صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ الْكَفَنِ فِي الْقَمِيصِ الَّذِي يُكَفُّ أَوْ لاَ يُكَفُّ، وَمَنْ كُفِّنَ بِغَيْرِ قَمِيصٍ:
باب: قمیص میں کفن دینا اور اس کا حاشیہ سلا ہوا ہو یا بغیر سلا ہوا ہو اور بغیر قمیص کے کفن دینا۔
حدیث نمبر: 1269
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ لَمَّا تُوُفِّيَ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ , فَقَالَ: آذِنِّي أُصَلِّي عَلَيْهِ فَآذَنَهُ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ جَذَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ: أَلَيْسَ اللَّهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، فَقَالَ: أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، قَالَ الله تعالى: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ سورة التوبة آية 80 , فَصَلَّى عَلَيْهِ , فَنَزَلَتْ: وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا سورة التوبة آية 84".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے کہا کہ مجھ سے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا (عبداللہ صحابی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھئے اور مغفرت کی دعا کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص (غایت مروت کی وجہ سے) عنایت کی اور فرمایا کہ مجھے بتانا میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔ عبداللہ نے اطلاع بھجوائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ”تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری ”کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھانا“۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1269]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) مر گیا تو اس کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: مجھے اپنی قمیص عنایت فرمائیں تاکہ میں اپنے باپ کو اس میں کفن دوں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور اس کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص دی اور فرمایا: ”جب جنازہ تیار ہو جائے تو مجھے اطلاع کرنا میں اس کا جنازہ پڑھوں گا۔“ چنانچہ اس نے جنازہ تیار ہونے کی آپ کو اطلاع کر دی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھنے کا ارادہ کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن تھام کر عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”مجھے دو باتوں کا اختیار دیا گیا ہے۔“ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] ”آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش کی دعا کریں گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] ”ان منافقین میں سے اگر کوئی مر جائے تو اس کی نماز کبھی نہ پڑھنا (اور نہ اس کی قبر ہی پر کھڑے ہونا)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان عبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5796
| نهاك الله أن تصلي على المنافقين فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم |
صحيح البخاري |
1269
| أنا بين خيرتين قال الله تعالي استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم فصلى عليه فنزلت ولا تصل على أحد منهم مات أبدا |
صحيح مسلم |
7027
| خيرني الله فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة وسأزيده على سبعين قال إنه منافق فصلى عليه رسول الله أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
صحيح مسلم |
6207
| خيرني الله فقال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة وسأزيد على سبعين قال إنه منافق فصلى عليه رسول الله أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
سنن النسائى الصغرى |
1901
| أنا بين خيرتين قال استغفر لهم أو لا تستغفر لهم فصلى عليه أنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
سنن ابن ماجه |
1523
| أنا بين خيرتين استغفر لهم أو لا تستغفر لهم فأنزل الله ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره |
بلوغ المرام |
438
| اعطني قميصك اكفنه فيه، فاعطاه صلى الله عليه وآله وسلم قميصه |
Sahih Bukhari Hadith 1269 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي