🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب بعث النبى صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد إلى الحرقات من جهينة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، فَذَكَرَ: خَيْبَرَ، وَالْحُدَيْبِيَةَ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ، وَيَوْمَ الْقَرَدِ"، قَالَ يَزِيدُ:" وَنَسِيتُ بَقِيَّتَهُمْ".
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن مسعدہ نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوے کئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے غزوہ خیبر ‘ غزوہ حدیبیہ ‘ غزوہ حنین اور غزوہ ذات القرد کا ذکر کیا۔ یزید نے کہا کہ باقی غزووں کے نام میں بھول گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمة بن الأكوع الأسلمي، أبو مسلم، أبو إياس، أبو عامرصحابي
👤←👥يزيد بن أبي عبيد الأسلمي، أبو خالد
Newيزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي
ثقة
👤←👥حماد بن مسعدة التميمي، أبو سعيد
Newحماد بن مسعدة التميمي ← يزيد بن أبي عبيد الأسلمي
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← حماد بن مسعدة التميمي
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4273
غزوت مع النبي سبع غزوات فذكر خيبر والحديبية ويوم حنين ويوم القرد
صحيح البخاري
4272
غزوت مع النبي سبع غزوات وغزوت مع ابن حارثة استعمله علينا
صحيح البخاري
4271
غزوت مع النبي سبع غزوات وخرجت فيما يبعث من البعوث تسع غزوات مرة علينا أبو بكر ومرة علينا أسامة
صحيح مسلم
4697
غزوت مع رسول الله سبع غزوات وخرجت فيما يبعث من البعوث تسع غزوات مرة علينا أبو بكر ومرة علينا أسامة بن زيد
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4273 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4273
حدیث حاشیہ:
ان جملہ غزوات کا بیان اسی پارے میں جگہ جگہ مذکور ہوا ہے۔
ذات القرد کا واقعہ پارے کے شروع میں ملاحظہ کیا جائے۔
یہ ان ڈاکوؤں کے خلاف غزوہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیس عدد دودھ دینے والی اونٹنیوں کو بھگا کر لے جارہے تھے۔
جنگ خیبر سے چند روزپیشتر یہ حادثہ پیش آیا تھا۔
مزید جن غزوات کے نام بھول گئے ان سے مراد غزوئہ فتح مکہ غزوئہ طائف اور غزوئہ تبوک ہیں۔
(فتح)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4273]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4273
حدیث حاشیہ:
یزید بن ابوعبید حضرت سلمہ بن اکوع ؓ کا آزاد کرنا غلام ہے۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ جن سات غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:
غزوہ خیبر، غزوہ حدیبیہ، غزوہ حنین، غزوہ قرد، غزوہ فتح مکہ، غزوہ طائف اور غزوہ تبوک۔
اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ ہے۔
ایک روایت میں نوغزوات کاذکر ہے۔
ممکن ہے کہ ان میں ایک غزوہ وادی القری ہوجو خیبر کے بعد ہوا اور دوسرا عمرۃ القضا ہو، جسے غزوہ شمار کرلیا گیاہو۔
(فتح الباري: 648/7۔
)
اور جن سرایا میں حضرت ابوبکر ؓ امیر تھے ان میں سے سریہ بنو فزارہ اور سریہ بنوکلاب ہے، اسی طرح نوہجری میں حج کے لیے انھیں روانہ کیا تھا، یہ بھی ابوبکر ؓ کی سربراہی میں ہواتھا، اسی طرح حضرت اسامہ ؓ کی سربراہی میں دوسرا یا کاذکر ملتا ہے۔
یہ پانچ سرایا ہیں، باقی چار کو بھی تلاش کیاجاسکتا ہے۔
(فتح الباري: 649/7۔
)
ان سرایامیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی امیرلشکر حضرت ابوبکر ؓ جیسے اکابر کو بنایا اور کبھی حضرت اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو، لیکن کسی کے دل میں امر کا خیال نہیں آیا کہ امیر لشکرچھوٹا یا یا بڑا، بلکہ تمام شرکاء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ذیشان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ا رشاد گرامی تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنادیا جائے تو اس کی اطاعت بھی تمہارا فرض ہے۔
(صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7142۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4273]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4271
4271. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں حصہ لیا اور نو ایسے لشکروں میں شرکت کی ہے جنہیں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا۔ کبھی ہمارے امیر حضرت ابوبکر ؓ ہوتے اور کبھی حضرت اسامہ بن زید ؓ ہوتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4271]
حدیث حاشیہ:
راوی کا مقصد یہ ہے کہ جملہ غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی امیر لشکر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے اکابر کو بنایا ا ور کبھی اسامہ ؓ جیسے نوجوانوں کو مگر ہم لوگوں نے کبھی اس بارے میں امیر لشکر کے بڑے چھوٹے ہونے کا خیال نہیں کیا بلکہ فرمان رسالت کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔
آپ نے بار بار فرمادیا تھا کہ اگر کوئی حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے تو اس کی اطاعت تمہارا فرض ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4271]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4272
4272. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات جنگوں میں شرکت کی ہے۔ اور میں نے ابن حارثہ کے ہمراہ بھی ایک جنگ میں شرکت کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہم پر امیر مقرر کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4272]
حدیث حاشیہ:
یہ اس روایت کے خلاف نہیں جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو جہاد مذکور ہیں۔
شاید سلمہ نے وادی القری اور عمرہ قضا کا سفر بھی جہاد سمجھ لیا اس طرح نو ہو گئے۔
قسطلانی نے کہا یہ حدیث امام بخاری کی پندرہویں ثلاثی حدیث ہے۔
حارثہ حضرت اسامہ کے دادا کا نام ہے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4272]