🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب فضل صلاة الفجر:
باب: نماز فجر کی فضیلت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ"، وَقَالَ ابْنُ رَجَاءٍ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ بِهَذَا، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا، ابوبکر بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں (وقت پر) پڑھیں (فجر اور عصر) تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ابن رجاء نے کہا کہ ہم سے ہمام نے ابوجمرہ سے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں اس حدیث کی خبر دی۔ ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا ابوبکر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پہلی حدیث کی طرح۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 574]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دو ٹھنڈے وقتوں کی نمازوں کو پابندی سے ادا کر دے گا، وہ جنت میں جائے گا۔ اس روایت کو ابن رجاء نے بھی بواسطہ ہمام بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مواقيت الصلاة/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بكر بن أبي موسى الأشعري، أبو بكر
Newأبو بكر بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥نصر بن عمران الضبعي، أبو جمرة
Newنصر بن عمران الضبعي ← أبو بكر بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← نصر بن عمران الضبعي
ثقة
👤←👥حبان بن هلال الباهلي، أبو حبيب
Newحبان بن هلال الباهلي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← حبان بن هلال الباهلي
ثقة ثبت
👤←👥أبو بكر بن أبي موسى الأشعري، أبو بكر
Newأبو بكر بن أبي موسى الأشعري ← إسحاق بن منصور الكوسج
ثقة
👤←👥نصر بن عمران الضبعي، أبو جمرة
Newنصر بن عمران الضبعي ← أبو بكر بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← نصر بن عمران الضبعي
ثقة
👤←👥عبد الله بن رجاء الغداني، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الله بن رجاء الغداني ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسى
Newعبد الله بن قيس الأشعري ← عبد الله بن رجاء الغداني
صحابي
👤←👥أبو بكر بن أبي موسى الأشعري، أبو بكر
Newأبو بكر بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥نصر بن عمران الضبعي، أبو جمرة
Newنصر بن عمران الضبعي ← أبو بكر بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← نصر بن عمران الضبعي
ثقة
👤←👥هدبة بن خالد القيسي، أبو خالد
Newهدبة بن خالد القيسي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
574
من صلى البردين دخل الجنة
صحيح مسلم
1438
من صلى البردين دخل الجنة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 574 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 574
تشریح:
مقصد یہ ہے کہ ان ہر دو نمازوں کا وقت پر پابندی کے ساتھ ادا کیا۔ چونکہ ان اوقات میں اکثر غفلت ہو سکتی ہے اس لیے اس خصوصیت سے ان کا ذکر کیا، عصر کا وقت کاروبار میں انتہائی مشغولیت اور فجر کا وقت میٹھی نیند سونے کا وقت ہے، مگر اللہ والے ان کی خاص طور پر پابندی کرتے ہیں۔ عبداللہ بن قیس، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔ اس تعلیق سے حضرت امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ ابوبکر بن ابی موسیٰ جو اگلی روایت میں مذکور ہیں وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری کے بیٹے ہیں۔ اس تعلیق کو ذہلی نے موصولاً روایت کیا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 574]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:574
حدیث حاشیہ:
(1)
دو ٹھنڈے وقتوں کی نمازوں سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں کیونکہ حدیث جریر ؓ میں قبل از طلوع آفتاب اور قبل از غروب آفتاب کی نمازوں کی پابندی کا ذکر ہے، پھر صحیح مسلم میں عصر اور فجر کی صراحت بھی ہے۔
یہ نمازیں دن کے دونوں طرف واقع ہیں۔
ان کے اوقات میں ہوا بہت خوش گوار ہوتی ہے اور گرمی کا جوش بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
پھر ان دونوں وقتوں میں ایک وقت آرام اور سکون کا ہوتا ہے اور دوسرا وقت کثرت مشاغل کا، اس لیے ان نمازوں کی پابندی پر جنت کی بشارت دی گئی ہے کہ جو ان اوقات میں بھی پابندی کرے گا، وہ دوسرے اوقات میں زیادہ آسانی سے اپنے فرائض بجالائے گا۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو شخص طلوع شمس اور غروب شمس سے پہلے نمازوں کی پابندی کرے گا، وہ کبھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1436(634)
بہر حال امام بخاری ؒ نے ان احادیث سے نماز فجر کی فضیلت کو ثابت کیا ہے۔
(فتح الباري: 71/2)
(2)
امام بخاری ؒ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی حدیث کے متعلق دو شواہد بیان فرماتے ہیں:
٭پہلی تعلیق ابن رجاء کی ہے جو امام بخاری کے شیخ ہیں۔
اسے محمد بن یحییٰ ذہلی نے متصل سند سے بیان کیا ہے۔
٭دوسرا طریق اسحاق بن منصور کا ہے جو حبان بن ہلال کے شاگرد ہیں۔
(فتح الباري: 71/2) (3)
حضرت فضالہ لیثی ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا۔
آپ نے مجھے دیگر تعلیمات کے ساتھ پانچوں نمازوں کو بروقت پابندی سے ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔
میں نے عرض کیا کہ ان اوقات میں مجھے بہت مصروفیت ہوتی ہے، لہٰذاآپ مجھے ایسی جامع باتیں بتائیں جن پر عمل پیرا ہونا کافی ہوجائے تو آپ نے فرمایا:
"عصرین"کی پابندی کریں۔
چونکہ یہ لفظ ہماری زبان میں مستعمل نہیں تھا، اس لیے میں نے عصرین کا مفہوم دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:
اس سے فجر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں۔
(مسند أحمد: 344/4)
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فجر اور عصر کے علاوہ دیگر نمازوں کی ضرورت ہی نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس انداز سے پابند بنانا چاہتے تھے کہ دفعتًا بار خاطر بھی نہ ہو اور کام بھی ہوجائے، اس لیے آپ نے راحت و آرام اورکثرت مشاغل کے وقت نمازوں کی اہمیت بیان فرمائی۔
جب کوئی ان اوقات میں نمازوں کی پابندی کرے گا تو دیگر اوقات میں پابندی کرنا اس کےلیے آسان ہو گا۔
الغرض "بردین" جنھیں دوسری روایت میں"عصرین" کہاگیا ہے، کی پابندی کو دخول جنت میں اس طرح دخل ہےکہ ان اوقات کی پابندی سے دوسرے اوقات میں پابندی آسان ہوجاتی ہے، اس لیے ان کی اہمیت کو بطور خاص بیان کیا گیا ہے۔
والله أعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 574]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1438
ابو بکر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈے وقت کی نمازیں پڑھیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1438]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
صَلَّي الْبَْردَيْنِ:
فجر اور عصر کی نمازیں ٹھنڈے وقت میں ہوتی ہیں،
اس لیے ان کو بردين (ٹھنڈی دو نمازیں)
سے تعبیر کردیا گیا ہے۔
فوائد ومسائل:
ان حدیثوں میں صرف فجر اور عصر کی نماز کی پابندی کرنے پر دوزخ کی آگ سے محفوظ رہنے اور جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی گئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باقی نمازیں نہ بھی پڑھے تو کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ مقصد ہے کہ ان دو نمازوں کی پابندی اور اہتمام کرنے والا یقیناً باقی نمازوں کی بھی پابندی اور حفاظت کرے گا اس لیے ان کے الگ تذکرہ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی یا یہ ان لوگوں کے لیے جنت کی بشارتیں ہے جو اس وقت ایمان لائے جبکہ ابھی پانچ نمازیں فرض نہیں ہوئی تھیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1438]

Sahih Bukhari Hadith 574 in Urdu