صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلاً} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) فرمان کہ ”اور اللہ نے ابراہیم کو خلیل بنایا“۔
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثًا".
ہم سے سعید بن تلید رعینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے توریہ تین مرتبہ کے سوا اور کبھی نہیں کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3357]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زندگی میں صرف تین مرتبہ خلاف واقعہ بات کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر جرير بن حازم الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← جرير بن حازم الأزدي | ثقة حافظ | |
👤←👥سعيد بن تليد الرعيني، أبو عثمان سعيد بن تليد الرعيني ← عبد الله بن وهب القرشي | صدوق حسن الحديث |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3357 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3357
حدیث حاشیہ:
توریہ کا مطلب یہ ہے کہ واقعہ کچھ اور ہو لیکن کوئی شخص کسی خاص مصلحت کی وجہ سے اسے دو معانی والے الفاظ کے ساتھ اس انداز میں بیان کرے کہ سننے والا اصل واقعہ کو نہ سمجھ سکے بلکہ اس کا ذہن خلاف واقعہ چیز کی طرف منتقل ہوجائے۔
شریعت نے بعض مخصوص حالات میں اس کی اجازت دی ہے۔
توریہ کا مطلب یہ ہے کہ واقعہ کچھ اور ہو لیکن کوئی شخص کسی خاص مصلحت کی وجہ سے اسے دو معانی والے الفاظ کے ساتھ اس انداز میں بیان کرے کہ سننے والا اصل واقعہ کو نہ سمجھ سکے بلکہ اس کا ذہن خلاف واقعہ چیز کی طرف منتقل ہوجائے۔
شریعت نے بعض مخصوص حالات میں اس کی اجازت دی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3357]
Sahih Bukhari Hadith 3357 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي