🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب إذا وجد خشبة فى البحر أو سوطا أو نحوه:
باب: اگر کوئی سمندر میں لکڑی یا ڈنڈا یا اور کوئی ایسی ہی چیز پائے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2430
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، فَخَرَجَ يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا قَدْ جَاءَ بِمَالِهِ، فَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا، فَلَمَّا نَشَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ".
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک مرد کا ذکر کیا۔ پھر پوری حدیث بیان کی (جو اس سے پہلے گزر چکی ہے) کہ (قرض دینے والا) باہر یہ دیکھنے کے لیے نکلا کہ ممکن ہے کوئی جہاز اس کا روپیہ لے کر آیا ہو۔ (دریا کے کنارے پر جب وہ پہنچا) تو اسے ایک لکڑی ملی جسے اس نے اپنے گھر کے ایندھن کے لیے اٹھا لیا۔ لیکن جب اسے چیرا تو اس میں روپیہ اور خط پایا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2430]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک مرد کا ذکر کیا، پھر پوری حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے: وہ شخص باہر نکلا شاید کوئی جہاز اس کا مال لے کر آیا ہو، تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک لکڑی تیر رہی ہے، وہ اسے اٹھا لایا تاکہ اہل خانہ اسے جلانے میں استعمال کریں، جب اس نے اسے پھاڑا تو (اس میں) اس کا مال اور ایک رقعہ برآمد ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللقطة/حدیث: 2430]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥جعفر بن ربيعة القرشي، أبو شرحبيل
Newجعفر بن ربيعة القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← جعفر بن ربيعة القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2430 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2430
حدیث حاشیہ:
ثابت ہوا کہ دریا میں سے ایسی چیزوں کو اٹھایا جاسکتا ہے بعد میں جو کیفیت سامنے آئے اس کے مطابق عمل کیا جائے۔
اسرائیلی مرد کی حسن نیت کا ثمرہ تھا کہ پائی ہوئی لکڑی کو چیرا تو اسے اس کے اندر اپنی امانت کی رقم مل گئی۔
اسے ہر دو نیک دل اسرائیلوں کی کرامت ہی کہنا چاہئے۔
ورنہ عام حالات میں یہ معاملہ بے حد نازک ہے۔
یہ بھی ثابت ہوا کہ کچھ بندگان خدا ادائیگی امانت اور عہد کی پاسداری کا کس حد تک خیال رکھتے ہیں اور یہ بہت ہی کم ہیں۔
علامہ قسطلانی فرماتے ہیں:
و موضع الترجمة قوله فأخذها و هو مبني علی أن شرع من قبلنا شرع لنا ما لم یأت في شرعنا ما یخالفه لا سیما إذا ورد بصوة الثناء علی فاعله یعنی یہاں مقام ترجمۃ الباب راوی کے یہ الفاظ ہیں۔
فأخذها یعنی اس کو اس نے لے لیا۔
اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
کیوں کہ ہمارے پہلے والوں کی شریعت بھی ہمارے لیے شریعت ہے۔
جب تک وہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو۔
خاص طور پر جب کہ اس کے فاعل پر ہماری شریعت میں تعریف کی گئی ہو۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہر دو اسرائیلیوں کی تعریف فرمائی۔
ان کا عمل اس وجہ سے ہمارے لیے قابل اقتداءبن گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2430]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2430
حدیث حاشیہ:
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ دریا یا میدانی علاقے سے کوئی معمولی چیز ملے تو اٹھانے والا اسے استعمال کر سکتا ہے اور اسے اپنے مصرف میں لانا جائز ہے۔
اس حدیث کے مطابق اس شخص نے دریا میں بہنے والی لکڑی بطور ایندھن اٹھائی۔
یہ اس بنا پر کہ پہلی شریعت بھی ہمارے لیے حجت ہے بشرطیکہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کو بطور مدح و تعریف بیان کیا ہے اور اس کے متعلق آپ سے انکار منقول نہیں۔
(2)
اس میں کوئی شک نہیں کہ دریا میں بہنے والی لکڑی یا میدانی علاقے سے ملنے والی کوئی معمولی چیز اٹھائی جا سکتی ہے لیکن آج کل دریاؤں سے بار برداری کا کام لیا جاتا ہے۔
پہاڑوں پر درختوں کی لکڑیاں کاٹ کر دریاؤں میں ڈال دی جاتی ہیں۔
نیچے لکڑی کی منڈیاں ہوتی ہیں جہاں تاجر اپنا مال پہچان کر دریا سے نکال لیتے ہیں۔
اس قسم کی لکڑی اٹھانا جائز نہیں۔
اس کی نوعیت دوسری ہے۔
اسے گری پڑی چیز قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ اسے معمولی ہی خیال کیا جا سکتا ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2430]

Sahih Bukhari Hadith 2430 in Urdu