🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب فضل الطهور بالليل والنهار وفضل الصلاة بعد الوضوء بالليل والنهار:
باب: دن اور رات میں باوضو رہنے کی فضیلت اور وضو کے بعد رات اور دن میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1149
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: دَفَّ نَعْلَيْكَ يَعْنِي تَحْرِيكَ.
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ حماد بن اسابہ نے بیان کیا، ان سے ابوحیان یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فجر کے وقت پوچھا کہ اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسے تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے نفل نماز پڑھتا رہتا جتنی میری تقدیر لکھی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1149]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! مجھے وہ عمل بتاؤ جو تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو اور تمہارے ہاں وہ زیادہ امید والا ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو میرے نزدیک زیادہ پرامید ہو، البتہ میں رات اور دن میں جب وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جو نماز میرے مقدر میں ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو زرعة بن عمرو البجلي، أبو زرعة
Newأبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد التيمي، أبو حيان
Newيحيى بن سعيد التيمي ← أبو زرعة بن عمرو البجلي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← يحيى بن سعيد التيمي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن إبراهيم البخاري، أبو إبراهيم
Newإسحاق بن إبراهيم البخاري ← حماد بن أسامة القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1149
حدثني بأرجى عمل عملته في الإسلام فإني سمعت دف نعليك بين يدي في الجنة قال ما عملت عملا أرجى عندي أني لم أتطهر طهورا في ساعة ليل أو نهار إلا صليت بذلك الطهور ما كتب لي أن أصلي
صحيح مسلم
6324
ما عملت عملا في الإسلام أرجى عندي منفعة من أني لا أتطهر طهورا تاما في ساعة من ليل ولا نهار إلا صليت بذلك الطهور ما كتب الله لي أن أصلي
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1149 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1149
حدیث حاشیہ:
یعنی جیسے تو بہشت میں چل رہا ہے اور تیری جوتیوں کی آواز نکل رہی ہے۔
یہ اللہ تعالی نے آپ کو دکھلا دیا جو نظر آیا وہ ہونے والا تھا۔
علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ بہشت میں بیداری کے عالم میں اس دنیا میں رہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں گیا۔
آپ معراج کی شب میں وہاں تشریف لے گئے۔
اسی طرح دوزخ میں اور یہ جو بعض فقراء سے منقول ہے کہ ان کا خادم حقہ کی آگ لینے کے لیے دوزخ میں گیا محض غلط ہے۔
بلال ؓ دنیا میں بھی بطور خادم کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سامان وغیرہ لے کر چلا کرتے، ویسا ہی اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو دکھلا دیا کہ بہشت میں بھی ہو گا۔
اس حدیث سے بلال ؓ کی فضیلت نکلی اور ان کا جنتی ہونا ثابت ہوا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1149]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1149
حدیث حاشیہ:
(1)
جامع ترمذی اور صحیح ابن خزیمہ کی روایت میں ہے کہ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا:
میں جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر لیتا ہوں اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسی وجہ سے تم نے یہ انعام حاصل کیا ہے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3689، و صحیح ابن خزیمة: 213/2، و مسند أحمد: 360/5)
یہ حدیث ان احادیث کے معارض نہیں جن میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ جنت میں داخلہ تو صرف اللہ کے فضل و کرم سے ہو گا، پھر داخلے کے بعد درجات کا تفاوت اعمال کی وجہ سے ہو گا۔
(فتح الباري: 48/3)
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت بلال ؓ نبی ؑ سے پہلے جنت میں داخل ہو گئے، کیونکہ حضرت بلال اس عالم رنگ و بو میں ایک خادم خاص کی حیثیت سے آپ کے آگے آگے ہوتے تھے، اس لیے نیند میں بھی وہ اسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے۔
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال ؓ کو نیند کی حالت میں دیکھا تھا اور آپ کی عادت مبارک تھی کہ نماز فجر کے بعد اپنا خواب بیان کرتے یا کسی دوسرے کا خواب سن کر اس کی تعبیر کرتے تھے۔
روایت میں نماز فجر کے ذکر سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے۔
(فتح الباري: 44/3) (2)
ابن جوزی فرماتے ہیں کہ وضو کے بعد نماز پڑھنی چاہیے تاکہ وضو بلا مقصد نہ ہو۔
امام بخاری ؒ اس حدیث کو نماز تہجد میں لائے ہیں تاکہ تحیۃ الوضوء ثابت کیا جائے۔
ہمیشہ با وضو رہنا مومن کے لیے ایک زبردست ہتھیار ہے، کیونکہ شیطان نجس اور پلید چیزوں سے مانوس ہوتا ہے اور طہارت و پاکیزگی سے نفرت کرتا ہے، نیز جب آدمی باوضو رہتا ہے تو رات دن کی نمازیں اس سے فوت نہیں ہوتیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1149]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6324
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال سے صبح کی نماز کے بعد فرمایا کہ اے بلال! مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہے اور جس کے فائدے کی تجھے بہت امید ہے، کیونکہ میں نے آج کی رات تیری جوتیوں کی آواز اپنے سامنے جنت میں سنی ہے۔ سیدنا بلال ؓ نے کہا کہ میں نے اسلام میں کوئی عمل ایسا نہیں کیا جس کے نفع کی امید بہت ہو۔ سوا اس کے کہ رات یا دن میں کسی بھی وقت جب پورا وضو کرتا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6324]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے استنباط کرنا کہ اپنے اجتہاد سے کسی عبادت کا وقت مقرر کرنا جائز ہے،
کیونکہ حضرت بلال نے دخول جنت کا یہ مرتبہ،
اپنے اجتہاد اور استنباط سے حاصل کیا،
درست نہیں ہے،
کیونکہ شریعت جس کام کے لیے وقت مقرر نہیں کرتی،
اس کے لیے وقت مقرر کرنا،
درست نہیں ہے،
تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد کی آپ نے خود تلقین فرمائی ہے یہ عمل حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے استنباط اور اجتہاد سے شروع نہیں کیا بلکہ آپ کی ترغیب و تحریص سے شروع کیا۔
جاہلیت کے دور میں لوگوں نے عتیرہ کے لیے رجب کا مہینہ مقرر کیا تھا،
جب آپ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا:
عتیرہ درست ہے،
اگر کوئی اس پر عمل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے،
لیکن اس کے لیے ماہ رجب کی تخصیص درست نہیں ہے،
جس مہینہ میں بھی اس کی توفیق ہو کر لے اور لوگوں کو کھلا دے،
جس سے ثابت ہوا،
اپنی طرف سے وقت مقرر کرنا درست نہیں ہے۔
حدیث کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6324]

Sahih Bukhari Hadith 1149 in Urdu