Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب من مضمض من السويق ولم يتوضأ:
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 210
وحَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوضوء/حدیث: 210]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين
Newكريب بن أبي مسلم القرشي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← كريب بن أبي مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥أصبغ بن الفرج الأموي، أبو عبد الله
Newأصبغ بن الفرج الأموي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
210
أكل عندها كتفا ثم صلى ولم يتوضأ
صحيح مسلم
795
أكل عندها كتفا ثم صلى ولم يتوضأ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 210 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 210
تشریح:
یہاں حضرت امام رحمہ اللہ نے ثابت فرمایا کہ بکری کا شانہ کھانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا تو ستو کھا کر بھی وضو نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلی حدیث میں ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 210]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:210
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں نہ ستو وغیرہ کا ذکر ہے اور نہ کلی وغیرہ کرنے کا بیان ہے۔
شراح بخاری نے اس کی مختلف توجیہات پیش کی ہیں:
(1)
۔
اس حدیث کا تعلق باب سابق سے ہے، لیکن باب در باب کے اصول پر اس سے پہلے ذکر کردہ حدیث پر ایک نیا عنوان قائم کر کے یہ بتایا کہ آگ سے تیار کردہ چیزوں کے استعمال پر منہ کو صاف کرنے کے لیے صرف کلی کافی ہے۔
(2)
۔
حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر یہاں کاتب کی غلطی سے بے محل ہو گیا ہے، کیونکہ فربری کے نسخے میں یہ حدیث باب سابق کے تحت ذکر ہوئی ہے۔
علامہ عینی نے اس کو راجح قراردیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ عام طور پر کتاب نقل کرنے کے لیے خوشخط کاتب کا انتخاب کیا جا تا ہے اور اکثر عمدہ خط والے کاتب جاہل ہوتے ہیں اور جہلاء سے اس قسم کی غلطی ہو سکتی ہے۔
(عمدة القاري: 582/2) (3)
۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترک مضمضہ والی حدیث میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ذکر کر کے اس کے غیر واجب ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے، یعنی کھائی ہوئی چیز چکناہٹ والی تھی اس سے کلی کرنا چاہیے تھی، لیکن بیان جواز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ترک کردیا۔
(فتح الباري: 408/1)
اس میں شک نہیں کہ کلی کو منہ کی صفائی کے لیے رکھا گیا ہے، ستو میں اجزاء کے انتشار اور گوشت میں چکناہٹ کے اثرات دور کرنے کے لیے کلی کی جاتی ہے۔
اگر منہ کے لعاب کے ساتھ وہ اجزاء تحلیل ہو جائیں اسی طرح کچھ دیر گزرنے کے بعد گوشت کی چکناہٹ بھی ختم ہو جائے تو کلی کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، البتہ اگر ان چیزوں کے استعمال کے فوراً بعد نماز ادا کرنا ہو تو کلی کرنی ہوگی، کیونکہ مقصد منہ کی صفائی ہے تاکہ قراءت میں تکلیف نہ ہو۔
اگر نماز کے وقت منہ کسی وجہ سے خود بخود صاف ہوجائے تو کلی کی ضرورت نہیں۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حدیث میمونہ کو:
''مضمضة من السویق" کے تحت لائے ہیں۔
معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک روایت میں اختصار ہے اگرچہ اس میں کلی کا ذکر نہیں لیکن کلی کرنا مراد میں داخل ہے، کیونکہ پہلے باب میں گوشت کے استعمال کے بعد وضو لازم نہ ہونے سے ستو کے بعد بھی وضو لازم نہ ہونے پر استدلال کیا تھا اور یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب ستو کے استعمال کے بعد کلی کی جاتی ہے حالانکہ اس میں چکناہٹ نہیں ہوتی تو گوشت یا دوسری چکناہٹ والی چیزوں کے استعمال کے بعد کلی کرنا بالاولیٰ درست ہو گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 210]