🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال:
باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3301
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ، وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے خبر دی، انہیں اعرج نے خبر دی، اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو (عموماً) گاؤں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3301]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3301
رأس الكفر نحو المشرق والفخر والخيلاء في أهل الخيل والإبل والفدادين أهل الوبر والسكينة في أهل الغنم
صحيح مسلم
185
رأس الكفر نحو المشرق والفخر والخيلاء في أهل الخيل الإبل الفدادين أهل الوبر والسكينة في أهل الغنم
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
232
راس الكفر نحو المشرق، والفخر والخيلاء فى اهل الخيل والإبل الفدادين اهل الوبر، والسكينة فى اهل الغنم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3301 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3301
حدیث حاشیہ:
پورب میں کفر کی چوٹی فرمائی، کیوں کہ عرب کے ملک سے ایران، توران یہ سب مشرق میں واقع ہیں اور اس زمانہ میں یہاں کے بادشاہ بڑے مغرور تھے۔
ایران کے بادشاہ نے آپ کا خط پھاڑ ڈالا تھا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3301]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 3301
فہم الحدیث:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خبر بعینہ ثابت ہوئی اور ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک عراق (جو مشرق میں واقع ہے) خونریزی اور فتنہ و فساد کا مرکز بنا ہوا ہے۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 33]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 232
سوگ صرف تین دن ہے
«. . . 363- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رأس الكفر نحو المشرق، والفخر والخيلاء فى أهل الخيل والإبل الفدادين أهل الوبر، والسكينة فى أهل الغنم. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفر کا سر مشرق کی طرف ہے، فخر اور تکبر گھوڑوں والوں اور اونٹوں والوں میں اور بلند آواز سے بولنے والے خانہ بدوشوں میں ہے اور سکون بکریاں رکھنے والوں میں ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 232]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه البخاري 3301، ومسلم 85/52، من حديث مالك به * سقط من الأصل واستدركته من رواية يحيي بن يحيي]

تفقه:
➊ مدینہ طیبہ کے مشرق یعنی عراق میں سے کفر کا سر نکلے گا۔
➋ نجد سے کیا مراد ہے؟ اس کے لئے اور مزید فقہی فوائد کے لئے دیکھئے: [الموطأ حديث: 267]
➌ گھوڑے اور اونٹوں کی کثرت مالدار آدمی کی علامت ہے، ایسے شخص کا فخر و تکبر کے گھیرے میں آنا آسان ہے۔ (الامن رحم ربی) اور بکریاں فقیری کی علامت ہیں لہٰذا ایسے لوگ سکون میں ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 363]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 185
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کفر کا گڑھ مشرق کی طرف ہے اور فخر و تکبر گھوڑوں اور اونٹوں والوں میں ہےجو چلاتے ہیں جو وبر والے (جنگلی) ہیں اور سکینت و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:185]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
الْفَخْرُ:
گھمنڈ اور غرور۔
(2)
الْخُيَلَاءُ:
تکبر،
لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
(3)
أَهْلِ الْوَبَرِ:
اہل البدو،
بادیہ نشین اور وبر اونٹوں کے بالوں کو کہتے ہیں،
یہ لوگ عام طور پر جنگلوں میں رہتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 185]

Sahih Bukhari Hadith 3301 in Urdu