🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب الشاة التى سمت للنبي صلى الله عليه وسلم بخيبر:
باب: اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4249
رَوَاهُ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس کو عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: Q4249]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4249
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک یہودی عورت کی طرف سے) بکری کے گوشت کا ہدیہ پیش کیا گیا جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4249]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5777
أهديت لرسول الله شاة فيها سم فقال رسول الله اجمعوا لي من كان ها هنا من اليهود فجمعوا له فقال لهم رسول الله إني سائلكم عن شيء فهل أنتم صادقي عنه فقالوا نعم يا أبا القاسم فقال لهم رسول الله صلى الله ع
صحيح البخاري
4249
لما فتحت خيبر أهديت لرسول الله شاة فيها سم
صحيح البخاري
3169
اجمعوا إلي من كان ها هنا من يهود فجمعوا له فقال إني سائلكم عن شيء فهل أنتم صادقي عنه فقالوا نعم قال لهم النبي من أبوكم قالوا فلان فقال كذبتم بل أبوكم فلان قالوا صدقت قال فهل أنتم صادقي عن شيء إن سألت عنه فقالوا نعم يا أبا القاسم وإن كذب
سنن أبي داود
4509
امرأة من اليهود أهدت إلى النبي شاة مسمومة قال فما عرض لها النبي
سنن الدارمي
70
اجمعوا لي من كان ها هنا من اليهود فجمعوا له فقال لهم رسول الله إني سائلكم عن شيء فهل أنتم صادقي عنه قالوا نعم يا أبا القاسم فقال لهم رسول الله من أبوكم قالوا أبونا فلان فقال رسول الله كذبتم بل أبوكم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4249 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4249
حدیث حاشیہ:
زہر بھیجنے والی زینب بنت حارث سلام بن مشکم یہودی کی عورت تھی۔
اس نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند ہے۔
اس نے اسی میں خوب زہر ملایا۔
آپ نے نوالہ چکھ کر تھوک دیا۔
بشربن براءؓ کھاگئے وہ مر گئے دوسرے صحابہ ؓ کو آپ نے منع فرمایا اور بتلادیا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔
بیہقی کی روایت میں ہے کہ آپ نے اس عورت کو بلا کر پوچھا۔
وہ کہنے لگی میں نے یہ اس لیے کیا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو اللہ آپ کو خبر کر دےگا اگر آپ جھوٹے ہیں تو آپ کا مرنا بہتر ہے۔
ابن سعد کی روایت میں ہے جب بشر بن براءؓ زہر کے اثر سے مر گئے تو آپ نے اس عورت کو بشر ؓ کے وارثوں کے حوالہ کردیا اور انہوں نے اس کو قتل کردیا اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ زہر دے کر مار ڈالنا بھی قتل عمد ہے اور اس میں قصاص لازم آتا ہے اور حنفیہ کا رد ہوا جو اسے قتل بالسبب کہتے ہیں اور قصاص کو اس میں ساقط کرتے ہیں۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4249]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4249
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ تالیف قلبی کے لیے ہر پیش کرنے والے کا ہدیہ قبول کر لیتے اور اسے کھابھی لیتے تھے، اس بنا پر فتح خیبر کے بعد سلام بن مشکم یہودی کی بیوی زینب بنت حارث نے آپ کی دعوت کا اہتمام کیا اور گوشت کا جو حصہ آپ کو تمام گوشت سے زیادہ پسندتھا اس میں سخت ترین زہرملا دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لقمہ منہ میں ڈالتے ہی پتہ چل گیا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے لیکن آپ کے ساتھ ایک صحابی حضرت بشربن براء بن معرور ؓ تھے انھوں نے اسے کھایا تو وہ اس کے اثر کی وجہ سے فوراًوفات پا گئے۔
آپ نے اس یہودی عورت کو بلا کر پوچھا تو اس نے کہا:
میں نے آپ کا امتحان لینے کے لیے یہ سنگین اقدام کیا تھا۔
آپ نے اپنے طور پر تو اسے معاف کر دیا لیکن بشربن براء بن معرو ؓ کے قصاص میں اسے قتل کردیا۔
(فتح الباري: 622/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4249]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3169
3169. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری تحفہ بھیجی، جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں جتنے یہودی ہیں ان سب کو اکھٹا کرو۔ وہ سب آپ کے سامنے اکھٹے کیے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات پوچھنے والا ہوں کیا تم سچ سچ بتاؤ گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے؟ انھوں نے کہا: فلاں شخص! آ پ نے فرمایا: تم نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تمہارا باپ فلاں شخص ہے۔ انھوں نے کہا: بلاشبہ آپ سچ کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا اب اگر تم سے کچھ پوچھوں تو سچ بتاؤ گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں ابوالقاسم! اگر ہم نے جھوٹ بولا تو آپ ہمارا جھوٹ پہچان لیں گےجیسا کہ پہلے آپ نے ہمارے باپ کے متعلق ہمارا جھوٹ معلوم کرلیا ہے۔ پھر آپ نے ان سے پوچھا: دوزخی کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم چند روز کے لیے دوزخ میں جائیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3169]
حدیث حاشیہ:
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی عورت زینب بنت حارث نامی کو جس نے زہر ملایا تھا کچھ سزا نہ دی، بلکہ معاف کردیا، مگر جب بشر بن براءصحابی ؓ جنہوں نے اس گوشت میں سے کچھ کھالیا تھا، مرگئے تو آپ نے ان کا قصاص لیا، اور اس عورت کو قتل کرادیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3169]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5777
5777. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی جس میں زہر بھرا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں جتنے یہودی ہیں سب کو ایک جگہ جمع کرو۔ چنانچہ انہیں آپ کے پاس جمع کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے چند باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا تم مجھے صحیح صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے ابو القاسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارا باپ فلاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو، بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے۔ انہوں نے جواب دیا: آپ نے سچ کہا اور درست فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو مجھے سچ سچ بتاؤ گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اے ابوالقاسم! اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ آپ نے ہمارے باپ کے متعلق ہمارا جھوٹ پکڑ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5777]
حدیث حاشیہ:
یہودیوں کا خیال صحیح ہوا کہ اللہ پاک نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زہر سے بذیعہ وحی مطلع فرما دیا مگر ذرا سا آپ چکھ چکے تھے جس کا اثر آخر تک رہا۔
اس سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
اگر ایسا ہوتا تو آپ اسے اپنے ہاتھ نہ لگاتے مگر بعد میں وحی سے معلوم ہوا سچ فرمایا ﴿وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾ (الاعراف: 188)
اگر میں غیب جانتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور کبھی مجھ کو برائی نہ چھو سکتی۔
معلوم ہوا کہ آپ کے لیے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ بالکل باطل ہے۔
دوسری روایت میں یوں ہے کہ وہ عورت کہنے لگی جس نے زہر ملایا تھا کہ آپ نے میرے بھائی، خاوند اور قوم والوں کو قتل کرایا میں نے چاہا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو یہ گوشت خود آپ سے کہہ دے گا اور اگر آپ دنیا دار بادشاہ ہیں تو آپ سے ہم کو راحت مل جائے گی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5777]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3169
3169. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری تحفہ بھیجی، جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں جتنے یہودی ہیں ان سب کو اکھٹا کرو۔ وہ سب آپ کے سامنے اکھٹے کیے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا: میں تم سے ایک بات پوچھنے والا ہوں کیا تم سچ سچ بتاؤ گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے؟ انھوں نے کہا: فلاں شخص! آ پ نے فرمایا: تم نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تمہارا باپ فلاں شخص ہے۔ انھوں نے کہا: بلاشبہ آپ سچ کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اچھا اب اگر تم سے کچھ پوچھوں تو سچ بتاؤ گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں ابوالقاسم! اگر ہم نے جھوٹ بولا تو آپ ہمارا جھوٹ پہچان لیں گےجیسا کہ پہلے آپ نے ہمارے باپ کے متعلق ہمارا جھوٹ معلوم کرلیا ہے۔ پھر آپ نے ان سے پوچھا: دوزخی کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: ہم چند روز کے لیے دوزخ میں جائیں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:3169]
حدیث حاشیہ:

خیبر کے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ ناپاک منصوبہ بنایا اور اسے ایک عورت کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
وہ عورت مرحب یہودی کی بہن تھی جس کانام زینب بنت حارث تھا۔
یہودیوں کی طرف سے یہ غداری تھی کہ انھوں نے ایک یہودیہ کو آلہ کار بنا کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوزہریلا گوشت پیش کیا۔
آپ نے کسی مصلحت کی بنا پر انھیں معاف کردیا۔
ایک روایت کے مطابق ایک صحابی بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس زہریلے گوشت سے فوت ہوگئے تھے تو آپ نے وہ عورت ان کے لواحقین کے حوالے کردی، انھوں نےاسے قصاصاً قتل کردیا۔
(سنن أبي داود، الدیات، حدیث: 4512 و الطبقات الکبریٰ لابن سعد: 202/2)
چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس یہودی عورت کو قتل کرنے کی اجازت مانگی جس نے بکری میں زہرملایاتھا تو آپ نے اجازت نہ دی بلکہ آپ نے معاف کردیا۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5706(2190)
لہذا یہ صحیح ہے کہ اس موقع پر آپ نے اسے معاف کردیا اور بعد میں جب آپ کو علم ہوا کہ بشر اس زہر کی وجہ سے وفات پاگئے ہیں تو قصاصاً اسے قتل کروادیاتھا۔
واللہ أعلم۔

اس حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
ہم کبھی دوزخ میں تمہارے جانشیں نہیں بنیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ گار مسلمان تو جہنم میں جائیں گے لیکن انھیں بالآخر نکال لیا جائے گا، البتہ یہودی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے، یعنی خلود اور عدم خلود کی وجہ سے متفرق ہوجائیں گے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3169]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5777
5777. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری بطور ہدیہ پیش کی گئی جس میں زہر بھرا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں جتنے یہودی ہیں سب کو ایک جگہ جمع کرو۔ چنانچہ انہیں آپ کے پاس جمع کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے چند باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا تم مجھے صحیح صحیح جواب دو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے ابو القاسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارا باپ فلاں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ کہتے ہو، بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے۔ انہوں نے جواب دیا: آپ نے سچ کہا اور درست فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو مجھے سچ سچ بتاؤ گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اے ابوالقاسم! اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ ہمارا جھوٹ پکڑ لیں گے جیسا کہ آپ نے ہمارے باپ کے متعلق ہمارا جھوٹ پکڑ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5777]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہودیوں کا یہ خیال صحیح ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زہر کے متعلق بذریعۂ وحی مطلع کر دیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا گوشت چکھ لیا تھا جس کا اثر آخر دم تک رہا جیسا کہ حضرت عائشہ سے مروی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4428) (2)
بکری کا زہر آلود گوشت پیش کرنے والی سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث تھی۔
اس نے کہا:
آپ نے میرے باپ، خاوند، چچا اور بھائی کو قتل کیا ہے اور میری قوم کو بہت نقصان سے دوچار کیا، اس لیے میں نے چاہا کہ اپنے غصے کی آگ بجھاؤں۔
اگر آپ سچے رسول ہیں تو گوشت بول کر آپ سے کہہ دے گا اور اگر آپ دنیا دار بادشاہ ہیں تو ہمیں آپ سے راحت مل جائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اس وقت بشر بن براء رضی اللہ عنہ تھے جو موقع پر ہی شہید ہو گئے۔
(فتح الباري: 303/10) (3)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ زہر کا اثر انداز ہونا بھی متعدی بیماری کی طرح اللہ تعالیٰ کے اذن پر موقوف ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بداثرات سے محفوظ رہے اور آپ کے صحابی حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ موقع پر ہی جان بحق ہو گئے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5777]