علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب إخراج اليهود من جزيرة العرب:
باب: یہودیوں کو عرب کے ملک سے نکال باہر کرنا۔
حدیث نمبر: Q3167
وَقَالَ عُمَرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ بِهِ".
اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خیبر کے یہودیوں سے) فرمایا کہ میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا جب تک اللہ تم کو یہاں رکھے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: Q3167]
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ، فَقَالَ: أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ يَجِدْ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعد مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (ابوسعید) نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم ابھی مسجد نبوی میں موجود تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور فرمایا کہ یہودیوں کی طرف چلو۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے اور جب بیت المدراس (یہودیوں کا مدرسہ) پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسلام لاؤ تو سلامتی کے ساتھ رہو گے اور سمجھ لو کہ زمین اللہ اور اور اس کے رسول کی ہے۔ اور میرا ارادہ ہے کہ تمہیں اس ملک سے نکال دوں، پھر تم میں سے اگر کسی کی جائیداد کی قیمت آئے تو اسے بیچ ڈالے۔ اگر تم اس پر تیار نہیں ہو، تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ہی کی ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← كيسان المقبري | ثقة | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد عبد الله بن يوسف الكلاعي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7348
| اعلموا أنما الأرض لله ورسوله وأني أريد أن أجليكم من هذه الأرض فمن وجد منكم بماله شيئا فليبعه وإلا فاعلموا أنما الأرض لله ورسوله |
صحيح البخاري |
3167
| اعلموا أن الأرض لله ورسوله وإني أريد أن أجليكم من هذه الأرض فمن يجد منكم بماله شيئا فليبعه وإلا فاعلموا أن الأرض لله ورسوله |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3167 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3167
حدیث حاشیہ:
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں یہودیوں کے اخراج کی نیت کرلی تھی، مگر آپ کی وفات ہوگئی۔
حضرت عمر ؓنے اپنی خلافت میں ان کی مسلسل غداریوں اور سازشوں کی بناپر ان کو وہاں سے نکال دیا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں یہودیوں کے اخراج کی نیت کرلی تھی، مگر آپ کی وفات ہوگئی۔
حضرت عمر ؓنے اپنی خلافت میں ان کی مسلسل غداریوں اور سازشوں کی بناپر ان کو وہاں سے نکال دیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3167]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3167
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرزمین عرب میں غیر مسلم کا وجود اچھا نہیں سمجھتے تھے، اس لیے آپ نے یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ فرمایا کیونکہ آپ نے بنونضیر کو آزمالیا تھا جبکہ انھوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ پر پتھر گرا کر آپ کو ختم کرنا چاہا۔
دوسرے یہودی ابھی خیبر میں مقیم تھے کہ عین وفات کے وقت وحی آئی تو آپ نے فرمایا:
”سرزمین عرب میں دودین باقی نہ رہنے دیں۔
“ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 115/6)
چنانچہ حضرت عمر ؓنے اپنے دور حکومت میں یہودیوں سے کہا:
جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد وپیمان ہے وہ میرے پاس آئے بصورت دیگر میں تمھیں یہاں سے جلاوطن کرنے والا ہوں، چنانچہ انھیں جزیرہ عرب سے نکال دیا گیا۔
2۔
حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایسا سامان ہے جسے تم ساتھ نہیں لے جاسکتے تو اسے فروخت کردو۔
اگر تم میری بات کی طرف توجہ نہیں کرتے تو یقین کرو کہ زمین اللہ کی ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ اس زمین کا وارث مسلمانوں کو بناے، لہذا تم یہ علاقے چھوڑ کر کہیں اور چلے جاؤ۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرزمین عرب میں غیر مسلم کا وجود اچھا نہیں سمجھتے تھے، اس لیے آپ نے یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ فرمایا کیونکہ آپ نے بنونضیر کو آزمالیا تھا جبکہ انھوں نے آپ سے دھوکا کیا اور آپ پر پتھر گرا کر آپ کو ختم کرنا چاہا۔
دوسرے یہودی ابھی خیبر میں مقیم تھے کہ عین وفات کے وقت وحی آئی تو آپ نے فرمایا:
”سرزمین عرب میں دودین باقی نہ رہنے دیں۔
“ (السنن الکبریٰ للبیھقي: 115/6)
چنانچہ حضرت عمر ؓنے اپنے دور حکومت میں یہودیوں سے کہا:
جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد وپیمان ہے وہ میرے پاس آئے بصورت دیگر میں تمھیں یہاں سے جلاوطن کرنے والا ہوں، چنانچہ انھیں جزیرہ عرب سے نکال دیا گیا۔
2۔
حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر تمہارے پاس ایسا سامان ہے جسے تم ساتھ نہیں لے جاسکتے تو اسے فروخت کردو۔
اگر تم میری بات کی طرف توجہ نہیں کرتے تو یقین کرو کہ زمین اللہ کی ہے اور اللہ چاہتا ہے کہ اس زمین کا وارث مسلمانوں کو بناے، لہذا تم یہ علاقے چھوڑ کر کہیں اور چلے جاؤ۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3167]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7348
7348. سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دفعہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہودیوں کے پاس چلیں۔“ تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب ہم ان کے مدرسہ ”بیت المدراس“ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر انہیں آواز دی اور فرمایا: ”اے یہودیوں کی جماعت! مسلمان ہو جاؤ مسلمان ہو جاؤ تو سلامتی سے رہو گے۔“ انہوں نے کہا: ابو القاسم! آپ نے تبلیغ کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”میں یہی چاہتا ہوں کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو سلامتی سے رہو گے۔“ انہوں نے کہا: ابو القاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ”میں یہی چاہتا ہوں۔“ پھر آپ نے تیسری بار یہی بات کہی اورفرمایا: ”یقین کرو کہ ساری زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس زمین سے جلاوطن کروں لہذا تم میں سے کوئی اپنی جائیداد کے عوض میں کوئی قیمت پاتا ہو تو اسے فروخت کردے بصورت دیگر یقین کرلو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:7348]
حدیث حاشیہ:
1۔
بیت المدارس یہودیوں کا دارالعلوم تھا جہاں وہ تورات پڑھا پڑھایا کرتے تھے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کردہ عنوان کے دونوں اجزاء سے اس کی مطابقت کی ہے اور وہ اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو تبلیغ فرمائی اور انھیں بار بار اسلام کی دعوت دی۔
انھوں نے صرف یہ جواب دیا کہ آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی۔
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر یقین نہ کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انھیں دعوت دینا، اچھا مجادلہ ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے۔
بالآخر جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم نامہ جاری کر دیا اور وہاں سے انھیں جلاوطن کردینے کا حکم دیا کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے مجادلے کا جواب بُرے طریقے سے دیا تھا۔
واللہ أعلم۔
1۔
بیت المدارس یہودیوں کا دارالعلوم تھا جہاں وہ تورات پڑھا پڑھایا کرتے تھے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کردہ عنوان کے دونوں اجزاء سے اس کی مطابقت کی ہے اور وہ اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو تبلیغ فرمائی اور انھیں بار بار اسلام کی دعوت دی۔
انھوں نے صرف یہ جواب دیا کہ آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی۔
اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر یقین نہ کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انھیں دعوت دینا، اچھا مجادلہ ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے۔
بالآخر جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم نامہ جاری کر دیا اور وہاں سے انھیں جلاوطن کردینے کا حکم دیا کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے مجادلے کا جواب بُرے طریقے سے دیا تھا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7348]
Sahih Bukhari Hadith 3167 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي