صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب بعث النبى صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔
حدیث نمبر: 4272
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَغَزَوْتُ مَعَ ابْنِ حَارِثَةَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْنَا".
ہم سے ابوعاصم الضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور میں نے ابن حارثہ (یعنی اسامہ رضی اللہ عنہ) کے ساتھ بھی غزوہ کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر امیر بنایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4272]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4273
| غزوت مع النبي سبع غزوات فذكر خيبر والحديبية ويوم حنين ويوم القرد |
صحيح البخاري |
4272
| غزوت مع النبي سبع غزوات وغزوت مع ابن حارثة استعمله علينا |
صحيح البخاري |
4271
| غزوت مع النبي سبع غزوات وخرجت فيما يبعث من البعوث تسع غزوات مرة علينا أبو بكر ومرة علينا أسامة |
صحيح مسلم |
4697
| غزوت مع رسول الله سبع غزوات وخرجت فيما يبعث من البعوث تسع غزوات مرة علينا أبو بكر ومرة علينا أسامة بن زيد |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4272 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4272
حدیث حاشیہ:
یہ اس روایت کے خلاف نہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو جہاد مذکور ہیں۔
شاید سلمہ نے وادی القری اور عمرہ قضا کا سفر بھی جہاد سمجھ لیا اس طرح نو ہو گئے۔
قسطلانی نے کہا یہ حدیث امام بخاری کی پندرہویں ثلاثی حدیث ہے۔
حارثہ حضرت اسامہ کے دادا کا نام ہے۔
(وحیدی)
یہ اس روایت کے خلاف نہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو جہاد مذکور ہیں۔
شاید سلمہ نے وادی القری اور عمرہ قضا کا سفر بھی جہاد سمجھ لیا اس طرح نو ہو گئے۔
قسطلانی نے کہا یہ حدیث امام بخاری کی پندرہویں ثلاثی حدیث ہے۔
حارثہ حضرت اسامہ کے دادا کا نام ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4272]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4271
4271. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں حصہ لیا اور نو ایسے لشکروں میں شرکت کی ہے جنہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا۔ کبھی ہمارے امیر حضرت ابوبکر ؓ ہوتے اور کبھی حضرت اسامہ بن زید ؓ ہوتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4271]
حدیث حاشیہ:
راوی کا مقصد یہ ہے کہ جملہ غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی امیر لشکر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے اکابر کو بنایا ا ور کبھی اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو مگر ہم لوگوں نے کبھی اس بارے میں امیر لشکر کے بڑے چھوٹے ہونے کا خیال نہیں کیا بلکہ فرمان رسالت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔
آپ نے بار بار فرمادیا تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے تو اس کی اطاعت تمہارا فرض ہے۔
راوی کا مقصد یہ ہے کہ جملہ غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی امیر لشکر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے اکابر کو بنایا ا ور کبھی اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو مگر ہم لوگوں نے کبھی اس بارے میں امیر لشکر کے بڑے چھوٹے ہونے کا خیال نہیں کیا بلکہ فرمان رسالت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔
آپ نے بار بار فرمادیا تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے تو اس کی اطاعت تمہارا فرض ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4271]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4273
4273. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات جنگیں لڑی ہیں۔ انہوں نے غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین اور غزوہ ذاتِ قرد کا ذکر کیا۔ (راوی حدیث) یزید بن ابو عبید نے کہا کہ بقی غزوات کے نام میں بھول گیا ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4273]
حدیث حاشیہ:
ان جملہ غزوات کا بیان اسی پارے میں جگہ جگہ مذکور ہوا ہے۔
ذات القرد کا واقعہ پارے کے شروع میں ملاحظہ کیا جائے۔
یہ ان ڈاکوؤں کے خلاف غزوہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیس عدد دودھ دینے والی اونٹنیوں کو بھگا کر لے جارہے تھے۔
جنگ خیبر سے چند روزپیشتر یہ حادثہ پیش آیا تھا۔
مزید جن غزوات کے نام بھول گئے ان سے مراد غزوئہ فتح مکہ غزوئہ طائف اور غزوئہ تبوک ہیں۔
(فتح)
ان جملہ غزوات کا بیان اسی پارے میں جگہ جگہ مذکور ہوا ہے۔
ذات القرد کا واقعہ پارے کے شروع میں ملاحظہ کیا جائے۔
یہ ان ڈاکوؤں کے خلاف غزوہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیس عدد دودھ دینے والی اونٹنیوں کو بھگا کر لے جارہے تھے۔
جنگ خیبر سے چند روزپیشتر یہ حادثہ پیش آیا تھا۔
مزید جن غزوات کے نام بھول گئے ان سے مراد غزوئہ فتح مکہ غزوئہ طائف اور غزوئہ تبوک ہیں۔
(فتح)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4273]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4273
4273. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات جنگیں لڑی ہیں۔ انہوں نے غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین اور غزوہ ذاتِ قرد کا ذکر کیا۔ (راوی حدیث) یزید بن ابو عبید نے کہا کہ بقی غزوات کے نام میں بھول گیا ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4273]
حدیث حاشیہ:
یزید بن ابوعبید حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کا آزاد کرنا غلام ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ جن سات غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین، غزوہ قرد، غزوہ فتح مکہ، غزوہ طائف اور غزوہ تبوک۔
اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ ہے۔
ایک روایت میں نوغزوات کاذکر ہے۔
ممکن ہے کہ ان میں ایک غزوہ وادی القری ہوجو خیبر کے بعد ہوا اور دوسرا عمرۃ القضا ہو، جسے غزوہ شمار کرلیا گیاہو۔
(فتح الباري: 648/7۔
)
اور جن سرایا میں حضرت ابوبکر ؓ امیر تھے ان میں سے سریہ بنو فزارہ اور سریہ بنوکلاب ہے، اسی طرح نوہجری میں حج کے لیے انھیں روانہ کیا تھا، یہ بھی ابوبکر ؓ کی سربراہی میں ہواتھا، اسی طرح حضرت اسامہ ؓ کی سربراہی میں دوسرا یا کاذکر ملتا ہے۔
یہ پانچ سرایا ہیں، باقی چار کو بھی تلاش کیاجاسکتا ہے۔
(فتح الباري: 649/7۔
)
ان سرایامیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی امیرلشکر حضرت ابوبکر ؓ جیسے اکابر کو بنایا اور کبھی حضرت اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو، لیکن کسی کے دل میں امر کا خیال نہیں آیا کہ امیر لشکرچھوٹا یا یا بڑا، بلکہ تمام شرکاء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ذیشان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ا رشاد گرامی تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت بھی تمہارا فرض ہے۔
(صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7142۔
)
یزید بن ابوعبید حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کا آزاد کرنا غلام ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ جن سات غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین، غزوہ قرد، غزوہ فتح مکہ، غزوہ طائف اور غزوہ تبوک۔
اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ ہے۔
ایک روایت میں نوغزوات کاذکر ہے۔
ممکن ہے کہ ان میں ایک غزوہ وادی القری ہوجو خیبر کے بعد ہوا اور دوسرا عمرۃ القضا ہو، جسے غزوہ شمار کرلیا گیاہو۔
(فتح الباري: 648/7۔
)
اور جن سرایا میں حضرت ابوبکر ؓ امیر تھے ان میں سے سریہ بنو فزارہ اور سریہ بنوکلاب ہے، اسی طرح نوہجری میں حج کے لیے انھیں روانہ کیا تھا، یہ بھی ابوبکر ؓ کی سربراہی میں ہواتھا، اسی طرح حضرت اسامہ ؓ کی سربراہی میں دوسرا یا کاذکر ملتا ہے۔
یہ پانچ سرایا ہیں، باقی چار کو بھی تلاش کیاجاسکتا ہے۔
(فتح الباري: 649/7۔
)
ان سرایامیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی امیرلشکر حضرت ابوبکر ؓ جیسے اکابر کو بنایا اور کبھی حضرت اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو، لیکن کسی کے دل میں امر کا خیال نہیں آیا کہ امیر لشکرچھوٹا یا یا بڑا، بلکہ تمام شرکاء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ذیشان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ا رشاد گرامی تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت بھی تمہارا فرض ہے۔
(صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7142۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4273]
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي