🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
170. باب هل يستأسر الرجل ومن لم يستأسر، ومن ركع ركعتين عند القتل:
باب: اپنے تئیں قید کرا دینا اور جو شخص قید نہ کرائے اس کا حکم اور قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3045
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رَهْطٍ سَرِيَّةً عَيْنًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَأَةِ وَهُوَ بَيْنَ عُسْفَانَ ومَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو لَحْيَانَ فَنَفَرُوا لَهُمْ قَرِيبًا مِنْ مِائَتَيْ رَجُلٍ كُلُّهُمْ رَامٍ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا مَأْكَلَهُمْ تَمْرًا تَزَوَّدُوهُ مِنْ الْمَدِينَةِ، فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ فَلَمَّا رَآهُمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ وَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ، فَقَالُوا لَهُمْ: انْزِلُوا وَأَعْطُونَا بِأَيْدِيكُمْ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ وَلَا نَقْتُلُ مِنْكُمْ أَحَدًا، قَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ أَمِيرُ السَّرِيَّةِ: أَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ الْيَوْمَ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ، اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ فَرَمَوْهُمْ بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةٍ فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ بِالْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ وابْنُ دَثِنَةَ وَرَجُلٌ آخَرُ، فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَأَوْثَقُوهُمْ، فَقَالَ: الرَّجُلُ الثَّالِثُ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللَّهِ لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي فِي هَؤُلَاءِ لَأُسْوَةً يُرِيدُ الْقَتْلَى فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ عَلَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَأَبَى فَقَتَلُوهُ، فَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وابْنِ دَثِنَةَ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ بَعْدَ وَقْعَةِ بَدْرٍ فَابْتَاعَ خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَبِثَ خُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا. فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ أَنَّ بِنْتَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ، فَأَخَذَ ابْنًا لِي وَأَنَا غَافِلَةٌ حِينَ أَتَاهُ، قَالَتْ: فَوَجَدْتُهُ مُجْلِسَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ فَفَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَهَا خُبَيْبٌ فِي وَجْهِي، فَقَالَ: تَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ فِي يَدِهِ، وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرٍ وَكَانَتْ تَقُولُ: إِنَّهُ لَرِزْقٌ مِنَ اللَّهِ رَزَقَهُ خُبَيْبًا فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِّ، قَالَ لَهُمْ: خُبَيْبٌ ذَرُونِي أَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَتَرَكُوهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنْ تَظُنُّوا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ لَطَوَّلْتُهَا اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ فَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ لِكُلِّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا فَاسْتَجَابَ اللَّهُ لِعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيبَ، فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ وَمَا أُصِيبُوا وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمٍ حِينَ حُدِّثُوا أَنَّهُ قُتِلَ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ، وَكَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَبُعِثَ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلُ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ، فَحَمَتْهُ مِنْ رَسُولِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى أَنْ يَقْطَعَ مِنْ لَحْمِهِ شَيْئًا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ اس سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عمرو بن سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی ‘ وہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دوست ‘ انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کی ایک جماعت کفار کی جاسوسی کے لیے بھیجی ‘ اس جماعت کا امیر عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا اور جماعت روانہ ہو گئی۔ جب یہ لوگ مقام ھداۃ پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان میں ہے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنولحیان کو کسی نے خبر دے دی اور اس قبیلہ کے دو سو تیر اندازوں کی جماعت ان کی تلاش میں نکلی ‘ یہ سب صحابہ کے نشانات قدم سے اندازہ لگاتے ہوئے چلتے چلتے آخر ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں صحابہ نے بیٹھ کر کھجوریں کھائی تھیں ‘ جو وہ مدینہ منورہ سے اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔ پیچھا کرنے والوں نے کہا کہ یہ (گٹھلیاں) تو یثرب (مدینہ) کی (کھجوروں کی) ہیں اور پھر قدم کے نشانوں سے اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ آخر عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب انہیں دیکھا تو ان سب نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی ‘ مشرکین نے ان سے کہا کہ ہتھیار ڈال کر نیچے اتر آؤ ‘ تم سے ہمارا عہد و پیمان ہے۔ ہم کسی شخص کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ مہم کے امیر نے کہا کہ میں تو آج کسی صورت میں بھی ایک کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! ہماری حالت سے اپنے نبی کو مطلع کر دے۔ اس پر ان کافروں نے تیر برسانے شروع کر دئیے اور عاصم رضی اللہ عنہ اور سات دوسرے صحابہ کو شہید کر ڈالا باقی تین صحابی ان کے عہد و پیمان پر اتر آئے، یہ خبیب انصاری رضی اللہ عنہ ابن دثنہ رضی اللہ عنہ اور ایک تیسرے صحابی (عبداللہ بن طارق بلوی رضی اللہ عنہ) تھے۔ جب یہ صحابی ان کے قابو میں آ گئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کے تانت اتار کر ان کو ان سے باندھ لیا ‘ عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ میں تمہارے ساتھ ہرگز نہ جاؤں گا ‘ بلکہ میں تو انہیں کا اسوہ اختیار کروں گا ‘ ان کی مراد شہداء سے تھی۔ مگر مشرکین انہیں کھنچنے لگے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا جب وہ کسی طرح نہ گئے تو ان کو بھی شہید کر دیا۔ اب یہ خبیب اور ابن دثنہ رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر چلے اور ان کو مکہ میں لے جا کر بیچ دیا۔ یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے لڑکوں نے خرید لیا، خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ آپ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی بن کر رہے، (زہری نے بیان کیا) کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی اور انہیں حارث کی بیٹی (زینب رضی اللہ عنہا) نے خبر دی کہ جب (ان کو قتل کرنے کے لیے) لوگ آئے تو زینب سے انہوں نے موئے زیر ناف مونڈنے کے لیے استرا مانگا۔ انہوں نے استرا دے دیا، (زینب نے بیان کیا) پھر انہوں نے میرے ایک بچے کو اپنے پاس بلا لیا ‘ جب وہ ان کے پاس گیا تو میں غافل تھی ‘ زینب نے بیان کیا کہ پھر جب میں نے اپنے بچے کو ان کی ران پر بیٹھا ہوا دیکھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا ‘ تو میں اس بری طرح گھبرا گئی کہ خبیب رضی اللہ عنہ بھی میرے چہرے سے سمجھ گئے انہوں نے کہا ‘ تمہیں اس کا خوف ہو گا کہ میں اسے قتل کر ڈالوں گا ‘ یقین کرو میں کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔ اللہ کی قسم! کوئی قیدی میں نے خبیب سے بہتر کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ انگور کا خوشہ ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس میں سے کھا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ کہا کرتی تھیں کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی روزی تھی جو اللہ نے خبیب رضی اللہ عنہ کو بھیجی تھی۔ پھر جب مشرکین انہیں حرم سے باہر لائے ‘ تاکہ حرم کے حدود سے نکل کر انہیں شہید کر دیں تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ پھر خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا ‘ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں (قتل سے) گھبرا رہا ہوں تو میں ان رکعتوں کو اور لمبا کرتا۔ اے اللہ! ان ظالموں سے ایک ایک کو ختم کر دے، (پھر یہ اشعار پڑھے) جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں ‘ تو مجھے کسی قسم کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ خواہ اللہ کے راستے میں مجھے کسی پہلو پر بھی پچھاڑا جائے، یہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو اس جسم کے ٹکڑوں میں بھی برکت دے سکتا ہے جس کی بوٹی بوٹی کر دی گئی ہو۔ آخر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے ان کو شہید کر دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ سے ہی ہر اس مسلمان کے لیے جسے قید کر کے قتل کیا جائے (قتل سے پہلے) دو رکعتیں مشروع ہوئی ہیں۔ ادھر حادثہ کے شروع ہی میں عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ (مہم کے امیر) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی تھی کہ اے اللہ! ہماری حالت کی خبر اپنے نبی کو دیدے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو وہ سب حالات بتا دیئے تھے جن سے یہ مہم دو چار ہوئی تھی۔ کفار قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ عاصم شہید کر دیئے گئے تو انہوں نے نے ان کی لاش کے لیے اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کی جسم کا کوئی ایسا حصہ کاٹ لائیں جس سے ان کی شناخت ہو سکتی ہو۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں کفار قریش کے ایک سردار (عقبہ بن ابی معیط) کو قتل کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کا ایک چھتہ عاصم کی نعش پر قائم کر دیا انہوں نے قریش کے آدمیوں سے عاصم کی لاش کو بچا لیا اور وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3045]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ پر مشتمل ایک جماعت کفار کی جاسوسی کے لیے روانہ فرمائی۔ آپ نے اس جماعت کا امیر حضرت عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے نانا حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، چنانچہ وہ لوگ (مدینے سے) چلے گئے۔ جب وہ مقام «هَدَاة» پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان کو کسی نے ان کی آمد کی خبر دی۔ اس قبیلے کے تقریباً دو سو تیر انداز ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے قدموں کے نشانات سے اندازہ لگاتے ہوئے آخر ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیٹھ کر کھجوریں کھائی تھیں جو وہ مدینہ طیبہ سے اپنے ہمراہ لے کر چلے تھے۔ تعاقب والوں نے کہا: یہ تو یثرب کی کھجوریں معلوم ہوتی ہیں۔ بالآخر وہ ان کے قدموں کے نشانات سے اندازہ لگاتے ہوئے آگے بڑھے۔ جب عاصم اور ان کے ساتھیوں نے انہیں دیکھ لیا تو انہوں نے پہاڑ کی ایک چوٹی پر پناہ لے لی۔ مشرکین نے ان سے کہا کہ ہتھیار ڈال کر نیچے آجاؤ، تم سے ہمارا عہد و پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی شخص کو قتل نہیں کریں گے۔ مہم کے امیر حضرت عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو آج کسی صورت میں کافر کی پناہ قبول نہیں کروں گا، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ» اے اللہ! ہماری طرف سے اپنے نبی کو ان حالات کی اطلاع کر دے۔ بہر حال ان پر کافروں نے تیر برسانے شروع کر دیے اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کو سات ساتھیوں سمیت شہید کر ڈالا۔ باقی تین صحابی حضرت خبیب انصاری رضی اللہ عنہ، حضرت ابن دثنہ رضی اللہ عنہ اور ایک تیسرا شخص ان کے عہد و پیمان پر چوٹی سے نیچے اتر آئے۔ جب یہ تینوں صحابی پوری طرح ان کے نرغے میں آگئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کی تانتیں اتار کر انہیں باندھ دیا۔ تیسرے آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تمہاری پہلی غداری ہے، اس لیے میں تو تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا بلکہ میں تو اپنے پیش روؤں کا نمونہ اختیار کروں گا، ان کی مراد شہداء سے تھی، چنانچہ مشرکین انہیں گھسیٹنے لگے اور زبردستی اپنے ساتھ لے جانا چاہا۔ جب وہ کسی بھی طرح ساتھ جانے پر آمادہ نہ ہوئے تو ان لوگوں نے انہیں شہید کر دیا۔ اب یہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن دثنہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر چلے اور مکہ پہنچ کر انہیں فروخت کر دیا۔ یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے، چنانچہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاں چند دن قید رہے۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے عبید اللہ بن عیاض نے بتایا، انہیں حارث کی بیٹی نے خبر دی کہ جب انہوں نے خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے پر اتفاق کر لیا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے زیر ناف بالوں کی صفائی کے لیے اس سے استرا مانگا، تو اس نے عاریتاً انہیں استرا فراہم کر دیا۔ میری بے خبری میں میرا بیٹا حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اسے پکڑ کر اپنی ران پر بٹھا لیا جبکہ استرا ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں اس قدر پریشان ہوئی کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے میری گھبراہٹ کو میرے چہرے سے بھانپ لیا۔ انہوں نے کہا: تمہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ (نہیں، نہیں) میں یہ اقدام ہرگز نہیں کروں گا، عورت کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر میں نے کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ خوشہ انگور ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ مزے سے انہیں کھا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ مکرمہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ وہ کہتی تھی: بلا شبہ یہ تو اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو عطا کیا تھا۔ بہر حال جب وہ لوگ انہیں قتل کرنے کے لیے حرم کی حدود سے باہر لے گئے تو ان سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے دو رکعتیں ادا کرنے کی مہلت دو تو انہوں نے چھوڑ دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر کہا: اگر تم میرے متعلق بدگمانی نہ کرتے کہ میں قتل سے گھبرا گیا ہوں تو میں اپنی نماز کو ضرور طویل کرتا۔ پھر انہوں نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا» اے اللہ! ان کو چن چن کر صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ پھر یہ اشعار پڑھے: «وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا، عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي، وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ، يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ» جب میں مسلمان ہو کر قتل کیا جا رہا ہوں تو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اللہ کی راہ میں مجھے کس پہلو پر گر کر مرنا ہو گا۔ یہ سب کچھ اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے۔ اگر اللہ چاہے تو میرے بریدہ جسم کے جوڑ جوڑ میں برکت پیدا فرما دے۔ آخر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے ان کو شہید کر دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ہر مسلمان کے لیے دو رکعتیں پڑھنے کا طریقہ جاری کر دیا جسے باندھ کر قتل کیا جائے۔ دوسری طرف حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دعا کو اللہ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس جگر پاش واقعے کی اطلاع دی اور جن جن آزمائشوں سے وہ دوچار ہوئے تھے ان سب حالات سے انہیں آگاہ کیا، نیز کفار قریش کو جب حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو انہوں نے کچھ آدمی روانہ کیے تاکہ ان کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لائیں جس سے ان کی شناخت ممکن ہو کیونکہ انہوں نے بدر کی لڑائی میں ان کے بڑے سردار کو جہنم واصل کیا تھا۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ پر سیاہ بادل کی طرح شہد کی مکھیوں کا ایک جتھا بھیج دیا گیا جنہوں نے کفار کے قاصدوں سے ان کے جسم کو محفوظ رکھا، چنانچہ وہ ان کے گوشت سے کچھ بھی کاٹنے پر قادر نہ ہو سکے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ابنة الحارث بن عامر النوفليصحابي
👤←👥عبيد الله بن عياض الحجازي
Newعبيد الله بن عياض الحجازي ← ابنة الحارث بن عامر النوفلي
ثقة
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← عبيد الله بن عياض الحجازي
صحابي
👤←👥عمرو بن أبي سفيان الثقفي
Newعمرو بن أبي سفيان الثقفي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عمرو بن أبي سفيان الثقفي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7402
بعث رسول الله عشرة منهم خبيب الأنصاري فأخبرني عبيد الله بن عياض أن ابنة الحارث أخبرته أنهم حين اجتمعوا استعار منها موسى يستحد بها فلما خرجوا من الحرم ليقتلوه قال خبيب الأنصاري ولست أبالي حين أقتل مسلما على أي شق كان لله مصرعي وذلك في ذات الإله وإن يشأ يبا
صحيح البخاري
3045
بعث رسول الله عشرة رهط سرية عينا وأمر عليهم عاصم بن ثابت الأنصاري جد عاصم بن عمر بن الخطاب فانطلقوا حتى إذا كانوا بالهدأة وهو بين عسفان و مكة ذكروا لحي من هذيل يقال لهم بنو لحيان فنفروا لهم قريبا من مائتي رجل كلهم رام فاقتصوا آثارهم حتى وجدوا مأكلهم تمرا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3045 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3045
حدیث حاشیہ:
عاصم بن عمر ؓ کی والدہ جمیلہ عاصم بن ثابت کی بیٹی تھیں۔
بعضوں نے کہا یہ عاصم بن عمر ؓ کے ماموں تھے اور جمیلہ ان کی بہن تھیں۔
خیر ان چھ آدمیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر بھیجا تھا۔
وہ جنگ احد کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں۔
ہمارے ساتھ چند صحابہ ؓ کو کر دیجئے جو ہم کو دین کی تعلیم دیں۔
آپ نے مرثد بن ابی مرثد اور خالد بن بکیر اور خبیب بن عدی اور زید بن دثنہ اور عبداللہ بن طارق ؓ کو ان کے ساتھ کر دیا‘ راستے میں بنو لحیان کے لوگوں نے ان پر حملہ کیا‘ اور دغا سے مار ڈالا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3045]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3045
حدیث حاشیہ:

حضرت خبیب ؓ کو شہید کرنے والے ابو سروعہ عقبہ بن حارث ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازی، حدیث: 3989)
یہ بعد میں مسلمان ہو گئے تھے نیز یہ وہی عقبہ بن حارث ہیں جنھوں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی تھی۔
پھر ایک سیاہ فام عورت نے بتایا کہ میں نے تجھے اور تیری بیوی دونوں کو دودھ پلایا ہے تو انھوں نے مسئلے کی تحقیق کے لیے مکہ سے مدینہ طیبہ کا سفر کیا بالآخر انھوں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کر لی۔
(صحیح البخاري، العلم، حدیث: 88)

امام بخاری ؒ کا عنوان تین اجزاء پر مشتمل ہے ایک یہ کہ کیا انسان خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر سکتا ہے؟ اس کے ثبوت کے لیے حضرت خبیب ؓ اور حضرت ابن دثنہ ؓ کا واقعہ ہے کہ انھوں نے خود کو کفار کے سامنے گرفتاری کے لیے پیش کیا بالآخرجام شہادت نوش فرمایا۔
دوسرا یہ کہ انسان خود کو گرفتاری کے لیے پیش کرنے کی بجائے اپنی جان پر کھیل جائے اور سرد ھڑکی بازی لگا دے ایسا کرنا بھی جائز بلکہ بہتر ہے کیونکہ حضرت عاصم بن ثابت ؓنے گرفتاری دینے کی بجائے اپنی جان پر کھیلنے کو ترجیح دی اور اپنے ساتھیوں سمیت میدان کار زار میں کام آئے۔
تیسرا یہ ہے کہ عین شہادت کے موقع پر دورکعت پڑھنا۔
اس کے ثبوت کے لیے حضرت خبیب ؓ کا کردار پیش کیا کہ انھوں نے رب سے حقیقی ملاقات سے قبل روحانی ملاقات کی خواہش کی اور اسے عملی جامہ پہنایا۔

ہمارے نزدیک عزیمت یہ ہے کہ انسان گرفتاری دینے کی بجائے خود کو اللہ کے حضور قربانی کے لیے پیش کردے کیونکہ گرفتاری دینے سے ممکن ہے کہ اس سے کوئی ملکی یا قومی راز حاصل کیے جاسکیں جو ملک و ملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں ہاں اگر حضرت خبیب ؓ جیسا مستقل مزاج مجاہد ہو تو گرفتاری دینے کی اجازت ہے البتہ عزیمت کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکے گا۔
واضح رہے کہ اس واقعے سے خود کش حملوں کا جواز کشیدہ کرنا محل نظر ہے۔

مقام غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم بن ثابت ؓ کے جسم کی بھڑوں کے ذریعے سے حفاظت کی لیکن کفار کے ہاتھوں انھیں قتل ہونے سے محفوظ نہ کیا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ شہادت تو مومن کا مقصود مطلوب ہے لیکن مرنے کے بعد ان کے جسم کا کوئی حصہ کاٹنا ان کی توہین تھی۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا بند و بست فرمایا کہ کافروں کو ان کے جسم کا کوئی حصہ کاٹنے کی جرات نہ ہوئی۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3045]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7402
7402. سیدنا ابو ہریرہ ؓ کے شاگرد، بنو زہرہ قبیلے کے حلیف سیدنا اسید بن جاریہ ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام کو کسی مہم پر روانہ کیا۔ ان میں سیدنا خبیب ؓ بھی تھے۔ حارث کی بیٹی نے بتایا کہ جب حارث کے بیٹوں نے انہیں قتل کرنے کا پروگرام بنایا تو سیدنا خبیب نے مجھ سے استرا مانگا تاکہ اپنے زیر ناف بال صاف کریں۔ جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو سیدنا خبیب انصاری ؓ نے یہ شعر پڑھے۔ جب مسلمان بن کے دنیا سے چلوں مجھ کو کیا ڈر ہے کس کروٹ کروں میرا مرنا ہے اللہ کی ذات میں وہ اگر چاہے نہ ہوں گا میں زبوں تن جو ٹکڑے ٹکڑے اب ہو جائے گا اس کے ٹکڑے پر وہ برکت دے فزوں۔ پھر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے اسے قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬و اُسی دن اطلاع کر دی جس دن یہ حضرات شہید کیے گئے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7402]
حدیث حاشیہ:
بنو لحیان کے دو سو آدمیوں نے ان کو گھیر لیا۔
سات بزرگ شہید ہو گئے تین کو قید کر کے لے چلے۔
ان ہی میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے جسے بنو حارث نے خرید لیا اور ایک مدت تک ان کو قید رکھ کر قتل کیا۔
حضرت مولانا وحید الزماں نے ان اشعار کا ترجمہ یوں کیا ہے جب مسلماں بن کے دنیا سے چلو ں مجھ کو کیا ڈر ہے کسی کروٹ گروں میرا مرنا ہے خدا کی ذات میں وہ اگر چاہے نہ ہوں گا میں زبوں تن جو ٹکڑے ٹکڑے اب ہو جائے گا اس کے ٹکڑوں پر وہ برکت دے فزوں
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7402]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7402
7402. سیدنا ابو ہریرہ ؓ کے شاگرد، بنو زہرہ قبیلے کے حلیف سیدنا اسید بن جاریہ ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام کو کسی مہم پر روانہ کیا۔ ان میں سیدنا خبیب ؓ بھی تھے۔ حارث کی بیٹی نے بتایا کہ جب حارث کے بیٹوں نے انہیں قتل کرنے کا پروگرام بنایا تو سیدنا خبیب نے مجھ سے استرا مانگا تاکہ اپنے زیر ناف بال صاف کریں۔ جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو سیدنا خبیب انصاری ؓ نے یہ شعر پڑھے۔ جب مسلمان بن کے دنیا سے چلوں مجھ کو کیا ڈر ہے کس کروٹ کروں میرا مرنا ہے اللہ کی ذات میں وہ اگر چاہے نہ ہوں گا میں زبوں تن جو ٹکڑے ٹکڑے اب ہو جائے گا اس کے ٹکڑے پر وہ برکت دے فزوں۔ پھر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے اسے قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام‬ ؓ ک‬و اُسی دن اطلاع کر دی جس دن یہ حضرات شہید کیے گئے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7402]
حدیث حاشیہ:

بنولحیان نے ان دس جاں نثار کو اپنے گھیرے میں لے کر سات کو شہید کر دیا اور تین کو قید کرکے لے گئے۔
ان قیدیوں میں حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے جنھیں بنو حارث نے خرید لیا اور ایک مدت تک انھیں قید رکھنے کے بعد شہید کیا۔
اس واقعے کی تفصیل خود امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب المغازی میں بیان کی ہے۔
(صحیح البخار، المغازي، حدیث: 4086)

اس حدیث میں لفظ ذات اللہ کے اسم مبارک کے ساتھ بطور مضاف استعمال ہوا ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا، اگر غلط ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا انکار کر دیتے، اسی طرح احادیث میں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زندگی میں صرف تین دفعہ خلاف واقعہ بات کی، ان میں سے دو مرتبہ تواللہ کی ذات کے متعلق تھی۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء علیہم السلام، حدیث: 3358)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہرچیز کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے غوروفکر کرو لیکن اللہ کی ذات کے متعلق اس انداز سے غوروخوض نہ کرو۔
اس کی سند بھی جید ہے۔
(الأسماء والصفات للبیهقي: 420 و سلسلة الأحادیث الصحیحة: 346/4)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سب سے افضل اسلام اس مومن کا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اورافضل جہاد اس شخص کا ہے:
(منْ جاهَدَ نَفْسَهُ فِي ذاتِ اللّٰہ)
جس نے اللہ کی ذات کے بارے میں اپنے نفس سے جہاد کیا۔
۔
۔
(بدائع الفوائد: 7/2)

حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذات کا لفظ اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی صفات ہوں، پھر اسے ان صفات کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔
نحوی حضرات نے اگرچہ یہ اعتراض کیا ہے کہ لفظ ذات معرفہ استعمال نہیں ہوتا، تاہم اسے کسی چیز کی حقیقت بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اسے معرفہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
متکلمین کی اپنی اصطلاح ہے جس کا لغت سے کوئی تعلق نہیں۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 243/1)
بہر حال لفظ ذات کا استعمال باری تعالیٰ کے لیے جائز ہے اور اس سے مراد نفس شے کا بیان ہے، یعنی بذات خود کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ذات اور صفات کو الگ الگ بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 470/13)
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کہا ہے کہ آیت کریمہ میں نفس سے مراد ذات مقدسہ ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: 199/14)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7402]

Sahih Bukhari Hadith 3045 in Urdu