علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب إذا قال اكفني مئونة النخل أو غيره، وتشركني فى الثمر:
باب: باغ والا کسی سے کہے کہ تو سب درختوں وغیرہ کی دیکھ بھال کر، تو اور میں پھل میں شریک رہیں گے۔
حدیث نمبر: 2325
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَالَتْ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ، قَالَ: لَا، فَقَالُوا: تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ وَنَشْرَكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ، قَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا".
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے باغات آپ ہم میں اور ہمارے (مہاجر) بھائیوں میں تقسیم فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا تو انصار نے (مہاجرین سے) کہا کہ آپ لوگ درختوں میں محنت کرو۔ ہم تم میوے میں شریک رہیں گے۔ انہوں نے کہا اچھا ہم نے سنا اور قبول کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المزارعة/حدیث: 2325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2719
| اقسم بيننا وبين إخواننا النخيل قال لا فقال تكفونا المئونة ونشرككم في الثمرة قالوا سمعنا وأطعنا |
صحيح البخاري |
3782
| اقسم بيننا وبينهم النخل قال لا قال يكفونا المئونة وتشركونا في التمر قالوا سمعنا وأطعنا |
صحيح البخاري |
2325
| اقسم بيننا وبين إخواننا النخيل قال لا فقالوا تكفونا المئونة ونشرككم في الثمرة قالوا سمعنا وأطعنا |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2325 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2325
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ یہ صورت جائز ہے کہ باغ یا زمین ایک شخص کی ہو اور کام اور محنت دوسرا شخص کرے، دونوں پیداوار میں شریک ہوں، اس کو مساقات کہتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انصار کو زمین تقسیم کردینے سے منع فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ مسلمانوں کی ترقی بہت ہوگی۔
بہت سی زمینیں ملیں گی تو انصار کی زمین انہی کے پاس رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا۔
معلوم ہوا کہ یہ صورت جائز ہے کہ باغ یا زمین ایک شخص کی ہو اور کام اور محنت دوسرا شخص کرے، دونوں پیداوار میں شریک ہوں، اس کو مساقات کہتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انصار کو زمین تقسیم کردینے سے منع فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ مسلمانوں کی ترقی بہت ہوگی۔
بہت سی زمینیں ملیں گی تو انصار کی زمین انہی کے پاس رہنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2325]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2325
حدیث حاشیہ:
(1)
اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انصار نے ازراہ ہمدردی، اخوت کی بنا پر اپنی زمینوں اور باغات کو مہاجرین میں تقسیم کردینے کی پیشکش کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ آئندہ فتوحات ہوں گی، مسلمان ترقی کریں گے، انھیں غنیمت کے طور پر زمین اور باغات ملیں گے، اس لیے آپ نے مدینہ طیبہ کی زمین اور باغات انصار کے پاس رہنے کو مناسب خیال کیا، البتہ دوسری تجویز سے اتفاق کیا کہ کھیت اور باغات انصار کے پاس رہیں، اس میں محنت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری مہاجرین اٹھائیں، اس شرکت کار سے مہاجرین پیداوار میں اپنا حصہ وصول کریں گے۔
اس تجویز سے اتفاق کیا گیا۔
(2)
مزارعت کے ابواب میں اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کاشت کاری کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ زمین یا باغ کا مالک کسی دوسرے کو اس شرط پر شریک کرے کہ وہ کھیت میں محنت اور باغ کی نگرانی کرے گا، اس طرح پیداوار اور پھل کو اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کرلیا جائے گا۔
محنت کرنے والے کا کتنا حصہ ہو، اس کا تعلق حالات وظروف پر ہے۔
اگر پانی وغیرہ آسانی سے دستیاب ہے تو حصہ کم ہوسکتا ہے اور اگر اس کے برعکس پانی کی فراہمی مشکل ہے اور اسے محنت زیادہ کرنی پڑتی ہوتو حصہ زیادہ ہوسکتا ہے ہے۔
عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ حصے کا تعین حالات وظروف کے اعتبار سے کیا جائے۔
والله أعلم.
(1)
اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انصار نے ازراہ ہمدردی، اخوت کی بنا پر اپنی زمینوں اور باغات کو مہاجرین میں تقسیم کردینے کی پیشکش کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ آئندہ فتوحات ہوں گی، مسلمان ترقی کریں گے، انھیں غنیمت کے طور پر زمین اور باغات ملیں گے، اس لیے آپ نے مدینہ طیبہ کی زمین اور باغات انصار کے پاس رہنے کو مناسب خیال کیا، البتہ دوسری تجویز سے اتفاق کیا کہ کھیت اور باغات انصار کے پاس رہیں، اس میں محنت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری مہاجرین اٹھائیں، اس شرکت کار سے مہاجرین پیداوار میں اپنا حصہ وصول کریں گے۔
اس تجویز سے اتفاق کیا گیا۔
(2)
مزارعت کے ابواب میں اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کاشت کاری کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ زمین یا باغ کا مالک کسی دوسرے کو اس شرط پر شریک کرے کہ وہ کھیت میں محنت اور باغ کی نگرانی کرے گا، اس طرح پیداوار اور پھل کو اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کرلیا جائے گا۔
محنت کرنے والے کا کتنا حصہ ہو، اس کا تعلق حالات وظروف پر ہے۔
اگر پانی وغیرہ آسانی سے دستیاب ہے تو حصہ کم ہوسکتا ہے اور اگر اس کے برعکس پانی کی فراہمی مشکل ہے اور اسے محنت زیادہ کرنی پڑتی ہوتو حصہ زیادہ ہوسکتا ہے ہے۔
عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ حصے کا تعین حالات وظروف کے اعتبار سے کیا جائے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2325]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3782
3782. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہیں کروں گا۔“ اس پر انصار نے کہا: پھر آپ ایسا کریں کہ وہ باغات میں کام کاج اپنے ذمے لے لیں اور پیداوار میں ہمارے ساتھی ہو جائیں۔ مہاجرین نے کہا: ہمیں یہ بات تسلیم ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3782]
حدیث حاشیہ:
یعنی اس میں مضائقہ نہیں باغ تمہارے ہی رہیں ہم ان میں محنت کریں گے اس کی اجرت میں آدھا پھل لے لیں گے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین میں باغوں کی تقسیم منظور نہیں فرمائی۔
کیونکہ آپ کو وحی الٰہی سے معلوم ہوگیا تھا کہ آئندہ فتوحات بہت ہوں گی بہت سی جائیدادیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں گی پھر انصار کی موروثی جائیداد کیوں تقسیم کرائی جائے۔
صدق صلی اللہ علیہ وسلم ۔
یعنی اس میں مضائقہ نہیں باغ تمہارے ہی رہیں ہم ان میں محنت کریں گے اس کی اجرت میں آدھا پھل لے لیں گے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین میں باغوں کی تقسیم منظور نہیں فرمائی۔
کیونکہ آپ کو وحی الٰہی سے معلوم ہوگیا تھا کہ آئندہ فتوحات بہت ہوں گی بہت سی جائیدادیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں گی پھر انصار کی موروثی جائیداد کیوں تقسیم کرائی جائے۔
صدق صلی اللہ علیہ وسلم ۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3782]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3782
3782. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کر دیں۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہیں کروں گا۔“ اس پر انصار نے کہا: پھر آپ ایسا کریں کہ وہ باغات میں کام کاج اپنے ذمے لے لیں اور پیداوار میں ہمارے ساتھی ہو جائیں۔ مہاجرین نے کہا: ہمیں یہ بات تسلیم ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3782]
حدیث حاشیہ:
جب مہاجرین اپنا وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ طیبہ آئے تو معاش کے ہاتھوں بہت پریشان تھے گھر بار عزیز واقارب اور کاروبار چھوٹنے کا غم اس پر مستزاد تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، جس کی وجہ سے مہاجرین وانصارآپس میں شیر و شکر ہوگئے اور ایک دوسرے کو حقیقی بھائی سمجھنے لگے۔
تقسیم باغات کی پیش کش بھی سلسلہ مؤاخات کا نتیجہ تھا جسے رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور نہ فرمایا کیونکہ آپ کو بذریعہ وحی معلوم ہو گیا تھا کہ آئندہ بہت فتوحات ہوں گی۔
بہت سی جائیدادیں مسلمانوں کے ہاتھ لگیں گی۔
اس بنا پر آپ نے انصار کی موروثی جائیداد کو تقسیم کرنا پسندنہ فرمایا بلکہ باغات کو انصار کے پاس رہنے دیا البتہ محنت وغیرہ مہاجرین نے اپنے ذمے لے لی۔
پھر پیدا وار نصف نصف پر تقسیم ہو جاتی۔
جب مہاجرین اپنا وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ طیبہ آئے تو معاش کے ہاتھوں بہت پریشان تھے گھر بار عزیز واقارب اور کاروبار چھوٹنے کا غم اس پر مستزاد تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، جس کی وجہ سے مہاجرین وانصارآپس میں شیر و شکر ہوگئے اور ایک دوسرے کو حقیقی بھائی سمجھنے لگے۔
تقسیم باغات کی پیش کش بھی سلسلہ مؤاخات کا نتیجہ تھا جسے رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور نہ فرمایا کیونکہ آپ کو بذریعہ وحی معلوم ہو گیا تھا کہ آئندہ بہت فتوحات ہوں گی۔
بہت سی جائیدادیں مسلمانوں کے ہاتھ لگیں گی۔
اس بنا پر آپ نے انصار کی موروثی جائیداد کو تقسیم کرنا پسندنہ فرمایا بلکہ باغات کو انصار کے پاس رہنے دیا البتہ محنت وغیرہ مہاجرین نے اپنے ذمے لے لی۔
پھر پیدا وار نصف نصف پر تقسیم ہو جاتی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3782]
Sahih Bukhari Hadith 2325 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي