صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ، وَفَضْلُهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:
باب: خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3819
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَشَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ؟ قَالَ:" نَعَمْ , بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بشارت دی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں، جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دی تھی، جہاں نہ کوئی شور و غل ہو گا اور نہ تھکن ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3819]
حضرت اسماعیل بن ابو خالد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوشخبری دی تھی؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، جنت میں ایسے محل کی بشارت دی تھی جو ایک موتی سے بنا ہو گا، جس میں کوئی شوروغل اور کسی قسم کی مشقت نہ ہو گی۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3819]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاوية | صحابي | |
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله إسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3819
| ببيت من قصب لا صخب فيه ولا نصب |
صحيح مسلم |
6274
| بشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب |
المعجم الصغير للطبراني |
825
| بشر خديجة ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3819 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3819
حدیث حاشیہ:
جنت کے محل کی دوصفات بیان کی گئی ہیں کہ اس میں شوروغل اور تھکاوٹ وغیرہ نہیں ہوگی۔
ان دوصفات کی مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت خدیجہ ؓ کو اسلام کی دعوت دی تو وہ نہایت خوش دلی سے اور شرح صدر سے مسلمان ہوئیں، شوروغوغا اور جھگڑے وغیرہ کی نوبت نہیں آئی اور نہ اس میں انھیں کسی قسم کی کوفت ہی اٹھانا پڑی بلکہ آپ کے ایمان لانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سکون میسرآیا اور شریک حیات نے آپ سے ہرقسم کا تعاون کیا۔
(فتح الباري: 174/7)
جنت کے محل کی دوصفات بیان کی گئی ہیں کہ اس میں شوروغل اور تھکاوٹ وغیرہ نہیں ہوگی۔
ان دوصفات کی مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت خدیجہ ؓ کو اسلام کی دعوت دی تو وہ نہایت خوش دلی سے اور شرح صدر سے مسلمان ہوئیں، شوروغوغا اور جھگڑے وغیرہ کی نوبت نہیں آئی اور نہ اس میں انھیں کسی قسم کی کوفت ہی اٹھانا پڑی بلکہ آپ کے ایمان لانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سکون میسرآیا اور شریک حیات نے آپ سے ہرقسم کا تعاون کیا۔
(فتح الباري: 174/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3819]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6274
اسماعیل رحمۃ ا للہ علیہ کہتے ہیں،میں نے عبداللہ بن ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا،کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جنت میں گھر کی بشارت دی تھی،انہوں نے کہا،ہاں،آپ نے انہیں جنت میں خولدار موتیوں سے بنے ہوئےگھر کی بشارت دی تھی،جس میں نہ شوروشغب ہوگا اور نہ مشقت وتھکان۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6274]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
قصب:
خولدار چیز،
لیکن یہاں مراد خولدار موتی ہیں۔
(2)
صخب:
شور شرابہ،
(3)
فصب:
مشقت،
تھکان۔
مفردات الحدیث:
(1)
قصب:
خولدار چیز،
لیکن یہاں مراد خولدار موتی ہیں۔
(2)
صخب:
شور شرابہ،
(3)
فصب:
مشقت،
تھکان۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6274]
Sahih Bukhari Hadith 3819 in Urdu
إسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي