🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. باب الحلق والتقصير عند الإحلال:
باب: احرام کھولتے وقت بال منڈوانا یا ترشوانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1726
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1726]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے موقع پر سر کو منڈوایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4411
حلق في حجة الوداع وأناس من أصحابه وقصر بعضهم
صحيح البخاري
4410
حلق رأسه في حجة الوداع
صحيح البخاري
1726
حلق رسول الله في حجته
صحيح البخاري
1729
حلق النبي وطائفة من أصحابه وقصر بعضهم
صحيح مسلم
3151
حلق رأسه في حجة الوداع
صحيح مسلم
3144
حلق رسول الله وحلق طائفة من أصحابه وقصر بعضهم رحم الله المحلقين مرة أو مرتين ثم قال والمقصرين
سنن أبي داود
1980
حلق رأسه في حجة الوداع
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1726 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1726
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ سر منڈانا یا بال کتروانا بھی حج کا ایک کام ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1726]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1726
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس سال حج کا ارادہ کیا جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کے خلاف لشکر کشی کی تھی۔
حضرت ابن عمر ؓ نے احرام باندھا، یہاں تک کہ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے حج کے موقع پر ایسے ہی کیا تھا۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2992(1230) (2)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے احرام کھولتے وقت سر منڈوانا ثابت کیا ہے جبکہ عنوان میں بال کتروانے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ؓ نے سر منڈوائے تھے اور کچھ حضرات نے بال کتروائے تھے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4411)
لیکن عورتوں کے لیے بال منڈوانا جائز نہیں بلکہ وہ اپنی چٹیا کے چند ایک بال لے لیں، چنانچہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عورتوں کے لیے بال منڈوانا نہیں بلکہ صرف ترشوانا ہے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1984)
بہرحال حج یا عمرے کے اختتام پر مردوں کے لیے بال منڈوانا افضل اور کتروانا جائز ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے معلوم ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1726]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3151
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں سر منڈوایا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3151]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سرمنڈانا بالاتفاق کٹوانے سے افضل ہے اور تحلیق وتقصیر حج کی عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔
ائمہ اربعہ کا صحیح قول یہی ہے احرام کھولنے کے لیے حلق یا تقصیر واجب ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
اور اسحاق رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کے نزدیک اگراحرام کھولنے کے بعد حلق یا تقصیر کرے گا،
تو اس کو ایک جانور کی قربانی کرنا ہو گی۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ۔
اورابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قربانی کے آخری دن تک تحلیق یا تقصیر کر سکتا ہے اگر اس سے بھی تاخیر کرے گا تو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دم پڑے گا۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پورا سر منڈوانا فرض ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک چوتھائی سرمنڈوانا فرض ہے۔
اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تین بال منڈوانا فرض ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی ہمارے لیے اسوہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا سر منڈوایا تھا اور عمرہ میں بال بھی مکمل کٹوائے تھے اور عورتوں کے لیے سرمنڈوا ناجائز ہے۔
لیکن چند بالوں کو کٹوا لینا درست ہے اور حلق میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے سوا باقی ائمہ کے نزدیک سر کے دائیں حصہ کو پہلے منڈوانا مستحب ہے اگر کسی کے سر کے بال نہ ہوں تو اس کے سر پر استرا پھیر دیا جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3151]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4411
4411. حضرت ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے کچھ صحابہ کرام نے حجۃ الوداع کے موقع پر سر منڈوائے تھے اور کچھ ساتھیوں نے بال کٹوائے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4411]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارکان حج سے فراغت کے بعد اپنے سر مبارک کے بال منڈوائے اور جن اصحاب نے بال منڈوائے تھے ان کے لیے تین مرتبہ رحم وکرم کی دعا فرمائی اور جنھوں نے بال کٹوائے تھے ان کے لیے صرف ایک مر تبہ دعا کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج وعمرہ کے علاوہ کبھی سرکے بال منڈوانے کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ آپ نے اپنے بالوں کو نہایت اعزاز و احترام سے رکھا۔
آپ کے بال کبھی کانوں تک اور کبھی گردن کے برابر ہوتے۔
جب دیر ہوجاتی تو آپ کے بال مینڈھوں کی صورت اختیار کرلیتے۔
چونکہ ان احادیث میں حجۃ الوداع کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے انھیں ذکر کیا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4411]

Sahih Bukhari Hadith 1726 in Urdu