🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب إذا قال أحدكم آمين. والملائكة فى السماء، فوافقت إحداهما الأخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه:
باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3239
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وقَالَ لِي خَلِيفَةُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى رَجُلًا مَرْبُوعًا مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبِطَ الرَّأْسِ، وَرَأَيْتُ مَالِكًا خَازِنَ النَّارِ وَالدَّجَّالَ فِي آيَاتٍ أَرَاهُنَّ اللَّهُ إِيَّاهُ فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ"، قَالَ أَنَسٌ وَأَبُو بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَحْرُسُ الْمَلَائِكَةُ الْمَدِينَةَ مِنَ الدَّجَّالِ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عروبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے تمہارے نبی کے چچازاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج میں، میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تھا، گندمی رنگ، قد لمبا اور بال گھونگھریالے تھے، ایسے لگتے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا تھا۔ درمیانہ قد، میانہ جسم، رنگ سرخی اور سفیدی لیے ہوئے اور سر کے بال سیدھے تھے (یعنی گھونگھریالے نہیں تھے) اور میں نے جہنم کے داروغہ کو بھی دیکھا اور دجال کو بھی، منجملہ ان آیات کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دکھائی تھیں (سورۃ السجدہ میں اسی کا ذکر ہے کہ) پس (اے نبی!) ان سے ملاقات کے بارے میں آپ کسی قسم کا شک و شبہ نہ کریں، یعنی موسیٰ علیہ السلام سے ملنے میں، انس اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بیان کیا کہ جب دجال نکلے گا تو فرشتے دجال سے مدینہ کی حفاظت کریں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3239]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج ہوئی میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ گندمی رنگ، دراز قامت، مضبوط اور گھنگھریالے بالوں والے ہیں، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے مرد ہیں۔ اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا کہ وہ میانہ قامت، متوسط بدن، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے ہیں۔ میں نے مالک (فرشتے) کو بھی دیکھا جو دوزخ کا داروغہ ہے اور دجال کو بھی دیکھا۔ یہ سب نشانیاں اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھلائیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿فَلَا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَائِهِ﴾ [سورة السجدة: 23] اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان سے ملاقات کے بارے میں کسی قسم کے شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بیان کیا ہے: فرشتے دجال سے مدینہ طیبہ کی حفاظت کریں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3239]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥أبو العالية الرياحي، أبو العالية
Newأبو العالية الرياحي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أبو العالية الرياحي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥خليفة بن خياط العصفري، أبو عمرو
Newخليفة بن خياط العصفري ← يزيد بن زريع العيشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← خليفة بن خياط العصفري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3239
رأيت ليلة أسري بي موسى رجلا آدم طوالا جعدا كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى رجلا مربوعا مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس ورأيت مالكا خازن النار والدجال في آيات أراهن الله إياه فلا تكن في مرية من لقائه
صحيح البخاري
3438
رأيت عيسى وموسى وإبراهيم فأما عيسى فأحمر جعد عريض الصدر وأما موسى فآدم جسيم سبط كأنه من رجال الزط
صحيح مسلم
419
مررت ليلة أسري بي على موسى بن عمران رجل آدم طوال جعد كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى ابن مريم مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس وأري مالكا خازن النار والدجال في آيات أراهن الله إياه فلا تكن في مرية من لقائه
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3239 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3239
حدیث حاشیہ:
ان دونوں روایتوں کو خود امام بخاری ؒنے کتاب الحج اور کتاب الفتن میں روایت کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3239]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 3239
تخريج الحديث:
[أخرجه البخاري فى: 59 كتاب بدء الخلق: 7 باب إذا قال أحدكم آمين والملائكة فى السماء، حدیث: 3239]

لغوی توضیح:
«آدَمُ» گندم گوں۔
«الطُّوَال» طویل۔
«جَعْدا» گھنگھریالے بال۔
«مَرْبُوْع» درمیانے، نہ بہت لمبے نہ بہت چھوٹے۔
«سَبِطَ الرَّأْسِ» سیدھے بال۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 104]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3239
حدیث حاشیہ:

شنوء، عرب کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کے لوگ درازقد والے تھے۔

امام بخاری ؒ نے حسب سابق اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ فرشتے محض "عقول مجردہ" نہیں بلکہ صاحب شعور مخلوق ہیں۔
وہ اللہ کے احکام بجا لاتے ہیں اور انھیں گناہوں سے سخت نفرت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دجال جو بدی کا سرچشمہ ہے اسے مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے کیونکہ مدینہ طیبہ نور ہدایت کا سرچشمہ ہے اسے دجال گدلا نہیں کرسکے گا۔
واللہ المستعان۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3239]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 419
حضرت ابنِ عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے اسراء کروایا گیا میں موسیٰ بن عمران ؑ کے پاس سے گزرا، وہ شنوءۃ قبیلہ کے مردوں کی طرح گندمی رنگ، طویل القامت اور گھنگریالے بالوں والے تھے، اور میں نے عیسیٰ بن مریمؑ کو دیکھا، ان کا قد درمیانہ، رنگ سرخ و سفید، سر کے بال سیدھے تھے۔ اور مالک دوزخ کا داروغہ اور دجال دکھائے گئے۔ بہت سی نشانیوں میں جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دکھائیں تو آپ ان سے ملاقات میں شک نہ کریں۔ (سورۂ سجدہ، آیت: 23) راوی نے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:419]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
سَبْط:
باء پر فتحہ اور کسرہ دونوں آ سکتے ہیں،
اور اگر باء کو ساکن پڑھیں تو سین پر فتحہ اور کسرہ دونوں آ سکیں گے،
معنی ہے صاف اور سیدھے جن میں خمیدگی نہ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 419]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3438
3438. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے (شب معراج) عیسیٰ ؑ، موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کو دیکھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ سرخ رنگ، گھٹے بدن اور چوڑے سینے والے ہیں اور حضرت موسیٰ ؑ گندمی رنگ کے دراز قد سیدھے بالوں والے ہیں، گویا قبیلہ زط کے لوگوں میں سے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3438]
حدیث حاشیہ:
زط سوڈان کاایک قبیلہ یا یہود کا،جہاں کےلوگ دبلے پتلے او رلمبے قد کےہوتے ہیں۔
زط سے جاٹ کالفظ بنا ہےجوہندوستان کی ایک مشہور قوم ہےجو ہندو اورمسلمان ہردو مذاہب سےتعلق رکھتے ہیں۔
روایت میں عن مجاہد عن ابن عمر ناقلین کاسہو ہےاصل میں صحیح یہ ہے عن مجاهد عن ابن عباس
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3438]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3438
3438. حضرت ابن عمر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے (شب معراج) عیسیٰ ؑ، موسیٰ ؑ اور ابراہیم ؑ کو دیکھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ سرخ رنگ، گھٹے بدن اور چوڑے سینے والے ہیں اور حضرت موسیٰ ؑ گندمی رنگ کے دراز قد سیدھے بالوں والے ہیں، گویا قبیلہ زط کے لوگوں میں سے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3438]
حدیث حاشیہ:

قبل ازیں حدیث میں حضرت موسیٰ ؑ کا وصف "مضطرب" بیان ہواہے،جس کے معنی ہیں خفیف اور ہلکا پھلکا جسم اور یہ وصف جسیم کے خلاف ہے جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
دراصل جسامت کبھی موٹاپے کو ظاہر کرتی ہے اور کبھی طویل القامت ہونے کو،حضرت موسیٰ ؑ درازقد تھے،لہذا ان پر جسیم کا اطلاق بھی درست ہے،اس لیے فرمایا:
گویا وہ قبیلہ زط کے لوگوں میں سے ہیں کیونکہ ان لوگوں کا تعلق حبشہ سے ہے اور وہ لمبے قد والے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ زط دراصل جٹ کا معرب ہے جنھیں جاٹ بھی کہاجاتا ہے۔
برصغیر میں یہ لوگ درازقد، جسامت اور طاقت میں مشہور ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3438]

Sahih Bukhari Hadith 3239 in Urdu