صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال:
باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
حدیث نمبر: 3306
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، عَنْ ابْنِ وَهْب، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَزَعَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ (چھپکلی) کے متعلق فرمایا کہ وہ موذی جانور ہے لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مار ڈالنے کا حکم نہیں سنا تھا اور سعد بن ابی وقاص بتاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3306]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کے متعلق فرمایا: ”وہ موذی جانور ہے۔“ لیکن میں نے آپ سے یہ نہیں سنا کہ آپ نے اسے مار ڈالنے کا حکم دیا ہو، البتہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3306]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3306
| للوزغ الفويسق ولم أسمعه أمر بقتله |
صحيح البخاري |
1831
| فويسق ولم أسمعه أمر بقتله |
صحيح مسلم |
5845
| للوزغ الفويسق |
سنن النسائى الصغرى |
2889
| الوزغ الفويسق |
Sahih Bukhari Hadith 3306 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق