🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب قوله: {لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے لوگو! ایسی باتیں نبی سے مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں وہ باتیں ناگوار گزریں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4622
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُل: مَنْ أَبِي؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ: تَضِلُّ نَاقَتُهُ، أَيْنَ نَاقَتِي؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا".
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیا، ان سے ابوجویریہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاقاً سوالات کیا کرتے تھے۔ کوئی شخص یوں پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اگر اونٹنی گم ہو جاتی تو وہ یہ پوچھتے کہ میری اونٹنی کہاں ہو گی؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم‏» کہ اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔ یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ کر سنائی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4622]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥حطان بن خفاف الجرمي، أبو الجويرية
Newحطان بن خفاف الجرمي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← حطان بن خفاف الجرمي
ثقة ثبت
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة ثبت
👤←👥الفضل بن سهل الأعرج، أبو العباس
Newالفضل بن سهل الأعرج ← هاشم بن القاسم الليثي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4622
قوم يسألون رسول الله استهزاء فيقول الرجل من أبي ويقول الرجل تضل ناقته أين ناقتي فأنزل الله فيهم هذه الآية يأيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4622 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4622
حدیث حاشیہ:

دراصل منافق لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاق اور استہزاء کے طور پر فضول اور غیر ضروری سوالات کرتے تھے اور سادہ لوح مسلمانوں کو بھی اس قسم کے سوالات کی ترغیب دیتے تھے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے اپنے باپ کے متعلق سوال کر لیا جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
(صحیح البخاري، العلم، حدیث: 93)

یہ سوالات اور احکام دونوں سے متعلق ہوتے تھے چنانچہ بعض روایات میں اس آیت کا سبب نزول حج کے حکم کو بیان کیا گیا ہے۔
(جامع الترمذي، تفسیر القرآن، حدیث: 3055)

بہر حال بے معنی اور فضول سوالات کرنے کی ممانعت ہے کیونکہ ان سے شکوک و شبہات بڑھتے ہیں اور دوسرے احکام میں سختی کا بھی اندیشہ ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے انبیاء سے بکثرت سوالات کرتے تھے۔
اور ان کے موقف سے اختلاف کرتے تھے۔
'' (صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6113۔
(1337)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4622]