحديث وثقه الجمھور و جرح الجوزجاني فيه نظر، لم أجده في کتابه و الراوي عنه الدولابي و ھو ضعيف .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حُرْمَةُ تِجَارَةِ الخَمْرِ)
شراب کےکاروبار کی حرمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2776
2776 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً  : عَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا، وَالْمُشْتَرِي لَهَا، وَالْمُشْتَرَى لَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب سے متعلق دس قسم کے افراد پر لعنت فرمائی: اس کے بنانے والے، اس کے بنوانے والے، اس کے پینے والے، اسے اٹھانے والے، جس کے پاس لے جائی جائے، اس کے پلانے والے، اسے بیچنے والے، اس کی قیمت کھانے والے، اسے خریدنے والے اور جس کے لیے خریدی جائے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2776]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1295 وقال: غريب) و ابن ماجه (3381)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَعْنَةٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُتَعَلِّقٍ بِالخَمْرِ)
شراب سے متعلق ہر چیز پر لعنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2777
2777 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَشَارِبَهَا، وَسَاقَيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَمُبْتَاعَهَا، وَعَاصِرَهَا  ، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ"رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ نے شراب پر، اس کے پینے والے، اس کے پلانے والے، اس کے بیچنے والے، اس کے خریدنے والے، اس کے بنانے والے، جس کے لیے بنائی جائے اس پر، اسے لے کر جانے والے اور جس کے لیے لے کر جائی جائے، ان سب پر لعنت فرمائی۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (3674) و ابن ماجه (3380)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ أَكْلِ كَسْبِ البِخْنَقِ)
پچھنے لگانے کی کمائی کھانا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2778
2778 - وَعَنْ مَحِيصَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُجْرَةِ الْحَجَّامِ  ، فَنَهَاهُ، فَلَمْ يَزَلْ يَسْتَأْذِنُهُ حَتَّى قَالَ: (اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ، وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ) ، رَوَاهُ مَالِكٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
محّیصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پچھنے لگانے والی کی اجرت کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں منع فرما دیا، وہ آپ سے مسلسل اجازت طلب کرتے رہے حتی کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے اپنے اونٹ کو کھلا دیا کر اور اسے غلام کو کھلا دیا کر۔ صحیح، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (974/2 ح 1889) و أبو داود (3422) و ابن ماجه (2166)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں