🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب الحلواء والعسل:
باب: میٹھی چیز اور شہد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5432
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كُنْتُ أَلْزَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشِبَعِ بَطْنِي حِينَ لَا آكُلُ الْخَمِيرَ وَلَا أَلْبَسُ الْحَرِيرَ وَلَا يَخْدُمُنِي فُلَانٌ وَلَا فُلَانَةُ وَأُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ وَأَسْتَقْرِئُ الرَّجُلَ الْآيَةَ وَهِيَ مَعِي كَيْ يَنْقَلِبَ بِي فَيُطْعِمَنِي، وَخَيْرُ النَّاسِ لِلْمَسَاكِينِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ فَنَشْتَقُّهَا فَنَلْعَقُ مَا فِيهَا".
ہم سے عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن ابی الفدیک نے خبر دی، انہیں ابن ابی ذئب نے، انہیں مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔ اس وقت میں روٹی نہیں کھاتا تھا۔ نہ ریشم پہنتا تھا، نہ فلاں اور فلانی میری خدمت کرتے تھے (بھوک کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات) میں اپنے پیٹ پر کنکریاں لگا لیتا اور کبھی میں کسی سے کوئی آیت پڑھنے کے لیے کہتا حالانکہ وہ مجھے یاد ہوتی۔ مقصد صرف یہ ہوتا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے اور کھانا کھلا دے اور مسکینوں کے لیے سب سے بہترین شخص جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر ساتھ لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں ہوتا کھلا دیتے تھے۔ کبھی تو ایسا ہوتا کہ گھی کا ڈبہ نکال کر لاتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا۔ ہم اسے پھاڑ کر اس میں جو کچھ لگا ہوتا چاٹ لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5432]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتا تھا۔ اس وقت میں نہ تو خمیری روٹی کھاتا تھا اور نہ ریشم ہی پہنتا تھا اور نہ کوئی لونڈی یا غلام میری خدمت کرتا تھا، میں بھوک کی شدت کی بنا پر اپنا پیٹ سنگریزوں سے ملائے رکھتا تھا، کبھی میں کسی آدمی سے قرآن مجید کی کوئی آیت پوچھتا تھا، حالانکہ وہ مجھے یاد ہوتی تھی، مقصد ہوتا کہ وہ مجھے ساتھ لے جائے اور کھانا کھلائے۔ مسکینوں کے حق میں سب سے بہتر شخص حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، وہ ہمیں (اپنے ہمراہ گھر) لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں ہوتا وہ ہمیں کھلا دیتے۔ کبھی تو ایسا ہوتا کہ وہ ہماری طرف کپی نکال کر لے آتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا، ہم اسے پھاڑ کر جو اس میں لگا ہوتا اسے چاٹ لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأطعمة/حدیث: 5432]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة فقيه فاضل
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← محمد بن أبي ذئب العامري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الرحمن بن شيبة الحزامي، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن شيبة الحزامي ← محمد بن أبي فديك الديلي
مقبول
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5432
لشبع بطني حين لا آكل الخمير ولا ألبس الحرير ولا يخدمني فلان ولا فلانة وألصق بطني بالحصباء وأستقرئ الرجل الآية وهي معي كي ينقلب بي فيطعمني وخير الناس للمساكين جعفر بن أبي طالب ينقلب بنا فيطعمنا ما كان في بيته حتى إن كان ليخرج إلينا العكة ليس فيها شيء فنشتق
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5432 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5432
حدیث حاشیہ:
ابن منیر نے کہا چونکہ اکثر کپیوں میں شہد ہی ہوتا ہے اور ایک طریق میں اس کی صراحت آئی ہے یعنی شہد کی کپی تو باب کی مناسبت حاصل ہو گئی۔
گویا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس طریق کی طرف اشارہ کیا گھی کا ڈبہ بھی مراد ہو سکتا ہے۔
حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دس سال بڑے تھے۔
مہاجرین حبشہ کے سردار رہے۔
سنہ 7 ھ میں مدینہ واپس تشریف لائے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں تھے یہ بھی وہاں پہنچ گئے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو فتح خیبرکی خوشی زیادہ ہے یا جعفر کے آنے کی۔
سنہ 8 ھ میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے۔
تلوار اور نیزے کے نوے سے زیادہ زخم ان کے سامنے کی طرف موجود تھے۔
دونوں بازو جڑ سے کٹ گئے تھے عمر مبارک بوقت شہادت چالیس سال کی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5432]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5432
حدیث حاشیہ:
ابن منیر نے کہا ہے کہ اس وقت اکثر کپیوں میں شہد ہوتا تھا اور ایک روایت میں اس امر کی وضاحت ہے کہ وہ شہد کی کپی تھی، اس طرح یہ حدیث عنوان کے مطابق ہو گئی۔
گویا امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان سے اس طریق کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
(فتح الباري: 691/9)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5432]

Sahih Bukhari Hadith 5432 in Urdu