Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب من استعد الكفن فى زمن النبى صلى الله عليه وسلم فلم ينكر عليه:
باب: ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا حَاشِيَتُهَا، أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟ , قَالُوا: الشَّمْلَةُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: نَسَجْتُهَا بِيَدِي فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ فَحَسَّنَهَا فُلَانٌ , فَقَالَ: اكْسُنِيهَا مَا أَحْسَنَهَا؟ , قَالَ: الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ لَبِسَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ لِأَلْبَسَهُ إِنَّمَا سَأَلْتُهُ لِتَكُونَ كَفَنِي؟" , قَالَ سَهْلٌ: فَكَانَتْ كَفَنَهُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ لائی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے (حاضرین سے) پوچھا کہ تم جانتے ہو چادر کیا؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! شملہ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں شملہ (تم نے ٹھیک بتایا) خیر اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے بنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس وقت ضرورت بھی تھی پھر اسے ازار کے طور پر باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک صاحب (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ یہ تو بڑی اچھی چادر ہے ‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہنا دیجئیے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے (مانگ کر) کچھ اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا اور تم نے یہ مانگ لیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں نے اپنے پہننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر نہیں مانگی تھی۔ بلکہ میں اسے اپنا کفن بناؤں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہی چادر ان کا کفن بنی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥سلمة بن دينار الأعرج، أبو حازم
Newسلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي، أبو تمام
Newعبد العزيز بن أبي حازم المخزومي ← سلمة بن دينار الأعرج
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← عبد العزيز بن أبي حازم المخزومي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5810
جلس ما شاء الله في المجلس ثم رجع فطواها ثم أرسل بها إليه فقال له القوم ما أحسنت سألتها إياه وقد عرفت أنه لا يرد سائلا فقال الرجل والله ما سألتها إلا لتكون كفني يوم أموت قال سهل فكانت كفنه
صحيح البخاري
6036
أتدرون ما البردة فقال القوم هي الشملة فقال سهل هي شملة منسوجة فيها حاشيتها فقالت يا رسول الله أكسوك هذه فأخذها النبي محتاجا إليها فلبسها فرآها عليه رجل من الصحابة فقال يا رسول الله ما أحسن هذه فاكسنيها فقال نعم فلما قام النبي لامه أصحابه قالوا ما أحسنت حي
صحيح البخاري
2093
أتدرون ما البردة فقيل له نعم هي الشملة منسوج في حاشيتها قالت يا رسول الله إني نسجت هذه بيدي أكسوكها فأخذها النبي محتاجا إليها فخرج إلينا وإنها إزاره فقال رجل من القوم يا رسول الله اكسنيها فقال نعم فجلس النبي في المجلس ثم رجع فطواها ثم أرسل بها إليه فقال ل
صحيح البخاري
1277
أخذها النبي محتاجا إليها فخرج إلينا وإنها إزاره فحسنها فلان فقال اكسنيها ما أحسنها قال القوم ما أحسنت لبسها النبي محتاجا إليها ثم سألته وعلمت أنه لا يرد قال إني والله ما سألته لألبسه إنما سألته لتكون كفني
سنن النسائى الصغرى
5323
تدرون ما البردة قالوا نعم هذه الشملة منسوج في حاشيتها فقالت يا رسول الله إني نسجت هذه بيدي أكسوكها فأخذها رسول الله محتاجا إليها فخرج إلينا وإنها لإزاره
سنن ابن ماجه
3555
نسجت هذه بيدي لأكسوكها فأخذها رسول الله محتاجا إليها فخرج علينا فيها وإنها لإزاره فجاء فلان بن فلان رجل سماه يومئذ فقال يا رسول الله ما أحسن هذه البردة اكسنيها قال نعم فلما دخل طواها وأرسل بها إليه فقال له القوم والله ما أحسنت كسيها النبي محتاجا إليها ثم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1277 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1277
حدیث حاشیہ:
گویا حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے اپنی زندگی ہی میں اپنا کفن مہیا کر لیا۔
یہی باب کا مقصد ہے۔
یہ بھی ثابت ہوا کہ کسی مخیر معتمد بزرگ سے کسی واقعی ضرورت کے موقع پر جائز سوال بھی کیا جا سکتا ہے۔
ایسی احادیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس کر کے جو آج کے پیروں کا تبرک حاصل کیا جاتا ہے یہ درست نہیں کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور معجزات میں سے ہیں اور آپ ذریعہ خیروبرکت ہیں کوئی اور نہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1277]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1277
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے پہلے کسی چیز کو تیار کر لینا جائز ہے، اسی طرح اپنی زندگی میں کفن تیار کر کے رکھ لینا توکل کے منافی نہیں لیکن قبل از موت قبر تیار کر لینا تاکہ موت یاد رہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔
اگر یہ کام اچھا ہوتا تو کثرت سے قبر تیار کر کے رکھنے کے واقعات منقول ہوتے۔
پھر کسی کو کیا معلوم کہ اس نے کہاں مرنا ہے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾ (لقمان: 31/34)
کسی کو علم نہیں کہ اسے کہاں موت نے آنا ہے۔
(فتح الباري: 185/3)
لیکن کفن کا معاملہ اس سے یکسر الگ ہے کہ انسان اپنے ہمراہ جہاں چاہے لے جا سکتا ہے۔
والله أعلم۔
(2)
جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگ کر اسے بطور کفن رکھا تھا وہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ تھے، جیسا کہ محب الطبری نے اپنی کتاب "الاحکام" میں اس کی صراحت کی ہے، لیکن طبرانی نے اس حدیث کو بیان کیا تو قتیبہ بن سعید کے حوالے سے وضاحت کی ہے کہ وہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ تھے۔
امام بخاری ؒ نے بھی قتیبہ بن سعید سے اس روایت کو کتاب اللباس میں بیان کیا ہے، لیکن اسے مبہم ہی رکھا ہے، نیز حافظ ابن حجر ؒ نے اس حدیث سے کئی ایک مسائل کا استنباط کیا ہے اور اس سے "تبرك بآثار الصالحین" کا مسئلہ بھی کشید کیا ہے۔
ہم اس کے متعلق وضاحت کر آئے ہیں کہ اسے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات تک محدود رکھا جائے کیونکہ صحابہ کرام ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شخصیت سے تبرک حاصل نہیں کیا، نیز ایسا کرنے سے غلو اور شرک و بدعت کا دروازہ کھلتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس کر کے پیروں کا تبرک حاصل کرنا درست نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1277]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5323
چادریں اوڑھنے کا بیان۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی، جانتے ہو وہ کیسی چادر تھی؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی شملہ، اس کی گوٹا کناری بنی ہوئی تھی، وہ بولی: اللہ کے رسول! میں نے یہ اپنے ہاتھ سے بنی ہے تاکہ آپ کو پہناؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ باہر نکلے اور ہمارے پاس آئے اور آپ اسی کا تہبند باندھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5323]
اردو حاشہ:
حاکم وقت رعایا کی طرف سے تحفہ قبول کر سکتا ہے نیز اس سے سیاہ دھاری دار چادر کے استعمال کا جواز بھی معلوم ہوا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5323]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3555
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کا بیان۔
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں «بردہ» (چادر) لے کر آئی (ابوحازم نے پوچھا «بردہ» کیا چیز ہے؟ ان کے شیخ نے کہا: «بردہ» شملہ ہے جسے اوڑھا جاتا ہے) اور کہا: اللہ کے رسول! اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ اسے پہن کر کے ہمارے درمیان نکل کر آئے، یہی آپ کا تہبند تھا، پھر فلاں کا بیٹا فلاں آیا (اس شخص کا نام حدیث بیان کرنے کے دن سہل نے لیا تھا لیکن ابوحازم اسے بھول گئے) او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3555]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تحفہ دینا اور تحفہ قبول کرنا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔

(2)
عورتیں دستکاری کے کام کر کے گھر کی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہیں بشرطیکہ پردے کے تقاضے کما حقہ پورے ہو سکیں۔

(3)
کوئی چیز اگر کوئی شخص مانگ لے تو سخاوت کا تقاضہ ہے کہ اسے دے دی جائے اگر چہ خود کو ضرورت ہو۔

(4)
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے مس ہونے والی چیزحصول برکت کے لئے اپنے پاس رکھنا یا استعمال کرنا درست ہے۔
یہ صرف اس صورت میں ہے جب یہ یقینی طور پر ثابت ہو کہ اس کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے رہ چکا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حکمرانوں کو جو خطوط اور گرامی نامے بھیجے تھے ان کے علاوہ اب دنیا میں ایسی کسی چیز کا قطعاَََ َکوئی وجود نہیں ہے۔
یہ جو عوام الناس میں موئے مبارک وغیرہ قسم کی اشیاء مشہور کر دی گئی ہیں بالکل بے اصلی اور بے بنیاد باتیں ہیں۔
ایسی تمام اشیاء کے متعلق دعویٰ با لکل بلا دلیل ہے۔
جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کوئی بھی چیز ازقسم:
عصا، عمامہ، موئے مبارک اور نعلین وغیرہ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں کہیں موجود نہیں۔
یہ سب من گھڑت اور خود ساختہ قصے کہانیاں ہیں۔
واللہ اءعلم۔

(5)
سلف صالحین نے کسی صحابی یا تابعی سے منسوب چیز کو بطور تبرک محفوظ نہیں رکھا۔
جو چیزیں بعض صحابہ ؓ کی طرف منسوب ہیں ان میں سے اکثر کی ان حضرات کی طرف نسبت درست نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3555]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2093
2093. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک عورت بردہ لے کرآئی۔ انھوں نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ بردہ کیا چیز ہے؟کہا گیا: ہاں وہ بڑی چادر جس کے کنارے بنے ہوئے ہوں۔ اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھوں سے بنا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا۔ آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ پھر آپ نے اسے تہبند کےطورپر استعمال کیا اور ہمارے پاس تشریف لائے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ یہ چادرمجھے عنایت کردیں۔ آپ نے فرمایا: "ہاں، لے لو۔ "چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے، پھر واپس تشریف لے گئے اور چادر کو لپیٹ کر اس شخص کے پاس بھیج دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: تونے اچھا نہیں کیا۔ آپ سے چادر کا سوال کیا حالانکہ تجھے علم تھا کہ آپ کسی سائل کو خالی واپس نہیں کرتے۔ اس شخص نے جواب دیا: میں نے آپ سے اس لیے چادر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2093]
حدیث حاشیہ:
روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کے ہاں کرگھا تھا اور وہ کپڑا بنانے کا کام کرنے میں ماہر تھی۔
جو بہترین حاشیہ دار چادر بن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے لائی۔
آپ نے اسے بخوشی قبول کر لیا، مگر ایک صحابی (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ)
تھے جنہوں نے اسے آپ کے جسم پر زیب تن دیکھ کر بطور تبرک اپنے کفن کے لیے اسے آپ سے مانگ لیا۔
اور آپ نے ان کو یہ دے دی، اور ان کے کفن ہی میں وہ استعمال کی گئی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عہد رسالت میں نوربافی کا فن مروج تھا اور اس میں عورتیں تک مہارت رکھتی تھیں، اور اس پیشہ کو کوئی بھی معیوب نہیں جانتا تھا۔
یہی ثابت کرنا حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد باب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2093]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5810
5810. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت بردہ لے کر آئی۔۔۔ حضرت سہل ؓ نے (اپنے شاگرد سے) پوچھا: تم جانتے ہو بردہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں یہ ایک چادر ہے جس کے حاشے بنے ہوتے ہیں۔۔۔ اس عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے یہ چادر اپنے ہاتھوں سے تیار کی ہے اور آپ کو پہنانا چاہتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر ضرورت مند کے طور پر اس سے لے لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند کے طور پر باندھ کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ صحابہ کرام میں سے ایک صاحب نے اسے چھوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! یہ مجھےعطاء کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں لے لو۔ پھر آپ جس قدر اللہ تعالٰی نے چاہا مجلس میں بیٹھے اس کے بعد گھر تشریف لے گئے اور وہ چادر لپیٹ کر اس کے پاس بھیج دی۔ صحابہ کرام نے اس آدمی سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی جبکہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5810]
حدیث حاشیہ:
یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے اس حدیث سے نکلا کہ کفن کے لیے بزرگوں کا مستعمل لباس لے لینا جائز ہے۔
وہ خاتون کس قدر خوش نصیب تھی جس نے اپنے ہاتھوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ اونی چادر بہترین شکل میں تیار کی اور آپ نے اسے بخوشی قبول فرما لیا پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی کیسے خوش نصیب ہیں جن کو یہ چادر کفن کے لیے نصیب ہوئی چونکہ اس حدیث میں آپ کے لیے اونی چادر کا ذکر ہے باب سے یہی مطابقت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5810]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6036
6036. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بردہ لے کر حاضر ہوئی۔۔۔ حضرت سہل ؓ نے اس وقت موجود لوگوں سے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں بردہ کھلی چادر کو کہتے ہیں۔ حضرت سہل ؓ نے فرمایا: ہاں بردہ وہ لنگی جسکا حاشیہ بنا ہوتا ہے۔۔۔ تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی اس سے قبول کر لی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے اسے ذیب تن فرمایا: صحابہ کرام‬ ؓ میں سے ایک شخص نے وہ لنگی تو عرض کی: اللہ لے رسول! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے۔ آپ یہ مجھے عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم لے لو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو اس کے ساتھیوں نے اسے ملامت کی اور کہا کہ تم نے اچھا نہیں کیا، جب تم نے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6036]
حدیث حاشیہ:
یہ بہت بڑے رئیس التجار بزرگ صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف تھے، انہوں نے اس لنگی کا سوال اپنا کفن بنانے کے لئے کیا تھا، چنانچہ یہ اسی کفن میں دفن ہوئے۔
معلوم ہوا کہ جو سچے بزرگان دین باخدا ہوں ان کے ملبوسات سے اس طور پر برکت حاصل کرنا درست ہے۔
اللھم ارزقنا۔
آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6036]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2093
2093. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک عورت بردہ لے کرآئی۔ انھوں نے فرمایا: کیا جانتے ہو کہ بردہ کیا چیز ہے؟کہا گیا: ہاں وہ بڑی چادر جس کے کنارے بنے ہوئے ہوں۔ اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھوں سے بنا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا۔ آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ پھر آپ نے اسے تہبند کےطورپر استعمال کیا اور ہمارے پاس تشریف لائے۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ یہ چادرمجھے عنایت کردیں۔ آپ نے فرمایا: "ہاں، لے لو۔ "چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے، پھر واپس تشریف لے گئے اور چادر کو لپیٹ کر اس شخص کے پاس بھیج دیا۔ لوگوں نے اس سے کہا: تونے اچھا نہیں کیا۔ آپ سے چادر کا سوال کیا حالانکہ تجھے علم تھا کہ آپ کسی سائل کو خالی واپس نہیں کرتے۔ اس شخص نے جواب دیا: میں نے آپ سے اس لیے چادر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2093]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت کپڑا بننے میں ماہر تھی بلکہ اس پر کڑھائی کا کام بھی کرتی تھی کیونکہ اس نے بہترین حاشیہ دارچادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔
آپ نے اسے بخوشی قبول فرمایا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ کپڑا بننے کا پیشہ اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عورتیں اس میں مہارت رکھتی تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں کیا،جس سے اس کے پیشے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
(3)
واضح رہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر بطور تبرک اپنے کفن کے لیے مانگ لی تو آپ نے انھیں عنایت کردی، حالانکہ آپ خود اس کے ضرورت مند تھے۔
راوی کے بیان کے مطابق وہی چادر مانگنے والے صحابی کے لیے بطور کفن استعمال کی گئی۔
رضي الله عنهم اجمعين.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2093]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5810
5810. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک عورت بردہ لے کر آئی۔۔۔ حضرت سہل ؓ نے (اپنے شاگرد سے) پوچھا: تم جانتے ہو بردہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں یہ ایک چادر ہے جس کے حاشے بنے ہوتے ہیں۔۔۔ اس عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے یہ چادر اپنے ہاتھوں سے تیار کی ہے اور آپ کو پہنانا چاہتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر ضرورت مند کے طور پر اس سے لے لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند کے طور پر باندھ کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ صحابہ کرام میں سے ایک صاحب نے اسے چھوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! یہ مجھےعطاء کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں لے لو۔ پھر آپ جس قدر اللہ تعالٰی نے چاہا مجلس میں بیٹھے اس کے بعد گھر تشریف لے گئے اور وہ چادر لپیٹ کر اس کے پاس بھیج دی۔ صحابہ کرام نے اس آدمی سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی جبکہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5810]
حدیث حاشیہ:
(1)
چادر مانگنے والے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مرنے سے پہلے اپنا کفن تیار کرنا جائز ہے، چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں ایک عنوان بھی قائم کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الجنائز، باب: 28) (3)
وہ خاتون کس قدر خوش نصیب تھی جس نے اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہترین اونی چادر تیار کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بخوشی قبول فرمایا اور زیب تن کیا، پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کس قدر خوش نصیب ہیں جنہیں یہ چادر کفن کے لیے نصیب ہوئی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ اونی چادر استعمال کرنا جائز ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5810]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6036
6036. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بردہ لے کر حاضر ہوئی۔۔۔ حضرت سہل ؓ نے اس وقت موجود لوگوں سے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں بردہ کھلی چادر کو کہتے ہیں۔ حضرت سہل ؓ نے فرمایا: ہاں بردہ وہ لنگی جسکا حاشیہ بنا ہوتا ہے۔۔۔ تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی اس سے قبول کر لی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے اسے ذیب تن فرمایا: صحابہ کرام‬ ؓ میں سے ایک شخص نے وہ لنگی تو عرض کی: اللہ لے رسول! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے۔ آپ یہ مجھے عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم لے لو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو اس کے ساتھیوں نے اسے ملامت کی اور کہا کہ تم نے اچھا نہیں کیا، جب تم نے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6036]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ جب وہ شخص فوت ہوا تو یہ چادر اس کا کفن تھی۔
(صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5810) (2)
واضح رہے کہ سوال کرنے والے بزرگ صحابی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔
انھوں نے اس لنگی کا سوال اپنا کفن بنانے کے لیے کیا تھا، چنانچہ فوت ہونے کے بعد ان کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔
(3)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور آپ کے حسن خلق کا پتہ چلتا ہے۔
سخاوت کا یہ عالم ہے کہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود آپ نے سائل کو محروم نہیں کیا، حسن خلق اس قدر کہ آپ کی پیشانی پر شکن نہیں پڑے بلکہ خوش دلی اور خندہ پیشانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر لپیٹ کر سائل کے حوالے کر دی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6036]