صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فضل من شهد بدرا:
باب: بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3991
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ، يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَنْ مَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ , فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا , فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ , فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ , فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ , فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ تَجَمَّلْتِ لِلْخُطَّابِ تُرَجِّينَ النِّكَاحَ , فَإِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا، قَالَ لِي: ذَلِكَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ , وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ" فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي". تَابَعَهُ أَصْبَغُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ مَوْلَى بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ، وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ بَدْرًا أَخْبَرَهُ".
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ تم سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے ان کے واقعہ کے متعلق پوچھو کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا تھا تو آپ نے ان کو کیا جواب دیا تھا؟ چنانچہ انہوں نے میرے والد کو اس کے جواب میں لکھا کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ ان کا تعلق بنی عامر بن لوئی سے تھا اور وہ بدر کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ پھر حجۃ الوداع کے موقع پر ان کی وفات ہو گئی تھی اور اس وقت وہ حمل سے تھیں۔ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما کی وفات کے کچھ ہی دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ نفاس کے دن جب وہ گزار چکیں تو نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے انہوں نے اچھے کپڑے پہنے۔ اس وقت بنو عبدالدار کے ایک صحابی ابوالسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے یہاں گئے اور ان سے کہا، میرا خیال ہے کہ تم نے نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے یہ زینت کی ہے۔ کیا نکاح کرنے کا خیال ہے؟ لیکن اللہ کی قسم! جب تک (سعد رضی اللہ عنہ کی وفات پر) چار مہینے اور دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح کے قابل نہیں ہو سکتیں۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ابوالسنابل نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں نے شام ہوتے ہی کپڑے پہنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے بارے میں، میں نے آپ سے مسئلہ معلوم کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں بچہ پیدا ہونے کے بعد عدت سے نکل چکی ہوں اور اگر میں چاہوں تو نکاح کر سکتی ہوں۔ اس روایت کی متابعت اصبغ نے ابن وہب سے کی ہے، ان سے یونس نے بیان کیا اور لیث نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، (انہوں نے بیان کیا کہ) ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے بنو عامر بن لوئی کے غلام محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان نے خبر دی کہ محمد بن ایاس بن بکیر نے انہیں خبر دی اور ان کے والد ایاس بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3991]
حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو خط لکھا کہ وہ حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے اس واقعے کی تفصیلات پوچھیں جو انہیں پیش آیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کیا جواب دیا تھا جب انہوں نے فتویٰ طلب کیا تھا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ بن ارقم نے عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے جواب میں لکھا کہ حضرت سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ان کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا اور وہ بدر کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ان (حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ) کی وفات ہوئی جبکہ وہ (حضرت سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا) اس وقت حاملہ تھیں۔ ان کی وفات کے کچھ دن بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ جب نفاس کے ایام سے فارغ ہوئیں تو نکاح کا پیغام بھیجنے والوں کے لیے انہوں نے اچھے کپڑے زیب تن کیے۔ اس دوران میں قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک شخص حضرت ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: ”میرا خیال ہے کہ نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے تم نے زینت کی ہے؟ کیا نکاح کرنے کا پروگرام ہے؟ اللہ کی قسم! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتیں جب تک (عدتِ وفات کے) چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں۔“ حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابو سنابل رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ بات کی تو میں نے شام ہوتے ہی اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم وضعِ حمل کے ساتھ ہی اپنی عدت پوری کر چکی ہو، اب اگر چاہو تو نکاح کر سکتی ہو۔“ اصبغ نے اس روایت کی متابعت کی ہے۔ انہوں نے اپنی سند بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ محمد بن ایاس بن بکیر نے بتایا ہے کہ ان کے باپ حضرت ایاس بن بکیر رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3991]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3991 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3991
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا باب سے تعلق یہ ہے کہ اس میں سعد بن خولہ کابدری ہونا مذکور ہے۔
لیث بن سعد کے اثرکو امام بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں پورے طور پر بیان کیا ہے۔
یہاں اتنی ہی سند پر اکتفا کیا، کیوں کہ یہاں اتنا بیان مقصود ہے کہ ایاس ؓ بدری تھے۔
اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ حاملہ عورت وضع حمل کے بعد چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔
اس حدیث کا باب سے تعلق یہ ہے کہ اس میں سعد بن خولہ کابدری ہونا مذکور ہے۔
لیث بن سعد کے اثرکو امام بخاری ؒ نے اپنی تاریخ میں پورے طور پر بیان کیا ہے۔
یہاں اتنی ہی سند پر اکتفا کیا، کیوں کہ یہاں اتنا بیان مقصود ہے کہ ایاس ؓ بدری تھے۔
اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ حاملہ عورت وضع حمل کے بعد چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3991]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3991
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں حضرت سعد بن خولہ ؓ کا بدری ہونا مذکورہے نیز حضرت لیث بن سعد ؓ کے اثر کو امام بخاری ؒ نے اپنی تاریخ کبیر میں مکمل تفصیل سے بیان کیا ہے۔
اس مقام پر صرف ایاس بن بکیر ؓ کے بدری ہونے پر اکتفا کیا کیوں کہ اتنا بیان کرنا ہی مقصود تھا۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے اس کے بعد وہ اگرچاہے تو نکاح کر سکتی ہے حضرت عمر ؓ فرماتے تھے۔
اگر حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور اسے غسل دیا جا رہا ہواور ابھی وہ تختہ غسل پر ہو اور عورت بچہ جنم دے دے تو اس کی عدت وفات ختم ہو جاتی ہے اسے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔
(عمدة القاري: 42/12)
1۔
اس حدیث میں حضرت سعد بن خولہ ؓ کا بدری ہونا مذکورہے نیز حضرت لیث بن سعد ؓ کے اثر کو امام بخاری ؒ نے اپنی تاریخ کبیر میں مکمل تفصیل سے بیان کیا ہے۔
اس مقام پر صرف ایاس بن بکیر ؓ کے بدری ہونے پر اکتفا کیا کیوں کہ اتنا بیان کرنا ہی مقصود تھا۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے اس کے بعد وہ اگرچاہے تو نکاح کر سکتی ہے حضرت عمر ؓ فرماتے تھے۔
اگر حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور اسے غسل دیا جا رہا ہواور ابھی وہ تختہ غسل پر ہو اور عورت بچہ جنم دے دے تو اس کی عدت وفات ختم ہو جاتی ہے اسے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔
(عمدة القاري: 42/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3991]
Sahih Bukhari Hadith 3991 in Urdu
عبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي