🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب: {ما جعل الله من بحيرة ولا سائبة ولا وصيلة ولا حام} :
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ نے نہ بحیرہ کو مقرر کیا ہے، نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4623
وَإِذْ قَالَ اللَّهُ، يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ وَإِذْ هَا هُنَا صِلَةٌ الْمَائِدَةُ أَصْلُهَا مَفْعُولَةٌ كَعِيشَةٍ رَاضِيَةٍ وَتَطْلِيقَةٍ بَائِنَةٍ وَالْمَعْنَى مِيدَ بِهَا صَاحِبُهَا مِنْ خَيْرٍ يُقَالُ مَادَنِي يَمِيدُنِي. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مُتَوَفِّيكَ: مُمِيتُكَ.
‏‏‏‏ «وإذ قال الله» (میں «قال») معنی میں «يقول» کے ہے اور «إذ» یہاں زائد ہے۔ «المائدة» اصل میں «مفعولة» ( «ميمودة») کے معنی میں ہے گو صیغہ فاعل کا ہے، جیسے «عيشة»، «راضية» اور «تطليقة»، «بائنة» میں ہے۔ تو «مائدة» کا معنی «مميده» یعنی خیر اور بھلائی جو کسی کو دی گئی ہے۔ اسی سے «مادني يميدني» ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: «متوفيك» کے معنی میں تجھ کو وفات دینے والا ہوں۔ عیسیٰ علیہ السلام کو آخر زمانہ میں اپنے وقت مقررہ پر موت آئے گی وہ مراد ہو سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: Q4623]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4623
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَالسَّائِبَةُ: كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ لَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ"، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ، وَالْوَصِيلَةُ: النَّاقَةُ الْبِكْرُ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الْإِبِلِ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى، وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِطَوَاغِيتِهِمْ إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ، وَالْحَامِ: فَحْلُ الْإِبِلِ، يَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ، فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَسَمَّوْهُ الْحَامِيَ. وقَالَ لِي أَبُو الْيَمَانِ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،سَمِعْتُ سَعِيدًا، قَالَ: يُخْبِرُهُ بِهَذَا، قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ «بحيرة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک دیا جاتا اور کوئی شخص اس کے دودھ کو دوہنے کا مجاز نہ سمجھا جاتا اور «سائبة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے وہ اپنے دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور اس سے باربرداری و سواری وغیرہ کا کام نہ لیتے۔ سعید راوی نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو جہنم میں گھسیٹ رہا تھا، اس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔ اور «وصيلة» اس جوان اونٹنی کو کہتے تھے جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور پھر دوسری مرتبہ بھی مادہ ہی جنتی، اسے بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور اس درمیان میں کوئی نر بچہ نہ ہوتا۔ اور «حام» وہ نر اونٹ جو مادہ پر شمار سے کئی دفعہ چڑھتا (اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہو جاتے) جب وہ اتنی صحبتیں کر چکتا تو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور بوجھ لادنے سے معاف کر دیتے (نہ سواری کرتے) اس کا نام «حام» رکھتے اور ابوالیمان (حکم بن نافع) نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے سنا، کہا میں نے سعید بن مسیب سے یہی حدیث سنی جو اوپر گزری۔ سعید نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (وہی عمرو بن عامر خزاعی کا قصہ جو اوپر گزرا) اور یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بھی اس حدیث کو ابن شہاب سے روایت کیا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4623]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة مكثر
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← يزيد بن الهاد الليثي
صحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
👤←👥أبو هريرة الدوسي
Newأبو هريرة الدوسي ← الحكم بن نافع البهراني
صحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3520
عمرو بن لحي بن قمعة بن خندف أبو خزاعة
صحيح البخاري
4623
رأيت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار
صحيح البخاري
3521
رأيت عمرو بن عامر بن لحي الخزاعي يجر قصبه في النار وكان أول من سيب السوائب
صحيح مسلم
7193
رأيت عمرو بن لحي بن قمعة بن خندف أبا بني كعب هؤلاء يجر قصبه في النار
صحيح مسلم
7193
رأيت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار وكان أول من سيب السيوب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4623 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4623
حدیث حاشیہ:

عمرو بن خزاعی کے متعلق علامہ عینی ؒ لکھتے ہیں کہ اس کا نام عمرو بن لحی بن قمعہ ہے قبیلہ خزاعہ کے سرداروں سے تھا۔
یہ ان لوگوں سے تھا جو جرہم کےبعد بیت اللہ کے متولی ہوئے تھے۔
یہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراہیم ؑ کے دین کو بدلا اور بتوں کو حجاز میں داخل کیا نیز اس نے چرواہوں کو بتوں کی عبادت کرنے پر ابھارا اور جاہلیت کی رسومات کو ان میں رواج دیا۔
(عمدة القاري: 589/12)

بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو اس طرح مشروع نہیں کیا تھا بلکہ اس نے ہر قسم کی نذر ونیاز اپنے لیے مخصوص کی ہے بتوں کے لیے نذر و نیاز کے یہ طریقے مشرکین نے ایجاد کیے۔
بتوں اور معبودان باطلہ کے نام پر جانور چھوڑنے اور ان کے لیے نذر و نیاز پیش کرنے کا یہ سلسلہ آج بھی مشرکین بلکہ نام نہاد مسلمانوں میں جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اس کی کوئی سند نہیں اتاری۔
یہ سب جاہلوں کا طور طریقہ ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے۔
أعاذنا اللہ منه۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4623]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7193
حضرت سعیدبن المسیب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں بجیرہ وہ جانور ہے۔جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جا تا ہے چنانچہ ان کوکوئی شخص اپنے لیے نہیں دوہتا تھا اور سائبہ وہ جانور ہے، جسے لوگ اپنے معبودان باطلہ کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور ان پر کوئی چیز نہیں لا دی جاتی تھی ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا اور وہ پہلا شخص ہے، جس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7193]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
سيوب،
سائبة کی جمع ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7193]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7193
حضرت سعیدبن المسیب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں بجیرہ وہ جانور ہے۔جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جا تا ہے چنانچہ ان کوکوئی شخص اپنے لیے نہیں دوہتا تھا اور سائبہ وہ جانور ہے، جسے لوگ اپنے معبودان باطلہ کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور ان پر کوئی چیز نہیں لا دی جاتی تھی ابن المسیب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا اور وہ پہلا شخص ہے، جس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7193]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
سيوب،
سائبة کی جمع ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7193]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3521
3521. حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روکا جاتا اور وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی، اس لیے اس کا دودھ کوئی شخص نہیں دوہتا تھا۔ سائبہ وہ اونٹنی ہے جسے وہ اپنے معبودوں کے لیے وقف کرتے، اس پر کوئی بوجھ نہ لادا جاتا اور نہ کوئی اس پر سواری ہی کرتا۔ انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓسے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمروبن عامر بن لحی خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔ یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے عرب میں سائبہ کی رسم کو ایجاد کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3521]
حدیث حاشیہ:
جاہل مسلمانوں میں ایسی بد رسمیں آج بھی مروج ہیں کہ اپنے نام نہاد پیروں اور مرشدوں کے نام پر جانور چھوڑ دیتے ہیں جیسے خواجہ کا بکرا۔
بڑے پیر کے نام کی دیگ۔
پھر ان کے لیے ایسے ہی خاص رسوم مروج ہیں کہ ان کو فلاں کھائے اور فلاں نہ کھائے، یہ سب جہالت اور ضلالت کی باتیں ہیں۔
اللہ پاک ایسے نام نہاد مسلمانوں کو نیک سمجھ عطا کرے کہ وہ کفار کی اس تقلید سے باز آئیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3521]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3521
3521. حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روکا جاتا اور وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی، اس لیے اس کا دودھ کوئی شخص نہیں دوہتا تھا۔ سائبہ وہ اونٹنی ہے جسے وہ اپنے معبودوں کے لیے وقف کرتے، اس پر کوئی بوجھ نہ لادا جاتا اور نہ کوئی اس پر سواری ہی کرتا۔ انھوں نے حضرت ابوہریرہ ؓسے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمروبن عامر بن لحی خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔ یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے عرب میں سائبہ کی رسم کو ایجاد کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3521]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں چند ایسے جانوروں کا ذکر ہے جنھیں مشرک اپنے معبودان باطلہ کی تعظیم کے لیے چھوڑدیتے تھے اور انھیں اپنے لیے حرام کرلیتے تھے۔
قرآن کریم نے اس رسمِ بد کی خوب تردید کی ہے۔
(المائدة:
/103/5)
ہمارے ہاں بھی اس طرح کی بدرسمیں رائج ہیں۔
لوگ اپنے نام نہاد پیروں کے نام پر جانور چھوڑدیتے ہیں کہ یہ خواجہ کا بکرا ہے اور یہ جھولے لعل کی گائیں ہیں، یہ بڑے پیر کی دیگ ہے۔
جب گیارہویں آتی ہے تو لوگ بھینسوں کا دودھ فروخت نہیں کرتے بلکہ بڑے پیر جیلانی کے نام وقف کردیتے ہیں۔
یہ سب جہالت وضلالت اورگمراہی کی باتیں ہیں، اسلام کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اللہ ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھے اور ایسے شرکیہ امور سے بچائے۔
آمین
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3521]