🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب التلبية:
باب: تلبیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1550
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي، لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ" تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَقَالَ شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اعمش سے بیان کیا، ان سے عمارہ نے ان سے ابوعطیہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں جانتی ہوں کہ کس طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے تھے «لبيك اللهم لبيك،‏‏‏‏ لبيك لا شريك لك لبيك،‏‏‏‏ إن الحمد والنعمة لك‏» (ترجمہ گزر چکا ہے) اس کی متابعت سفیان ثوری کی طرح ابومعاویہ نے اعمش سے بھی کی ہے۔ اور شعبہ نے کہا کہ مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی کہ میں نے خیثمہ سے سنا اور انہوں نے ابوعطیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مالك بن أبي حمرة الهمداني، أبو عطية
Newمالك بن أبي حمرة الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مختلف في صحبته
👤←👥خيثمة بن عبد الرحمن الجعفي
Newخيثمة بن عبد الرحمن الجعفي ← مالك بن أبي حمرة الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← خيثمة بن عبد الرحمن الجعفي
ثقة حافظ
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← محمد بن خازم الأعمى
صحابي
👤←👥مالك بن أبي حمرة الهمداني، أبو عطية
Newمالك بن أبي حمرة الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مختلف في صحبته
👤←👥عمارة بن عمير التيمي
Newعمارة بن عمير التيمي ← مالك بن أبي حمرة الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمارة بن عمير التيمي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري
ثقة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1550 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1550
حدیث حاشیہ:
(1)
تلبیہ کی مشروعیت میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عزت افزائی کرتا ہے جبکہ اس نے انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور وہ بحیثیت وفد مہمان بن کر حاضر ہوتے ہیں۔
(فتح الباري: 516/3) (2)
تلبیہ کا مطلب حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت پر لبیک کہنا ہے۔
اس کی تفصیل اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہیں حکم دیا گیا کہ اب لوگوں میں اس گھر کے حج کا اعلان کرو۔
حضرت ابراہیم ؑ نے عرض کی:
یا اللہ! روئے زمین پر میری آواز کیسے پہنچے گی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اعلان کرنا تیرا کام اور لوگوں تک اس کا پہنچانا میری ذمہ داری ہے۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے بایں الفاظ اعلان کیا:
اے لوگو! بیت عتیق کا حج کرنا تم پر فرض کر دیا گیا ہے۔
اس اعلان کو زمین و آسمان میں رہنے والے تمام لوگوں نے سنا۔
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ زمین کے اطراف و اکناف سے لوگ تلبیہ کہتے ہوئے بیت اللہ حاضر ہوتے ہیں۔
(المستدرك للحاكم: 388/2، اس روایت کی سند میں کلام ہے۔
)
ایک روایت میں ہے کہ جس نے حضرت ابراہیم ؑ کی آواز پر لبیک کہا:
وہ ضرور بیت اللہ کا حج کرے گا۔
(فتح الباري: 516/3)
اس روایت کی سند میں بھی محل نظر ہے۔
)
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ تلبیہ کے الفاظ میں اضافہ کرنا جائز ہے، تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔
(3)
ابو معاویہ کی متابعت کو امام مسدد نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے۔
اسی طرح شعبہ کی روایت کو ابوداود طیالسی نے بیان کیا ہے، اس روایت میں لَا شَرِيكَ لَكَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
امام بخاری ؒ نے ابو عطیہ کا حضرت عائشہ ؓ سے سماع ثابت کرنے کے لیے یہ روایت بیان کی ہے۔
(فتح الباري: 518/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1550]