🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب تزويج النبى صلى الله عليه وسلم خديجة، وفضلها رضي الله عنها:
باب: خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی اور ان کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3818
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَسَنٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ , وَمَا رَأَيْتُهَا وَلَكِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ ذِكْرَهَا , وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً , ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ فَرُبَّمَا، قُلْتُ: لَهُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلَّا خَدِيجَةُ، فَيَقُولُ:" إِنَّهَا كَانَتْ وَكَانَتْ وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ".
مجھ سے عمر بن محمد بن حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص نے بیان کیا، ان سے ہشام نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے دیکھا بھی نہیں تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے اور اگر کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ میں نے اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میرے اولاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة
👤←👥محمد بن الحسن الأسدي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن الحسن الأسدي ← حفص بن غياث النخعي
صدوق فيه لين
👤←👥عمر بن محمد الأسدي، أبو حفص
Newعمر بن محمد الأسدي ← محمد بن الحسن الأسدي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3818
ما غرت على أحد من نساء النبي ما غرت على خديجة وما رأيتها ولكن كان النبي يكثر ذكرها ذبح الشاة ثم يقطعها أعضاء ثم يبعثها في صدائق خديجة كأنه لم يكن في الدنيا امرأة إلا خديجة فيقول إنها كانت وكانت وكان لي منها ولد
صحيح البخاري
3816
ما غرت على امرأة للنبي ما غرت على خديجة هلكت قبل أن يتزوجني يبشرها ببيت من قصب يذبح الشاة فيهدي في خلائلها منها ما يسعهن
صحيح مسلم
6280
ما غرت للنبي على امرأة من نسائه ما غرت على خديجة لكثرة ذكره إياها وما رأيتها قط
صحيح مسلم
6277
ما غرت على امرأة ما غرت على خديجة هلكت قبل أن يتزوجني بثلاث سن
صحيح مسلم
6282
اللهم هالة بنت خويلد فغرت فقلت وما تذكر من عجوز من عجائز قريش حمراء الشدقين هلكت في الدهر فأبدلك الله خيرا منها
صحيح مسلم
6278
ما غرت على نساء النبي إلا على خديجة وإني لم أدركها إذا ذبح الشاة فيقول أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة رزقت حبها
جامع الترمذي
3875
ما غرت على أحد من أزواج النبي ما غرت على خديجة وما بي أن أكون أدركتها وما ذاك إلا لكثرة ذكر رسول الله لها يذبح الشاة فيتتبع بها صدائق خديجة فيهديها لهن
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3818 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3818
حدیث حاشیہ:
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کا درجہ بہت زیادہ تھا، فی الواقع وہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اولین محسنہ تھیں ان کے احسانات کا بدلہ ان کو اللہ ہی دینے والا ہے۔
رضي اللہ عنها وأرضاها۔
(آمین)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3818]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3818
حدیث حاشیہ:

غیر ت کے معنی یہ ہیں کہ بیوی اپنے خاوند کے متعلق یہ گمان کرے کہ اس کا خاوند اپنی کسی دوسری بیوی سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

حضرت عائشہ ؓ سیدہ خدیجہ ؓ کی بابت غیرت کیا کرتی تھیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں بکثرت یاد کرتے رہتے تھے۔
حدیث میں وکانت وکانت کے تکرار سے حقیقتاً تثنیہ مراد نہیں بلکہ اس کے ہرتکرار سے حضرت خدیجہ ؓ کے خصائل وفضائل مراد ہیں، یعنی وہ فاضلہ تھیں، عاقلہ تھیں، خدمت گزارتھیں اور فرض شناس تھیں وغیرہ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مدح وتعریف کرتے رہتے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کرتے رہتے یہ وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے سید ہ عائشہ ؓ غیرت کیا کرتی تھیں۔

بعض کے پوچھنے پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیاکہ حضرت خدیجہ ؓ مجھ پر ایمان لائیں جبکہ لوگوں نے میرے ساتھ کفر کیا۔
انھوں نے میری تصدیق کی جبکہ لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔
انھوں نے مال کے ذریعے سے میری مدد کی جبکہ لوگوں نے مجھے محروم کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے مجھے اولاد دی جبکہ دوسری بیویوں سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
واضح رہے کہ حضرت زینب ؓ، رقیہ ؓ، ام کلثوم ؓ، فاطمہ ؓ، عبداللہ ؓ اور قاسم ؓ۔
حضرت خدیجہ ؓ ہی کے بطن اطہر سے تھے، صرف آپ کے لخت جگرابراہیم ؓ آپ کی لونڈی ماریہ قبطیہ ؓ سے پیدا ہوئے تھے۔
حضرت خدیجہ ؓ واحد عورت ہیں کہ جب وہ ایمان لائیں تو اس وقت ساری زمین میں ان کے گھر کے علاوہ کوئی بیت اسلام نہ تھا۔
حدیث میں ہے:
انھیں جنت میں موتیوں کا گھر دیا جائےگا۔
یہ بھی باب مشاکلت سے ہے، یعنی فعل کی جزا اسی قسم کے فعل سے دی جائے اگرچہ وہ کتنی ہی اشرف واعلیٰ ہو۔
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں خاتون اول کابہت احترام تھا،یہی وجہ ہے کہ آپ نے ان کی موجودگی میں کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی۔
(فتح الباري: 172/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3818]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6277
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں:مجھے کبھی کسی خاتون پر ایسا رشک نہیں آتا تھا جیسا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر آتاتھا،حالانکہ مجھ سے نکاح کرنے سے تین سال قبل وہ فوت ہوچکی تھیں،کیونکہ میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ذکر سنتی تھی،آپ کے ر ب عزوجل نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ ان کو جنت میں(موتیوں کی) شاخون سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیں۔اور بے شک آپ بکری ذبح کرتے،پھر اس(کے پارچوں) کو ان کی سہیلیوں کی طرف بھیج دیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6277]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عورت میں فطرتی اور طبعی طور پر اپنی سوکن کے بارے میں غیرت و حمیت کا جذبہ پایا جاتا ہے اور اگر وہ طبعی حدود کے اندر رہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،
ہاں اگر اس کے نتیجہ میں حسد و بغض اور نفرت پیدا ہو جائے اور شرعی حدود کو پامال کیا جائے تو پھر قابل گرفت ہو گا،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ان کی اولاد اور ان کی خدمات کی بنا پر یاد رکھتے تھے اور ان سے محبت و پیار کی بنا پر ان کی سہیلیوں اور بہن کو بھی یاد رکھتے تھے،
اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خار کھاتی تھیں کہ مجھ جیسی حسین و جمیل،
سوجھ بوجھ رکھنے والی دوشیزہ کے باوجود آپ اسے یاد رکھتے ہیں اور ابھی تک ان کے لیے آپ کے دل میں محبت و پیار کے جذبات ہیں،
جو میری موجودگی میں ختم یا کم از کم کمزور ہونا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6277]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6278
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں،:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے مجھے کسی پر رشک نہیں آتاتھا،سوائے حضرت خدیجۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے،حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں دیکھا تھا۔کہا:اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے:"اس کو خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف بھیجو۔"کہا:میں نے ایک دن آپ کو غصہ دلادیا۔میں نے کہا:خدیجہ؟(آپ انھی کا نام لیتے رہتے ہیں)تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6278]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
خلائل:
خليلة کی جمع ہے اور اصدقاء،
صديقة کی جمع ہے،
دونوں کا معنی سہیلیاں ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت خدیجہ بلا کسی حیل و حجت اور لیت و لعل کے سب سے پہلے اسلام لائیں اور اپنے مال اور اپنی رفاقت سے آپ کی نصرت و حمایت کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں سے اولاد بخشی اور وہ انتہائی باکمال تجربہ کار اور سردوگرم چشیدہ بیوی تھیں اور ایک طویل عرصہ تک ہر طرح سے آپ کی غمگسار رہی تھیں،
اس لیے آپ اس کو یاد رکھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6278]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6280
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کی کسی بیوی پر غیرت نہیں کھائی،جتنی غیرت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر دکھائی،کیونکہ آپ اسے بہت یاد کرتے تھےحالانکہ میں نے اس کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6280]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندہ ازواج میں سے سب سے زیادہ محبت،
حضرت عائشہ سے رکھتے تھے،
اس لیے ان کو کسی اور بیوی پر غیرت نہیں آتی تھی اور اس محبت کی ناز کی بنا پر،
وہ حضرت خدیجہ کے ذکر خیر پر خار کھاتی تھیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6280]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6282
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، خدیحہ ؓ کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ ؓ کا اجازت مانگنا یاد آ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا کہ یا اللہ! ہالہ بنت خویلد۔ مجھے رشک آیا تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا قریش کی بوڑھیوں میں سے سرخ مسوڑھوں والی ایک بڑھیا کو یاد کرتے ہیں (یعنی انتہا کی بڑھیا جس کے ایک دانت بھی نہ رہا ہو نری... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6282]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
شدقين:
باچھیں،
جبڑے،
مقصد یہ تھا انتہائی بوڑھی ہو چکی تھی،
حتی کہ منہ میں دانت بھی نہ رہے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6282]