🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب لا تنكح المرأة على عمتها:
باب: اس بیان میں کہ اگر پھوپھی یا خالہ نکاح میں ہو تو اس کی بھتیجی یا بھانجی کو نکاح میں نہیں لایا جا سکتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5108
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا". وَقَالَ دَاوُدُ، وَابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم نے خبر دی، انہیں شعبی نے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی عورت سے نکاح کرنے سے منع کیا تھا جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو۔ اور داؤد بن عون نے شعبی سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5108]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← عامر الشعبي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥داود بن أبي هند القشيري، أبو محمد، أبو بكر
Newداود بن أبي هند القشيري ← عبد الله بن عون المزني
ثقة متقن
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newجابر بن عبد الله الأنصاري ← داود بن أبي هند القشيري
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5108
تنكح المرأة على عمتها أو خالتها
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5108 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5108
حدیث حاشیہ:
ابن منذر نے کہا ان پر علماءکا اجماع ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت بھی ہے کہ دو پھوپھیوں اور خالاؤں میں بھی جمع کرنا مکروہ ہے۔
قسطلانی نے کہا پھوپھی میں دادا کی بہن، ناناکی بہن، ان کے باپ کی بہن، اسی طرح خالہ میں نانی کی بہن، نانی کی ماں سب داخل ہیں اور اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ ان دو عورتوں کا نکاح میں جمع کرنا درست نہیں ہے کہ اگر ان میں سے ایک کو مرد فرض کریں تو دوسری عورت اس کی محرم ہو البتہ اپنی جوروکے ماموں کی بیٹی یاچچا کی بیٹی یا پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کر سکتاہے۔
اسلام کا یہ وہ پرسنل لاء ہے جس پر اسلام کو فخر ہے۔
اس نے اپنے پیروکاروں کے لئے ایک بہترین پرسنل لاءدیا ہے۔
اس کے مقرر کردہ اصول وقوانین قیامت تک کے لئے کسی بھی رد وبدل سے بالا ہیں۔
دنیا میں کتنے ہی انقلابات آئیں نوع انسانی میں کتنا ہی انقلاب برپا ہومگر اسلامی قوانین برابر قائم رہیں گے کسی بھی حکومت کو ان میں دست اندازی کا حق نہیں ہے سچ ہے۔
﴿مایبد ل القول لدی وما انا بظلام للعبید﴾ (ق: 29)
ہاں جو غلط قانون لوگوںنے از خود بنا کر اسلام کے ذمہ لگا دئیے ہیں ان کا بدلنا بے حد ضروری ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5108]