🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب شهادة القاذف والسارق والزاني:
باب: زنا کی تہمت لگانے والے اور چور اور زانی کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى، وَلَمْ يُحْصَنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبِ عَامٍ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا عقیل سے، وہ ابن شہاب سے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے جو شادی شدہ نہ ہوں اور زنا کریں۔ یہ حکم دیا تھا کہ انہیں سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2649]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن خالد الجهني، أبو عبد الرحمن، أبو زرعة، أبو طلحةصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← زيد بن خالد الجهني
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد
Newعقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2649
أمر فيمن زنى ولم يحصن بجلد مائة وتغريب عام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2649 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2649
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒ کامقصد اس روایت کے لانے سے یہ ہے کہ جب حدیث میں غیر محصن کی سزا یہی مذکور ہوئی کہ سوکوڑے مارو اور ایک سال کے لیے جلاوطن کرو اور توبہ کا علحدہ ذکر نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا ایک سال تک بے وطن رہنا یہی توبہ ہے۔
اس کے بعد اس کی شہادت قبول ہوگی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2649]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2649
حدیث حاشیہ:
(1)
زنا کرنے سے بھی انسان کی عدالت مجروح ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ گواہی کے قابل نہیں رہتا۔
جب اس پر گناہ کی حد لگ جائے تو یہ اس جرم کا کفارہ ہے اور وہ گواہی کے قابل ہو جاتا ہے۔
(2)
عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی پر صرف حد لگائی ہے کہ اسے سو کوڑے مارے ہیں اور ایک سال کے لیے وطن سے نکال دیا۔
اس کے علاوہ علیحدہ طور پر توبہ وغیرہ کا ذکر احادیث میں منقول نہیں۔
معلوم ہوا کہ ایک سال تک جلا وطن رہنا ہی اس کی توبہ ہے۔
جلا وطن کرنے کا اصل مقصد اس شخص کو ایک سال کے لیے ماحول سے کاٹ دینا ہے، سزا بھگتنے کے بعد اس کی گواہی قبول ہو گی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2649]