🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب من رأى أن صاحب الحوض والقربة أحق بمائه:
باب: جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حقدار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2367
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَذُودَنَّ رِجَالًا عَنْ حَوْضِي، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ عَنِ الْحَوْضِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں (قیامت کے دن) اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح ہانک دوں گا جیسے اجنبی اونٹ حوض سے ہانک دیئے جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2367]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث
Newمحمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← محمد بن زياد القرشي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6587
بينا أنا قائم إذا زمرة حتى إذا عرفتهم خرج رجل من بيني وبينهم فقال هلم فقلت أين قال إلى النار والله قلت وما شأنهم قال إنهم ارتدوا بعدك على أدبارهم القهقرى ثم إذا زمرة حتى إذا عرفتهم خرج رجل من بيني وبينهم فقال هلم قلت أين قال إلى النار والله
صحيح البخاري
6586
يرد على الحوض رجال من أصحابي فيحلئون عنه فأقول يا رب أصحابي فيقول إنك لا علم لك بما أحدثوا بعدك إنهم ارتدوا على أدبارهم القهقرى
صحيح البخاري
2367
لأذودن رجالا عن حوضي كما تذاد الغريبة من الإبل عن الحوض
صحيح مسلم
5993
لأذودن عن حوضي رجالا كما تذاد الغريبة من الإبل
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2367 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2367
حدیث حاشیہ:
یہیں سے باب کا مطابقت نکلتا ہے۔
کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوض والے پر انکار نہیں کیا، اس امر پر کہ وہ جانوروں کو اپنے حوض سے ہانک دیتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2367]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2367
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوض والے پر انکار نہیں کیا جو اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہانک دیتا ہے۔
اگر وہ اپنے حوض کے پانی کا زیادہ حق دار نہ ہو تو وہ اقدام کیونکر کر سکتا ہے، نیز اس حدیث میں حوض کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے اور آپ اپنوں کو پلانے اور دوسروں کو بھگانے کے زیادہ حق دار ہیں۔
قیامت کے دن آپ اللہ کی طرف سے عطا کردہ اختیارات استعمال فرمائیں گے۔
(فتح الباري: 55/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2367]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5993
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے حوض سے کچھ مردوں کو اس طرح ہٹاؤں گا، جس طرح اجنبی اونٹوں کو ہٹایا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5993]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جو لوگ آپ کے حوض سے پانی پینے کے حقدار نہیں ہوں گے،
آپ ان کو اپنی امت کو پلانے کی خاطر ہٹا دیں گے،
تاکہ آپ کی امت آسانی سے پانی پی سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5993]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6586
6586. حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حوض ميرے ساتھیوں کی ایک جماعت آئے گی۔ پھر انہیں وہاں سے دور کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالٰی فرمائے گا: تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔ یہ الٹے پاؤں اسلام سے واپس ہو گئے تھے۔ شعیب نے امام زہری سے بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ صلی اللہ علیہ وسلم فیجلون کے الفاظ بیان کرتے تھے اور عقیل فیحلون بیان کرتے تھے۔ زبیدی نے امام زہری سے بیان کیا، انہوں نے محمد بن علی سے وہ عبیداللہ بن ابی رافع سے، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6586]
حدیث حاشیہ:
(1)
روایت میں اصحابی سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کیا تھا۔
یا ان سے مراد بعد میں آنے والے وہ نام نہاد مسلمان ہوں گے جنہوں نے دین میں نئی نئی بدعات نکال کر اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بدعت سے کوسوں دور تھے۔
(2)
مجالس میلاد، مروجہ تیجہ، فاتحہ، ساتا، گیارہویں، چالیسواں، قل خوانی، قبر پرستی، عرس کرنے والے، تعزیہ پرست، اولیاء کی قبروں پر مزارات تعمیر کر کے انہیں مساجد کا درجہ دینے والے، مکار قسم کے پیر و مرشد اور خود ساختہ امام یہ سب حدیث کا مصداق ہیں۔
ظاہر میں یہ مسلمان نظر آتے ہیں لیکن اندر سے کفر و شرک اور بدعات و رسومات میں سرتاپا غرق ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایسے اہل بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے جام کوثر نصیب نہیں کرے گا۔
(3)
مروجہ بدعات سے ہر حال میں بچنا مخلص مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ حوض کوثر کا پانی نصیب ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
میرے حوض کوثر پر زیادہ تعداد (صحابہ میں سے)
فقراء مہاجرین کی ہو گی، پراگندہ بالوں والے اور ان کے کپڑے بھی میلے کچیلے ہوں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ناز و نعمت والی عورتوں سے نکاح کیا ہو گا نہ ان کے لیے دروازے کھولے جاتے تھے۔
(مسند أحمد: 132/2، 275/5، و سلسلة الأحادیث الصحیحة للألباني، حدیث: 1082)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6586]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6587
6587. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئی۔ جب میں نے انہیں پہچان لیا تو ایک آدمی اور ان کے درمیان سے نکلا اور ان سے کہا: ادھر آؤ۔ میں نے کہا: انہیں کدھر جانا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! جہنم کی طرف لے جانا ہے۔ میں نے کہا: ان کا کیا حال ہے؟ یعنی کیا وجہ؟ اس نے کہا: یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آیا۔ جب میں نے انہیں بھی پہچان لیا تو ایک شخص میرے اور ان کے درمیان سے نکلا اور ان سے کہا: ادھر آؤ۔ میں نے پوچھا: انہیں کدھر جانا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! جہنم کی طرف۔ میں نے کہا:ان کا کیا حال ہے؟ یعنی کیا وجہ؟ اس نے کہا: یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل پھر گئے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا مگر اکا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:6587]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں جن لوگوں کے متعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے روک دیے جائیں گے، ان کی تعیین مشکل ہے کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور کس طبقے سے ان کا تعلق ہو گا۔
ان کا معلوم کرنا ہمارے لیے ضروری نہیں۔
ہمارے لیے تو خاص سبق ہے کہ اگر ہم حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے کے خواہش مند ہیں تو مضبوطی کے ساتھ اس دین پر قائم رہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے لائے تھے اور اس میں اپنی طرف سے کوئی ترمیم یا کمی بیشی نہ کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے نیک افراد سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں جیسا کہ آپ نے فرمایا:
آخرت میں ہر نبی کا ایک حوض ہو گا اور وہ اس بات پر باہم فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے پاس زیادہ پینے والے آتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ ان سب میں سے میرے پاس آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔
(جامع الترمذي، صفة القیامة، حدیث: 2443)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6587]