صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: لو كنت متخذا خليلا :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔
حدیث نمبر: 3667
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ بِالسُّنْحِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: يَعْنِي بِالْعَالِيَةِ , فَقَامَ عُمَرُ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ مَا كَانَ يَقَعُ فِي نَفْسِي إِلَّا ذَاكَ وَلَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ فَلَيَقْطَعَنَّ أَيْدِيَ رِجَالٍ وَأَرْجُلَهُمْ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَهُ، قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُذِيقُكَ اللَّهُ الْمَوْتَتَيْنِ أَبَدًا ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ:" أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ" , فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ جَلَسَ عُمَرُ.
مجھ سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اس وقت مقام سنح میں تھے۔ اسماعیل نے کہا یعنی عوالی کے ایک گاؤں میں۔ آپ کی خبر سن کر عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر یہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے اللہ کی قسم اس وقت میرے دل میں یہی خیال آتا تھا اور میں کہتا تھا کہ اللہ آپ کو ضرور اس بیماری سے اچھا کر کے اٹھائے گا اور آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے (جو آپ کی موت کی باتیں کرتے ہیں) اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور اندر جا کر آپ کی نعش مبارک کے اوپر سے کپڑا اٹھایا اور بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر دو مرتبہ موت ہرگز طاری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد آپ باہر آئے اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے قسم کھانے والے! ذرا تامل کر۔ پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو عمر رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3667]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی جاگیر سنح یعنی مدینہ کے بالائی حصے میں تھے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات نہیں پائی۔“ مزید فرمایا: ” «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ میرے دل میں یہی بات آئی ہے کہ آپ نے وفات نہیں پائی اور اللہ تعالیٰ آپ کو (صحت یابی کے بعد) اٹھائے گا تو آپ (موت کی باتیں کرنے والے) لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے۔“ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے کپڑا ہٹایا، آپ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میرا باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں! آپ حیات و ممات میں پاکیزہ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی دو موتوں کا مزہ نہیں چکھائے گا۔“ پھر آپ باہر تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے قسم اٹھانے والے! ذرا ٹھہر جا۔“ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تقریر شروع کی تو عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3667]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1241
| فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله |
بلوغ المرام |
432
| ان ابا بكر الصديق رضي الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعد موته |
صحيح البخاري |
1242
| فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله |
صحيح البخاري |
3667
| فكشف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبله |
صحيح البخاري |
4452
| فكشف عن وجهه، ثم اكب عليه فقبله وبكى |
صحيح البخاري |
4455
| ان ابا بكر رضي الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته |
سنن النسائى الصغرى |
1840
| ابا بكر قبل بين عيني النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت |
سنن النسائى الصغرى |
1841
| ابا بكر قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت |
سنن النسائى الصغرى |
1842
| فكشف عن وجهه , ثم اكب عليه فقبله فبكى |
سنن ابن ماجه |
1627
| ابو بكر فكشف عن وجهه وقبل بين عينيه |
Sahih Bukhari Hadith 3667 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← أبو بكر الصديق