🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
93. باب بيع المخاضرة:
باب: بیع مخاضرہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَاضَرَةِ، وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ".
ہم سے اسحاق بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2207]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» محاقلہ، «الْمُخَاضَرَةِ» مخاضرہ، «الْمُلَامَسَةِ» ملامسہ، «الْمُنَابَذَةِ» منابذہ اور «الْمُزَابَنَةِ» مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح
Newإسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة حجة
👤←👥يونس بن القاسم الحنفي، أبو عمر
Newيونس بن القاسم الحنفي ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عمر بن يونس الحنفي، أبو حفص
Newعمر بن يونس الحنفي ← يونس بن القاسم الحنفي
ثقة
👤←👥إسحاق بن وهب العلاف، أبو يعقوب
Newإسحاق بن وهب العلاف ← عمر بن يونس الحنفي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2207
المحاقلة المخاضرة الملامسة المنابذة المزابنة
بلوغ المرام
673
نهى رسول الله عن المحاقلة،‏‏‏‏ والمخاضرة،‏‏‏‏ والملامسة،‏‏‏‏ والمنابذة،‏‏‏‏ والمزابنة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2207 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2207
حدیث حاشیہ:
حافظ ؒ فرماتے ہیں:
و المراد بیع الثمار و الحبوب قبل أن یبدو صلاحها۔
یعنی مخاضرہ کے معنے پکنے سے پہلے ہی فصل کو کھیت میں بیچنا ہے اور یہ ناجائز ہے۔
محاقلہ کا مفہوم بھی یہی ہے۔
دیگر واردہ اصطلاحات کے معانی ان کے مقامات پر مفصل بیان ہو چکے ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2207]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2207
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خریدوفروخت کی چند ایک قسموں سے منع فرمایا ہے جن میں نقصان یا دھوکے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
ان کی تفصیل یہ ہے:
محاقلہ، یہ حقل سے مشتق ہے جس کے معنی کھیتی کے ہیں۔
اس سے مراد یہ ہے کہ خوشۂ گندم کی بیع کھلی گندم سے کی جائے۔
یہ اس لیے منع ہے کہ اس میں مساوات کا پتہ نہیں چلتا۔
مخاضرہ کا لفظ خضرہ سے ہے جس کے معنی کچی کھیتی یا کچا پھل ہیں، یعنی پھلوں اور دانوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے خریدوفروخت کرنا، البتہ حیوانات کے چارے کے لیے کچی فصل فروخت کی جاسکتی ہے۔
اسی طرح گاجر، مولی، شلجم اور پیاز وغیرہ کو زمین کے اندر فروخت کرنا جائز ہے۔
(2)
واضح رہے کہ محاقلہ اور مخاضرہ دونوں ایک دوسرے کے معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔
ملامسہ اور منابذہ کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔
کپڑے کے تھان پر صرف ہاتھ رکھنے سے بیع پختہ ہوجائے،جس کے متعلق علم نہ ہو کہ سوتی ہے یا ریشمی، اسی طرح محض کسی چیز کو پھینک دینے سے بیع پختہ کرلینا۔
لین دین کی ان اقسام میں جوا پایا جاتا ہے، پھر ان میں نقصان اور دھوکے دونوں کا اندیشہ رہتا ہے، اس لیے منع کردیا گیا۔
مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجوریں اور بیل پر لگے انگور خشک کھجور یا کشمش کے عوض خریدنا،یہ بھی منع ہے، البتہ درخت پر لگی ہوئی کھجوریں عرایا کی صورت میں پختہ کھجوروں کے عوض فروخت کی جاسکتی ہیں جیسا کہ ہم پہلے اس کی وضاحت کر آئے ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2207]

Sahih Bukhari Hadith 2207 in Urdu