🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب مناقب عثمان بن عفان أبى عمرو القرشي رضي الله عنه:
باب: ابوعمرو عثمان بن عفان القرشی (اموی) رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا , ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ". تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
مجھ سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، کہا ہم سے شاذان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو پھر عثمان رضی اللہ عنہ کو۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر ہم کوئی بحث نہیں کرتے تھے اور کسی کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے، اس حدیث کو عبداللہ بن صالح نے بھی عبدالعزیز سے روایت کیا ہے۔ اس کو اسماعیلی نے وصل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، أبو عبد الله، أبو الأصبغثقة فقيه مصنف
👤←👥عبد الله بن صالح الجهني، أبو صالح
Newعبد الله بن صالح الجهني ← عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون
مقبول
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← عبد الله بن صالح الجهني
صحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، أبو عبد الله، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة فقيه مصنف
👤←👥الأسود بن عامر الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالأسود بن عامر الشامي ← عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون
ثقة
👤←👥محمد بن حاتم البصري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن حاتم البصري ← الأسود بن عامر الشامي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3655
نخير بين الناس في زمن النبي فنخير أبا بكر ثم عمر بن الخطاب ثم عثمان بن عفان م
صحيح البخاري
3698
لا نعدل بأبي بكر أحدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترك أصحاب النبي لا نفاضل بينهم
سنن أبي داود
4627
لا نعدل بأبي بكر أحدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترك أصحاب النبي لا نفاضل بينهم
سنن أبي داود
4628
أفضل أمة النبي بعده أبو بكر ثم عمر ثم عثمان م أجمعين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3698 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3698
حدیث حاشیہ:

سائل اہل مصر سے تھا اس کا مقصد حضرت عثمان ؓ پر اعتراضات کرنا تھا لیکن حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے ان اعتراضات کے کافی شافی جوابات دیے۔
اس سے حضرت عثمان کی فضیلت واضح ہوتی ہے کہ غزوہ احد سے فرار کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے کہ انھیں معاف کردیا اور بخش دیا۔
جنگ بدر میں حاضر نہ ہونے کے باوجود بھی انھیں حاضر ہونے والوں کا سا حصہ دیا اور ان جیسا ثواب حاصل ہوا جو کسی اور غائب ہونے والے کو نصیب نہ ہوا۔
بیعت رضوان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
یہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ ہے یہ وہ سعادت ہے جو اور کسی کو نصیب نہ ہوئی۔

مصر سے آنے والا شخص حضرت عثمان ؓ کے مخالفین میں سے تھا اوقر تعجب کے باعث اس نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے تین سوالات کیے تھے۔
جب انھوں نے ان سوالات کی تصدیق کی تو خوشی سے اس نے اللہ أکبرکانعرہ بلند کیا لیکن حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے اس کے تینوں سوالوں کا تفصیل سے جواب دے کر اسے کہا:
اب جاؤ اپنا عقیدہ صحیح کرو اور غلط پروپیگنڈا بند کردو۔

حافظ ابن حجر ؒ نے مسند بزار کے حولاے سے لکھا ہے ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ نے بھی یہی اعتراضات کیے تھے تو حضرت عثمان ؓ نے خود ان کو وہی جوابات دیے جو حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے اعتراض کرنے والے کو دیے۔
(فتح الباري: 75/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3698]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3655
3655. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں جب ہمیں صحابہ کرام ؓ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو ہم سب سے افضل اور بہتر حضرت ابوبکر ؓ کوقراردیتے، پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ کو، پھر حضرت عثمان ؓ کا درجہ آتاتھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3655]
حدیث حاشیہ:
حضرت امام بخاری ؒ نے مذہب جمہور کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تمام صحابہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو فضیلت حاصل ہے۔
اکثر سلف کا یہی قول ہے اور خلف میں سے بھی اکثر نے یہی کہا ہے۔
بعض محققین ایسا بھی کہتے ہیں کہ خلفاء اربعہ کو باہم ایک دوسرے پر فضیلت دینے میں کوئی نص قطعی نہیں ہے، لہذا یہ چاروں ہی افضل ہیں۔
بعض کہتے ہیں کہ تمام صحابہ میں یہ چاروں افضل ہیں اور ان کی خلافت جس ترتیب کے ساتھ منعقد ہوئی اسی ترتیب سے وہ حق اور صحیح ہیں اور ان میں باہم فضیلت اسی ترتیب سے کی جاسکتی ہے۔
بہر حال جمہور کے مذہب کو ترجیح حاصل ہے۔
باہم فضیلت اسی ترتیب سے کی جاسکتی ہے۔
بہر حال جمہور کے مذہب کو ترجیح حاصل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3655]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3655
3655. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں جب ہمیں صحابہ کرام ؓ کے درمیان انتخاب کے لیے کہا جاتا تو ہم سب سے افضل اور بہتر حضرت ابوبکر ؓ کوقراردیتے، پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ کو، پھر حضرت عثمان ؓ کا درجہ آتاتھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3655]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کہاکرتے تھے:
اس امت میں سب سے افضل حضرت ابکر ؓ۔
پھر حضرت عمر ؓ۔
پھرحضرت عثمان ؓ ہیں۔
(سنن أبي داود، السنة، حدیث: 4628)
طبرانی میں اس قدر اضافہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سنتے مگر انکار نہ کرتے تھے۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 221/12۔
حدیث: 13132)
امام بخاری ؒ نے عنوان میں جمہور کی تائید کی ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں حضرت ابوبکر ؓ کو برتری اورفضیلت حاصل ہے،البتہ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ خلفائے اربعہ میں ایک کو دوسرے پر برتری دینے کے متعلق کوئی قطعی نص نہیں ہے،لہذا یہ چاروں ہی افضل ہیں۔
لیکن مذکورہ حدیث کے پیش نظر یہ موقف مرجوح ہے اورجمہور کا مذہب ہی راجح ہے۔
امام شافعی ؒ فرماتے ہیں:
صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین اور تابعین ؒ کا اس امر پر اجماع ہے کہ امت میں سب سے افضل حضرت ابوبکر ؒ،پھر عمر ؒ۔
پھر عثمان ؒ۔
اور پھر حضرت علی ؒ کا درجہ ہے۔
(فتح الباري: 22/7)

عنوان میں امام بخاری ؒ نے لفظ بَعد استعمال کیا ہے۔
جو بُعد مرتبہ ومقام ار بعد مکان و زمان دونوں کے لیے استعمال ہوتاہے۔
اس مقام پر پہلے معنی پر مشتمل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ اور مقام کے بعدحضرت ابوبکر ؓ کا درجہ ہے۔
اس سے مکان وزمان کا بُعد مراد نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں ان کے درمیان مقام ومرتبے کا فرق قائم تھا۔
(عمدة القاري: 391/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3655]